امام ابن عساکر اپنی مشہور تصنیف تاریخ دمشق میں ایک روایت بیان کرتے ہیں :

 

وأنبأنا أبو طاهر الأصبهاني أنا نصر بن أحمد بن البطر قالا أنا أبو الحسن محمد بن أحمد بن رزقوية أنا علي بن محمد بن أحمد المصري نا بكر بن سهل نا عبد الله بن يوسف نا ليث نا بكير عن بسر بن سعيد أن سعد بن أبي وقاص، قال:

ما رأيت أحدا بعد عثمان أقضى بحق من صاحب هذا الباب -يعني: معاوية

حضرت سعدبن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں :

میں نے سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر حق کے مطابق فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔

[تاریخ دمشق، جلد ۵۶، ص ۱۶۱]

 

■پہلا راوی : امام ذھبی انکی توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں

السلفي أبو طاهر أحمد بن محمد بن أحمد بن محمد

هو: الإمام، العلامة، المحدث، الحافظ، المفتي، شيخ الإسلام، شرف المعمرين، أبو طاهر أحمد بن محمد بن أحمد بن محمد بن إبراهيم الأصبهاني، الجرواني.

وكان جيد الضبط، كثير البحث عما يشكل عليه.

[سیر اعلام انبلاء، جلد ۲۱، ص۵]

 

■دوسرا راوی : ابن البطر نصر بن أحمد بن عبد الله البغدادي

امام ذھبی انکی توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

الشيخ، المقرئ، الفاضل، مسند العراق، أبو الخطاب نصر بن أحمد بن عبد الله بن البطر البغدادي، البزاز، القارئ.

قال ابن سكرة: شيخ، مستور، ثقة.

ال السمعاني: كان صالحا صدوقا، صحيح السماع،

[سیر اعلام النبلاء، جلد ۱۹، ص ۴۸]

 

■تیسرے راوی : ابن رزقويه محمد بن أحمد بن محمد البغدادي

امام ذھبی انکی توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

الإمام، المحدث المتقن، المعمر، شيخ بغداد، أبو الحسن محمد بن أحمد بن محمد بن أحمد بن رزق بن عبد الله بن يزيد البغدادي، البزاز.

[سیر اعلام النبلاء ، جلد ۱۷، ص ۲۵۸]

 

■چوتھا راوی : المصري أبو الحسن علي بن محمد بن أحمد

امام ذھبی انکی توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

الإمام، المحدث، الرحال، أبو الحسن علي بن محمد بن أحمد بن الحسن البغدادي، الواعظ، المشهور بالمصري لإقامته مدة بمصر.قال أبو بكر الخطيب: كان ثقة، عارفا، جمع حديث الليث، وحديث ابن لهيعة.

وصنف في الزهد كتبا كثيرة.

(سیر اعلام النبلاء، جلد ۱۵، ص ۳۸۱)

 

■پانچویں راوی : بکر بن سھل جنکی تفصیل درج ذیل ہے

بكر بن سهل الدمياطي، أبو محمد.

مولى بنى هاشم.

عن عبد الله ابن يوسف، وكاتب الليث، وطائفة.

وعنه الطحاوي، والأصم، والطبراني، وخلق.

توفى سنة تسع وثمانين ومائتين عن نيف وتسعين سنة.

حمل الناس عنه، وهو مقارب الحال.

قال النسائي: ضعيف.

 

امام ذھبی امام نسائی کی جرح مبہم نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ لوگوں نے اس سے روایات نقل کی ہیں اور یہ مقارب الحال یعنی ثقہ و صدوق راویان کے قریب ہے )

[میزان الاعتدال برقم: ۱۲۸۴]

 

¤مقارب الحدیث یا مقارب الحال ایسا راوی ہوتا ہے جسکا ضبط صدوق یا حسن الحدیث درجے کا ہو اور یہ متواسط طبقہ ہوتا ہے

جیسا کہ امام ذھبی انکے بارے المغنی میں لکھتے ہیں :

 

بكر بن سهل الدمياطي متوسط ضعفه النَّسَائِيّ

بکر بن سھل یہ متواسط (طبقے کے ہیں ) اور نسائی نے تضعیف کی ہے

[المغنی فی الضعفاء برقم:978]

 

تو معلوم ہوا کہ یہ راوی صدوق و حسن الحدیث درجے کا راوی ہے

 

¤امام ابن یونس جو خود مصر کے جید ناقد تھے انہوں نے بھی ان پر کوئی جرح وارد نہیں کی بلکہ کہا کہ ان سے جماعت نے روایت کیا یہے

بكر بن سهل بن إسماعيل بن نافع الدّمياطىّ، مولاهم الهاشمى: يكنى أبا محمد. مولى الحارث بن عبد الرحمن الهاشمى. يروى عن عبد الله بن يوسف، وشعيب بن يحيى، وعن جماعة

[تاریخ ابن یونس برقم:182]

 

¤اسی طرح امام سمعانی فرماتے ہیں کہ یہ مشاہیر محدثین میں سے ایک تھے

وأبو محمد بكر بن سهل بن إسماعيل الدمياطيّ صاحب التفسير وهو من مشاهير المحدثين بدمياط

[الانساب للسمعانی ، جلد۵ ص ۳۷۸]

 

¤امام حاکم نے ان سے متعدد روایات اپنی مستدرک میں لا کر تصحیح کی ہے اور امام ذھبی نے بھی موافقت کی ہے

حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن فراس المالكي الفقيه بمكة حرسها الله تعالى في المسجد الحرام، ثنا بكر بن سهل الدمياطي، الخ۔۔

«هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه»

[التعليق – من تلخيص الذهبي] 8776 – صحيح

 

¤امام ابو نعیم نے بھی ان سے روایات لی ہیں اپنی مستخرج میں

 

حدثنا محمد بن بدر ثنا بكر بن سهل الدمياطي الخ۔۔

[المسند المستخرج على صحيح الإمام مسلم انعیم الاصبھانی برقم: ۱۲۰۳]

 

¤امام بغوی نے انکی روایت کی تصحیح کی ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّالِحِيُّ، أَنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْحِيرِيُّ، نَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ، نَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، الخ۔۔۔

هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ،

[شرح السنة للبغوی برقم حدیث: ۲۴۵۹]

 

¤اسی طرح امام ہیثمی کہتے ہیں کہ نسائی کی تضعیف کے علاوہ باقیوں نے انکی توثیق کی ہے

رواه الطبراني في الكبير، وفيه بكر بن سهل الدمياطي؛ ضعفه النسائي، ووثقه غيره، وبقية رجاله ثقات.

[مجمع الزوائد، برقم:۶۴۷۲]

 

¤امام مقدسی نے بھی انکی روایات کو اپنی المختارہ تصنیف میں تخریج کرتے ہوئے انکی روایت کی تصحیح کی ہے

قَالَ الطَّبَرَانِيُّ وَثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَشْكِيبَ الْكُوفِيُّ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ كِلاهُمَا عَنْ دَاوُدَ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي۔۔۔۔الخ

إِسْنَاده صَحِيح

[الأحاديث المختارة أو المستخرج من الأحاديث المختارة مما لم يخرجه البخاري ومسلم في صحيحيهما امام مقدسی ، برقم : ۱۵۹]

 

《《《تو امام ذھبی کا فیصلہ جمہور محدثین کو مد نظر رکھ کر استقرائی ہے اور جمہور محدثین کے موافق ہے 》》》

 

پس ثابت ہوا بکر بن سھل صدوق اور حسن الحدیث درجے سے بالکل نیچے نہیں

 

■چھٹے راوی :عبداللہ بن یوسف

امام ذھبی توثیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں

عبد الله بن يوسف الكلاعي

الشيخ، الإمام، الحافظ، المتقن، أبو محمد الكلاعي، الدمشقي، ثم التنيسي.

[سیر اعلام النبلاء، جلد ۱۰ ، ص ۳۵۷]

 

■ساتویں راوی : امام لیث

انکے بارے امام ذھبی توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

الليث بن سعد بن عبد الرحمن الفهمي

الإمام، الحافظ، شيخ الإسلام، وعالم الديار

وقال الفضل بن زياد: قال أحمد: ليث كثير العلم، صحيح الحديث

وقال أحمد بن سعد الزهري: سمعت أحمد بن حنبل يقول:

الليث ثقة، ثبت.

وقال أبو داود: سمعت أحمد يقول:ليس في المصريين أصح حديثا من الليث بن سعد،

قال عثمان الدارمي: سمعت يحيى بن معين يقول: الليث أحب إلي من يحيى بن أيوب، ويحيى ثقة.

قلت: فكيف حديثه عن نافع؟

فقال: صالح، ثقة.

[سیر اعلام النبلاء، جلد ۸، ص۱۳۶]

 

■آٹھویں راوی : بکیر بن عبداللہ

انکی توثیق کرتے ہوئے امام ذھبی فرماتے ہیں :

بكير بن عبد الله بن الأشج القرشي المدني

الإمام، الثقة، الحافظ، أبو عبد الله – ويقال: أبو يوسف – القرشي، المدني، ثم المصري، مولى بني مخزوم، أحد الأعلام، وهو والد المحدث مخرمة بن بكير، وأخو يعقوب وعمر.

معدود في صغار التابعين؛

[سیر اعلام النبلاء، جلد۶ ، ص۱۷۰]

 

■نہم راوی : بسر بن سعید

امام ذھبی انکی توثیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں

– بسر بن سعيد المدني مولى بني الحضرمي

الإمام، القدوة، المدني، مولى بني الحضرمي.

حدث عن: عثمان بن عفان، وسعد بن أبي وقاص، وزيد بن ثابت، وأبي هريرة، وطائفة.

حدث عنه: أبو سلمة بن عبد الرحمن، ومحمد بن إبراهيم التيمي، وسالم أبو النضر، وبكير بن عبد الله بن الأشج، وأخوه؛ يعقوب، وزيد بن أسلم، وآخرون.

وثقه: يحيى بن معين، والنسائي.

[سیر اعلام النبلاء، ،جلد۴، ص۵۹۴]

 

■اور دسویں راوی

حضرت سعد بن ابی وقاص وہ صحابی ہیں جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں جنکے بارے مولا علی فرماتے ہیں :

 

‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماں باپ کو کسی کے لیے جمع نہیں کیا (یعنی یوں نہیں فرمایا کہ میرے ماں باپ تجھ پر فدا ہو ں) مگر سعد بن مالک رضی اللہ عنہ (یعنی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن ان سے فرمایا ”تیر مار اے سعد! فدا ہوں تجھ پر ماں باپ میرے۔

[صحیح مسلم ، ۶۲۳۳]

 

اور پھر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ اس دلچسب واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

 

‏‏‏‏ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن ان کے لیے جمع کیا اپنے ماں باپ کو . سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک شخص تھا مشرکوں میں سے جس نے جلا دیا تھا مسلمانوں کو (یعنی بہت مسلمانوں کو قتل کیا تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیر مار اے سعد! فدا ہوں تجھ پر ماں باپ میرے .“ میں نے اس کے لیے ایک تیر نکالا جس میں پیکان نہ تھا وہ اس کی پسلی میں لگا اور گرا اور اس کی شرمگاہ کھل گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر ہنسے یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچلیوں کو دیکھا۔

[صحیح مسلم ، ۶۲۳۷]

 

تو اس پر مجھے کچھ بتانے کی ضرورت نہیں کہ سیدنا امیر معاویہ کا مقام اور انکا انصاف اور سخاوت بقول صحابہ کتنی اعلیٰ تھی

 

¤اس لیے مولا علی کے مقابل جب سیدنا امیر معاویہ آئے تو صحابہ کی ایک جماعت جو سیدنا امیر معاویہ کے ساتھ تھی کیا انکو نہیں معلوم تھا کہ مولا علی کے فضائل کی روایات نبی اکرمﷺ سے مروی ہیں

 

¤اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ :

حضرت علی ؓ سے مروی جو روایات ہیں کہ وہ حق پر ہونگے یہ تمام روایات اس باب سے تعلق رکھتی ہیں کہ جب انکے دور میں فتنے ایسے پیدا ہونگے جیسا کہ خارجی ، اور یہود جنہوں نے مولا علی کو خدا قرار دیا اور مولا علی نے انکو جلایا

تو ان جیسے فتنوں میں مولا علی حق پر ہونگے نہ کہ یہ روایت عمومی ہیں

 

¤جیسا کہ اسکی اصل ایک حدیث میں ملتی ہے جسکو امام حاکم نے اپنی سند صحیح سے بیان کیا ہے :

أخبرنا أحمد بن سهل الفقيه، ببخارى، ثنا سهل بن المتوكل، ثنا أحمد بن يونس، ثنا محمد بن فضيل، عن أبي حيان التيمي، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم لعلي: «أما إنك ستلقى بعدي جهدا» قال: في سلامة من ديني؟ قال: «في سلامة من دينك» هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه “

[التعليق – من تلخيص الذهبي] 4677 – على شرط البخاري ومسلم

[المستدرک الحاکم برقم: ۴۶۷۷]

 

¤حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں :

نبی کریمﷺ نےحضرت علی سے فرمایا تم میرے بعد مشقت میں مبتلا کیے جاو گے

حضرت علی سے عرض کی (یا رسول اللہﷺ ان حالات میں ) میرا ایمان سلامت رہے گا؟

آپﷺنےفرمایا تیرا دین سلامت رہے گا

 

اس کی سند کو امام حاکم نے صحیحین کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے

اور امام ذھبیؒ نے بھی موافقت کی ہے امام حاکم سے

اس سے معلوم ہوا کہ ایسے فتنے جو اسلام کے خلاف ہونگے اور مولا علی جب ایسے فتنوں کا مقابلہ کرینگے تو انکا ایمان سلام ہوگا تو معلوم ہوا کہ مولا علی سے جو عمومی روایات فضائل کی ہیں کہ وہ حق پر ہونگے وہ عمومی نہیں بلکہ ان میں تخصیص ہے کہ وہ لوگ جنکو مولا علی ک*افر اور خ*ارجی قرار دیکر جنگ لڑینگے تو اس میں وہی حق پر ہونگے اور انکا ہی اسلام سلامت ہوگا

جیسا کہ مولا علی کو مش*رک قرار دیا گیا خ*ارجیوں کی طرف سے ان سے جنگ کی مولا علی نے مولا علی کو خدا قرار دیا گیا انکو جلایا مولا علی نے جبکہ یہ اسلام کا نام لینے والے تھے جبکہ مولا علی اور حضرت سیدنا امیر معاویہ کی جو جنگ ہوئی وہ اسلام پر نہیں تھی بلکہ ایک جزوی اجتہادی مسلے پر تھی جس میں دونوں ایک دوسرے کو مومن مسلم مانتے تھے اور مولا علی دونوں طرف کے شہداء پر نماز جنازہ پڑھتے تھے

 

¤تو معلوم ہوا کہ جو روایات مولا علی کے حق پر مبنی ہیں ان میں تخصیص ہے ورنہ صحابہ کی جماعت جو نبی اکرمﷺ سے فیض یافتہ تھے وہ مولا علی کے خلاف کبھی نہ آتے اگر وہ تخصیص نہ مانتے حدیث رسولﷺ میں

 

《تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی سہروردی》