أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَفِرُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ‌ؕ اِنِّىۡ لَـكُمۡ مِّنۡهُ نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ‌ۚ ۞

ترجمہ:

پس تم اللہ کی طرف بھاگو میں تمہارے لیے اس کی طرف سے کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس تم اللہ کی طرف بھاگو میں تمہارے لیے اس کی طرف سے کھلا کلا ڈرانے والا ہوں۔ اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو عبادت کا مستحق نہ بنائو ‘ میں تمہارے لیے اسکی طرف سے کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں۔ اسی طرح ان سے پہلے لوگوں کی طرف جب بھی کوئی رسول آیا تو انہوں نے کہا : یہ جادو گر ہے یا دو یانہ ہے۔ کیا انہوں نے ایک دوسرے کو اس قول کی وصیت کی تھی ؟ (نہیں ! ) بلکہ وہ سرکش لوگ تھے۔ پس (اے رسول مکرم ! ) آپ ان سے عراض کریں آپ پر کوئی ملامت نہیں ہوگی۔ اور آپ نصیحت کرتے رہیں کیونکہ نصیحت کرنا مؤمنین کے لیے مفید ہے۔ (الذریت : ٥٥۔ ٥٠ )

اللہ کی طرف بھاگنے کے محامل

اس سے پہلی آیتوں میں یہ بتایا تھا کہ پچھلی امتوں کے کفار انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کرتے تھے اور ان کے پیغام کو مسترد کرتے تھے ‘ تو اللہ تعالیٰ ان کے اوپر عذاب نازل کرتا تھا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اپنی قوم سے یہ کہیے کہ پس تم اللہ کی طرف بھاگو میں تمہارے لیے اس کی طرف سے کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں ‘ اس آیت کے مفسرین نے حسب ذیل محامل بیان کیے ہیں :

(١) اپنے گناہوں اور ترک عبادت سے اس کی اطاعت اور عبادت کی طرف بھاگو۔

(٢) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اپنے گناہوں سے اس کی طرف توبہ کے لیے بھاگو یا برے کام چھوڑ کر نیک کاموں کی طرف بھاگو۔

(٣) الحسین بن الفضل نے کہا : اللہ سے غافل کرنے والی ہر چیز سے احتراز کر کے اللہ کی طرف آئو۔

(٤) ابوبکر الوراق نے کہا : شیطان کی اطاعت سے بھاگ کر رحمن کی اطاعت کی طرف آئو۔

(٥) جنید بغدادی نے کہا : شیطان گناہ اور گم راہی کی طرف دعوت دیتا ہے تم اس کی دعوت کو مسترد کر کے اللہ کے احکام کی اطاعت کی طرف بھاگو وہ تم کو شیطان کے بہکانے سے محفوظ رکھے گا۔

(٦) ڈوالنون مصری نے کہا : جہل سے علم کی طرف بھاگو اور کفر سے شکر کی طرف بھاگو۔

(٧) عمرو بن عثمان نے کہا : اپنے نفسوں کی خواہشات سے اللہ سبحانہ کے احکام کی طرف بھاگو اور اپنی تدبیر پر اعتماد نہ کرو ‘ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کی طرف بھاگو۔

(٨) سہل بن عبد اللہ تستری نے کہا : اللہ کے ماسوا سے اللہ کی طرف بھاگو ‘ یعنی ہر اس چیز سے بھاگو جو اللہ کی اطاعت اور عبادت سے غافل اور منحرف کرتی ہے اور ہر اس چیز کے ساتھ رہو جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کی طرف راغب اور متوجہ کرتی ہے۔

اور فرمایا : میں تمہارے لیے اس چیز کی طرف سے کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں۔ اس کے بھی دو محمل ہیں : ایک یہ ہے کہ اگر تم کفر اور شرک سے باز نہ آئے تو میں تم کو اللہ کے عذاب سے کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں ‘ دوسرا محمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کفار اور مشرکین کو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی تلوار سے ڈرا رہا ہے کہ اگر تم نے کفر اور شرک کو نہ چھوڑا تو پھر ہمارے نبی تلوار اٹھا کر تمہارے خلاف جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 50