أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فِىۡ رَقٍّ مَّنۡشُوۡرٍۙ ۞

ترجمہ:

جو باریک کھال کے کھلے ہوئے ورق میں ہے

تفسیر:

الطور : ٣ میں فرمایا : جو باریک کھال کے کھلے ہوئے ورق میں ہے۔

” رق “ کے معانی اور مصادیق میں ارباب لغت کی تصریحات

اس آیت میں ” رق “ کا لفظ ہے، اس کے معانی کتب لغت میں حسب ذیل ہیں :

خلیل بن احمد فراہیدی متوفی 175 ھ لکھتے ہیں :

” رق “ کا معنی ہے، صحیفہ بیضاء، یعنی سفید ورق، کیونکہ قرآن مجید میں ہے :” فی رق منشور۔ “ (الطور ٣ ) ۔

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

” رقیق “ کے معنی ہیں : باریک، کہا جاتا ہے :” ثوب رقیق “ یعنی باریک کپڑا ” رقیق القلب “ جس کا دل نرم ہو اور ” رق “ کاغذ کے مشابہ اس چیز کو کہتے ہیں جس پر لکھا جاسکے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” فی رق منشور۔ “ (الطور : ٣)

(المفردات ج ١ ص 265 مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم ابن منظور افریقی متوفی 711 ھ لکھتے ہیں :

” الرق “ اس باریک کھال یا جھلی کو کہتے ہیں جس پر لکھا جاسکے اور صحیفہ بیضاء (سفید کاغذ) کو بھی کہتے ہیں۔

(القاموس ص ٧٨٨ مئوستہ الرسالتہ، بیروت، 1415 ھ لکھتے ہیں :

” رق “ اس چیز کو کہتے ہیں جس پر لکھا جاسکے اور یہ وہ باریک کھال ہے جس پر مصحف کو لکھا گیا اور ” منشور “ کا معنی ہے :

” مبسوط “ یعنی کھلا ہوا، اس کے مصداق میں کئی اقوال ہیں : (١) تورات (٢) لوح محفوظ (٣) مخلوق کے اعمال نامے۔

(معالم التنزیل ج ٤ ص 289، دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1420 ھ)

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی 685 ھ لکھتے ہیں :

” رق “ وہ باریک کھال ہے جس پر لکھا جاسکے اور اس سے کتاب کا استعارہ کیا گیا ہے اور اس میں تنوین تعظیم کے لئے ہے، یعنی یہ بہت عظیم کھال ہے اور اس آیت میں یہ خبر دی ہے کہ یہ لوگوں کے درمیان معروف کتابوں میں سے نہیں ہے۔

(تفسیر بیضاوی مع عنایۃ القاضی ج ٨ ص 65-606 دارالکتب العلمیہ، بیروت)

علامہ شہاب الدین احمد خفا خفا جی حنفی متوفی 1069 ھ اس کی شرح میں لکھتے ہیں :

علامہ بیضاوی نے لکھا ہے کہ اس سے مراد قرآن مجید ہے، ہرچند کہ ” کتاب مسطور “ لفظ عام ہے لیکن یہاں پر عام کا ذکر کر کے اس سے خاص کا ارادہ کیا گیا ہے۔ الخ اور جب اس سے مراد قرآن کریم ہو تو اس کا غیر متعارف ہونا اس لحاظ سے ہے کہ نقوش اور کتابت سے قطع نظریہ کلام انسانوں کے کلام کی جنس سے نہیں ہے۔

(عنایۃ القاضی ج ٨ ص 605-606 دارالکتب العلمیہ بیروت، 1417 ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ زمانہ قدیم میں جن کتابوں اور تحریروں کو عرصہ دراز تک محفوظ رکھنا مقصود ہوتا تھا ان کو ہرن کی باریک کھال پر لکھا جاتا تھا، کیونکہ اس زمانہ میں کاغذ ایجاد نہیں ہوا تھا، یہ کھال خاص طور پر باریک جھلی کی شکل میں تیار کی جاتی تھی اور اس کو عرف عام میں ” رق “ کہا جاتا تھا، اہل کتاب عام طور پر تورات، زبور، انجیل اور دیگر صحف انبیاء کو اسی ” رق “ پر لکھا کرتے تھے، تاکہ یہ کتابیں عرصہ دراز تک محفوظ رہ سکیں، اس آیت میں ” رق منشور “ سے مراد قرآن مجید ہے۔

امام فخر الدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے ” کتاب مسطور “ کی تفسیر میں لکھا ہے : اس سے مراد ” تورات “ ہے یا آسمانی کتاب یا مخلوق کے صحائف اعمال ہیں اور چوتھا قول یہ لکھا ہے کہ اس سے مراد قرآن مجید ہے اور ” رق منشور “ کی تفسیر میں لکھا ہے : یہ کتاب بالکل کھلی ہوئی ہے، اس میں کوئی خفاء نہیں ہے اور ہر شخص اس کا مطالعہ کرسکتا ہے۔

(تفسیر کبیرج ٠١ ص 198-199، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٥١٤١ ھ)

امام رازی نے ” رق منشور “ کی جو تفسیر کی ہے کہ یہ کتاب بالکل کھلی ہوئی ہے اور اس کا ہر شخص مطالعہ کرسکتا ہے، اس سے اسی قول کی تائید ہوتی ہے کہ ” کتاب مسطور فی رق منشور “ سے مراد قرآن مجید ہے۔ نیز عالمہ آلوسی نے لکھا ہے کہ ” کتاب مسطور “ اور ” رق منشور “ میں تنوین تعظیم کے لئے ہے یعنی وہ بہت عظیم کتاب ہے اور اس کا معظم کتاب ہونا اس کا تقاضا کرتا ہے کہ اس سے مراد قرآن یا تورات سے کوئی ایک کتاب مراد ہو۔ (روح المعانی جز ٧٢ ص ٢٤، دارالفکر، بیروت، ٧١٤١ ھ)

میں کہتا ہوں کہ صحیح ترین بات یہی ہے کہ ” کتاب مسطور فی رق منشور “ سے مراد قرآن مجید ہے کیونکہ جو کتاب آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ عظیم ہی اور جس کتاب کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے وہ قرآن مجید ہی ہے، نیز نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حامل قرآن تھے، حامل تورات نہ تھے اور جس کتاب کو آپ مشرکین کے سامنے پیش کر رہے تھے اور جس کتاب کی آپ تعلیم دے رہے تھے وہ تورات یا انجیل نہیں، قرآن کریم ہے، نیز تو رات، انجیل اور زبور تو آپ کے زمانہ میں محرف اور مبدل ہوچکی تھیں، ان کی عظمت کی قسم کھانے کا کیا موقع تھا، اس لئے ہمارے نزدیک سید ابوالاعلیٰ مودودی ٰ کا یہ لکھنا صحیح نہیں ہے :

یہاں کھلی کتاب سے مراد یہی مجموعہ کاتب مقدسہ ہے جو اہل کتاب کے ہاں موجود تھا۔ (تفہیم القرآن ج ٥ ص ٢٦١، لاہور، ٢٨٩١ ئ)

اس وسال کا جواب کہ قرآن مجید حضور کی زندگی میں جمع اور مرتب نہیں ہوا تھا اس لئے … اس کا وجود مشکوک ہے

میرے فاضل دوست مولانا قاری عبدالمجید شرق پوریصحال برسٹل) نے مجھ سے فون پر کہا کہ یہاں پر عیاسئی سکالر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن مجید سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ میں جمع اور مرتب نہیں کیا گیا تھا، یہ پہلے حضرت ابوبکر (رض) کے دور خلافت میں حضرت عمر بن الخطاب (رض) کے مشورے سے جمع کیا گیا، اس وقت بھی یہ مختلف لغات پر پڑھا جاتا تھا، بعد میں حضرت عثمان (رض) کے دور خلافت میں حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کے مشورہ سے صرف اس نسخہ کو باقی رکھا گیا جو لغت قریش پر تھا اور حضرت حفصہ (رض) کے گھر میں ان کے پاس محفوظ تھا اور آج رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کے پاس یہی قرآن مجید موجود ہے، اور اس قرآن مجید کے متعلق یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ وہی قرآن مجید ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوا تھا کیونکہ اس کی جمع اور ترتیب آپ کے وصال کے بعد ہوئی اور اس کی ترویج اور اشاعت تو آپ کی وفات کے بہت بعد حضرت عثمان (رض) کے دور خلافت میں ہوئی ہے۔

قاری عبدالمجید صاحب نے کہا : آپ عنقریب ” فی رق منشور۔ “ (الطور : ٣) کی تفسیر میں پہنچنے والے ہیں، آپ اس اعتراض کا مکمل قلع قمع کریں اور اس آیت کی تفسیر میں سیر حاصل بحث کر کے یہ واضح کریں کہ قرآن کریم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات میں جمع اور مرتب ہوچکا تھا اور اس مسئلہ میں جس قدر شبہات ہیں ان کا ازالہ کریں۔

عیسائیوں کی موجودہ ” انجیل “ کا وجود خود مشکوک ہے

قرآن مجید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں جمع اور مرتب ہوچکا تھا، اس کا ثبوت ہم بعد میں ذکر کریں گے، پہلے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ عیسائی حضرات کے نزدیک چار انجیلیں مستند، معروف اور مسلم ہیں جن کو وہ اللہ تعالیٰ کا نازل شدہ کلام مانتے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا، حالانکہ ان انجیلوں کے مطالعہ سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی وحی اور اس کا کلام ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا، بلکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے شاگردوں نے حضرت (علیہ السلام) کی سوانح، ان کی سیرت اور ان کے داستان حیات لکھی ہے جس میں کہیں کہیں الہامی جملے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح سے یہ فرمایا اور یہ فرمایا، ان میں سے بعض آیات کا قرآن مجید مصدق ہے اور اکثر کا مکذب ہے اور وہ جعلی اور وضعی آیات ہیں اور ان چاروں انجیلوں میں سے کوئی ایک انجیل بھی وہ نہیں ہے جو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کا کلام ہو اور ان میں سے کوئی انجیل بھی وہ انجیل نہیں ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی، یہ جز چند آیات کے۔

مولانا رحمتہ اللہ کیرانوی متویف 1308 ھ نے عربی میں ایکضخیک کتاب کلھی ہے ” اظہار الحق “ جس میں عیسائیت کا رد بلیغ کیا ہے، اس کتاب کا عیسائی علماء اب تک جواب نہیں دے سکے، یہ کتاب اردو ترجمہ اور حواشی کے ساتھ شائع ہوچکی ہے، ہم اس کتاب سے وہ اقتباس پیش کر رہے ہیں جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مذکورہ انجیلوں میں کوئی انجیل بھی وہ نہیں ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی، مولانا کیرانوی لکھتے ہیں :

انا جیل اربعہ کی اصلیت

انجیل متی، لوقا، مرقس

آپ کو عنقریب مقصد ٣، شاہد ٥١ میں معلوم ہوگا کہ قدماء مسیحین سب کے سب اور بیشمار متاخرین اتفاق رائے کے ساتھ کہتے ہیں کہ انجیل متی عبرانی زبان میں تھی، مگر عیسائی فرقوں کی تحریف کی وجہ سے وہ ناپید ہوگئی، موجودہ انجیل صرف اس کا ترجمہ ہے، مگر اس ترجمہ کی اسناد بھی ان کے پاس موجود نہیں، یہاں تک کہ یقینی طور پر اس کے مترجم کا نام بھی آج تک نہیں معلوم ہوسکا، صرف اندازہ اور قیاس سے کہتے ہیں کہ شاید فلاں فلاں اشخاص نے اس کا ترجمہ کیا ہے، جو مخالف کے لئے حجت نہیں ہوسکتا اور اس قسم کے قیاس سے مصنف تک اس کی سند ثابت نہیں کی جاسکتی، مقدمہ کے نمبر ٧ میں آپ کو معلوم ہوچکا ہے کہ ” میزان الحق “ کا مصنف بھی باوجود اپنے پورے تعصب کے اس انجیل کی نسبت کسی سند کے بیان کرنے پر قادر نہ ہوسکا، بلکہ محض قیاس سے یہ کہا کہ ” غالب یہی ہے کہ متی نے اس کو یونانی زبان میں لجھا تھا “ مگر بغیر دلیل اس کا ظن و قیاس مردود ہے، اس لئے یہ ترجمہ واجب التسلیم نہیں ہے، بلکہ قابل رد ہے۔

انسائیکلوپیڈیا میں انجیل متی کے بارے میں یوں کہا گیا ہے کہ :

یہ انجیل ١٤ ء میں عربانی زبان میں اور اس زبان میں جو کلدانی اور سریانی کے درمیان تھی لکھی گی، لیکن موجودہ صرف یونانی ترجمہ اور عبرانی زبان میں جو آج نسخہ موجودہ ہے، وہ اسی یونانی کا ترجمہ ہے۔

وارڈ کیتھولک اپنی کتاب میں کہتا ہے کہ :

جیروم نے اپنے خط میں صاف صاف لکھا ہے کہ بعض علماء متقدمین انجیل مرقس کے آخری باب میں شک کرتے تھے اور بعض متقدمین کو انجیل لوقاب باب ٣٢ کی بعض آیات میں شک تھا اور بعض متقدمین اس انجیل کے پہلے دو بالوں میں شک کرتے تھے، یہ دونوں ابواب فرقہ، مارسیونی ١ ؎ کے نسخہ میں موجود نہیں ہیں۔

محقق نورٹن اپنی کتاب مطبوعہ بوسٹن 1837 ء کے صفحہ پر انجیل مرقس کی نسبت کہتا ہے :

اس انجیل میں ایک عبارت قابل تحقین ہے، جو آیت ٩ سے آخری باب کے ختم تک پائی جاتی ہے اور کریسباخ سے بڑا تعجب ہوتا ہے کہ اس نے اس متن میں عبارت پر شک وتردد کا کوئی علامتی نشان بھی نہیں لگایا ، حالانکہ اس کی شرح میں اس کے الحاقی ہونے کے بیشمار دلائل پیش کرتے ہیں۔

اس کے بعد دلائل نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے :

اس سے ثابت ہوا کہ یہ عبارت مشتبہ ہے، بالخصوص جب کہ ہم کاتبوں کی فطری عادت کو بھی پیش نظر رکھیں کہ وہ عبارت کو خارج کرنے کے مقابلہ میں داخل کرنے کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔

اور کریسباخ فرقہ پروٹسٹنٹ کے معتبر علماء میں سے ہے، اگرچہ نورٹن ان کے نزدیک اس پایہ کا شخص نہیں ہے، مگر کریسباخ کا قول تو ان پر یقیناً حجت ہے۔

انجیل یوحنا مستند نہیں، اس کے دلائل

اسی طرح پوری طرح سند سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ جو انجیل یوحنا کی جانب منسوب ہے، وہ اسی کی تصنیف ہے بلکہ بعض چیزیں ایسی موجود ہیں جو اس کی تردید کرتی ہیں۔

پہلی دلیل

گزشتہ دور میں یعنی مسیح (علیہ السلام) سے قبل اور ان کے بعد تصنیف کا طریقہ وہی تھا جو آج مسلمانوں کے یہاں رائج ہے۔ جیسا کہ آپ کو توریت کے احوال میں باب ٤ کے اندر معلوم ہوچکا ہے اور مزید باب مقصد ٣ شاہد ٨١ میں معلوم ہوگا۔ اسی انیجل سے قطعی یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ یوحنا اپنی آنکھوں دیکھا حال بیان کر رہے ہیں اور جس چیز کی شہادت ظاہر دیتا ہو اس کے خلاف کوئی بات نہیں مانی جاسکتی، تاوقتیکہ اس پر کوئی مضبوط اور قی دلیل لنہ ہو۔

دوسری دلیل

اس انجیل کے باب ١٢ آیت ٤٢ میں اس طرح ہے کہ :

یہ وہی شاگرد ہے جو ان باتوں کی گواہی دیتا ہے اور جس نے ان کو لکھا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ اس کی گواہی سچی ہے۔

یہاں لکھنے والا یوحنا کے حق میں یہ الفاظ کہتا ہے کہ : یہ وہ ش اگر د ہے جو یہ شہادت دے رہا ہے، اور ” اس کی شہادت “ (ضمیر غائب کے ساتھ) اور اس کے حق میں ” نعلم “ (ہم جانتے ہیں) کے الفاظ (صیغہ متکلم کے ساتھ) کا استعمال بتاتا ہے کہ اس کا کاتب یوحنا نہیں ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس دوسرے شخص کو یوحنا کی لکھی ہوئی کچھ چیزیں مل گئیں ہیں، جن کو اپنی طرف سے اس نے کچھ حذف و اضافہ کے ساتھ نقل کیا ہے۔ واللہ اعلم

١۔ عیسائیوں کا ایک فرقہ ہے جو عہد نامہ قدیم کی کتابوں کو واجب اتسلیم قرار نہیں دیتا اور دو خدائوں کا قائل ہے، ایک خالق خیر اور ایک خالق شر، اور عہد قدیم کی کتابیں دوسرے خدا کی بھیجی ہوئی ہے، عہد جدید کے جن ابواب میں عہد قدیم کا تذکرہ ہے اسے یا تو رد کردیتا تھا اس میں تحریف کرتا تھا، اس فرقہ ا بانی مارسیون تھا، اس کی نسبت اسے اسے مارسیونی کہیت ہیں۔ (ملحض ازازالتہ الشکوک ص ٣٩١-٢٩١ بحوالہ لارڈنر وغیرہ) عربی میں اسے مرقیون بھی کہا جاتا ہے۔

تیسری دلیل

دوسری صدی عیسوی میں جب اس انجیل کا انکار کیا گیا کہ یہ یوحنا کہ تصنیف نہیں ہے، اس زمانہ میں آرینوس ١ ؎ جو یوحنا کے شاگرد پولیکارپ ٢ ؎ کا شاگرد ہے، موجود تھا، اس نے منکرین کے جواب میں قطعی یہ نہیں کہا کہ میں نے پولیکارپ سے سنا ہے کہ یہ انجیل یوحنا حوادی کی تصنیف ہے، اب اگر یہ انجیل یوحنا کی تصنیف ہوتی تو پولیکارپ کو اس کا علم ضرور ہوتا اور یہ بات بہت ہی بعید ہے کہ ارینوس پولیکارپ سے مخفی باتیں اور راز کی چیزیں سنتا ہے اور نقل کرتا ہے اور اس عظیم الشان اور اہم معاملہ میں ایک لفظ بھی اپنے استاد سے نہیں سنتا اور یہ احتمال تو اور بھی زیادہ بعید تر ہے کہ اس سنے سنا ہو مگر بھول گیا ہو، کیونکہ اس کی نسبت یہ معلوم ہے کہ اس کے یہاں زبانی روایت کا بڑا اعتبار تھا اور وہ ایسی روایتوں کو بہت محفوظ اور یاد رکھتا تھا، مایوسی بیوس اپنی تاریخ مطبوعہ ٧٤٨١ ء کی کتاب ٥ باب ٠٢ ص ٩١٢ میں آرینوس کا قول زبانی روایتوں کی نسبت یوں نقل کرتا ہے :

میں نے یہ اقوال خدا کے فضل سے بڑے غور سے سنے اور اپنے سینہ میں لکھے، نہ صرف کاغذوں پر اور عرصہ دراز سے میری پرانی عادت ہے کہ میں ہمیشہ ان کو پڑھتا رہتا ہوں۔

اور یہ بات اور بھی زیادہ مستبعد ہوگی کہ اس کو یاد تو تھا لیکن مخالفین کے مقابلہ میں بیان نہیں کیا، اس دلیل سییہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ دوسری صدی عیسوی میں جب مخالفین نے اس انجیل کو یوحنا کی تصنیف ماننے سے انکار کیا اور ان کے مقابلہ میں متقدمین اس کو ثابت نہیں کرسکے تو یہ انکار ہمارے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔

نیز آپ کو عنقریب مغالطہ نمبر ١ کے جواب میں معلوم ہوگا کہ سلوس جو بت پرست مشرک علماء میں سے تھا، اس نے دوسری صدی میں ڈنکے کی چوٹ پر یہ اعلان کیا تھا کہ عیسائیوں نے اپنی انجیلوں میں تین یا چار مرتبہ تحریف کر ڈلای ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ اور ایس تحریف کی کہ مضامین قطعی بدل گئے۔

اسی طرح فاسٹس جو فرقہ مانی کی نر کان ٣ ؎ کا عالم ہے، چوتھی صدی میں پکار کر کہتا ہے :

یہ بات محقق ہے کہ اس عہد جدید کو نہ تو مسیح (علیہ السلام) نے تصنیف کیا ہے اور نہ حواریوں نے، بلکہ ایک گمنام شخص نے تصنیف کر کے حواریوں اور ان کے ساتھیوں کی جانب منسوب کردیا۔

تاکہ لوگ اس کو معتبر سمجھ لیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والوں کو سخت ایذائیں پہنچائیں تاکہ ایسیک تابیں تصنیف کر ڈالیں، جن میں بیشمار اغلاط اور تناقض پائے جاتے ہیں۔

چوتھی دلیل

کیتھوک ہیرلڈ مطبوعہ ٤٤٨١ ء ج ص ٥٠٢ یوں لکھا ہے :

١ ؎ ارینوس (Irenacus) لیون کا مشہور بپ اور عیسائیت کا مسلم الثبوت عالم جو ٠٣١ ء میں پدیا ہوا اور تقریباً ٤٨١ میں وفات پائی، بدعتیوں کے خلاف اس کی کتابیں مشہور ہیں، جن کا لاطینی ترجمہ تاحال پایا جاتا ہے۔ (برٹانیکا) ٢١

٢ ؎ پولیکارب (Polycarp) سمرنہ کا مشہور بشپ جس نے حواریوں کا زمانہ پایا ہے، تقریباً ٩٦ ء میں پیدا ہوا اور ٥٥١ ء میں وفات پائی، بدعتیوں کے خلاف اس کے کارنامے بھی معروف ہیں۔ ٢١ ت

٣ ؎ عیسائیوں کا ایک فرقہ جس کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ خدا جس نے موسیٰ کو توریت دی اور عبرانی پیغمبروں سے ہمکلام ہوا، معاذ اللہ سچا خدا نہیں بلکہ شیاطین میں سے ایک شیطان ہے۔ یہ فرقہ عہد جدید کی کتابوں کو مانتا ہے، مگر ان میں الحاق و تحریف کا قائل ہے اور ان میں سے جو پسند آتا ہے اسے لے لیتا ہے، باقی کو چھوڑ دیتا ہے، مانی کیز اس فرقہ کا بانی ہے۔ (خلاصہ ماخوذ از ازالتہ الشکوک ص ٤٩١ بحوالہ کتاب الاسناد از لارڈنر) ٢١ تقی

اسٹاولن نے اپنی کتاب میں کہا ہے کہ بلاشک و شبہ پوری انجیل یوحنا اسکندریہ کے مدرسہ کے ایک طالبعلم کی تصنیف ہے۔

ملاحظہ کیجیے اسٹاولن کس دلیری کے ساتھ اس انجیل کے یوحنا کے تصنیف نہ ہونے کا اعلان کر رہا ہے اور کس طرح برملا کہہ رہا ہے کہ وہ اسکندریہ کے ایک طالب کا کارنام ہے۔

پانچویں دلیل

محقق برط شنید کہتا ہے کہ :

یہ ساری انجیل، اسی طرح یوحنا کے تمام رسالے، اس کی تصنیف قطعی نہیں ہیں، بلکہ کسی شخص نے ان کو دوسری صدی عیسوی میں لکھا ہے۔

چھٹی دلیل

مشہور محقق کرویٹس کہتا ہے کہ :

اس انجیل میں ٠٢ ابواب تھے، افس اس کے گرجے نے اکیسواں باب، یوحنا کی وفات کے بعد شامل کیا ہے۔

ساتویں دلیل

دوسری صدی عیسوی کے فرقہ و جین اس انجیل کے منکر تھے، اسی طرح یوحنا کی تمام تصانیف کا بھی انکار کرتے تھے۔

آٹھویں دلیل

باب ٢ مقصد ٢ میں آپ کو معلوم ہوگا کہ باب ٨ کی ابتدائی ١١ آیات کا انکار، جمہور علماء نے کیا ہے اور عنقریب آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ آیات سریانی ترجمہ میں موجود نہیں، اب اگر اس انجیل کی کوئی سند موجود ہوتی تو ان کے محقق عملاء اور بعض فرقے وہ بات نہ کہتے جو انہوں نے کہی ہے، لہٰذا سچی بات وہی ہے جو فاضل اسٹاولن اور برطشیند کہتے ہیں۔

نویں دلیل

اناجیل اربعہ کی تالیف کے زمانہ میں کمزور اور واہیات بلا سند روایات کا رواج تھا، اس سے بھی اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ ان کے پاس ان کتابوں کی کوئی سند نہیں ہے۔

ہورن اپنی تفسیر مطبوعہ ٢٢٨١ ج ٤ قسم ٢ کے باب ٢ میں کہتا ہے کہ :

ہم کو مئورخین کنیسہ کی معرفت اناجیل کی تالیف کے زمانہ کے جو حالات پہنچے ہیں وہ ناقص اور غیر معین ہیں، جن سے کسی معین چیز تک رسائی نہیں ہوسکتی اور مشائخ متقدمین نے واہیات روایتوں کی تصدیق کی، اور ان کو قلمبند کر ڈالا، بعد کے آنے والے لوگوں نے ان کی لکھی ہوئی چیزوں کو ان کی تعظیم کی وجہ سے قبول کرلیا اور یہ سچی جھوٹی روایتیں ایک کاتب سے دور سے تک پہنچتی رہیں، مدت مدید گزر جانے کی وجہ سے اب ان کی تنقید اور کھرا کھوٹا معلوم کرنا بھی دشوار ہوگیا۔

پھر اسی جلد میں کہتا ہے کہ :

پہلی انجیل ٧٣، ٨٣ ء، ٣٤ ء یا ٨٤، یا ١٦ ئ، یا ٢٦ ئ، یا ٣٦ ئ، یا ٤٦ ء میں تالیف کی گئی۔ دوسری انجیل ٦٥ ء اور اس کے بعد ٥٦، تک کسی وقت میں اور غالب یہ ہے کہ ٠٦ ء یا ٣٦ ء میں تالیف ہوئی، تیسری انجیل ٢٥ ء یا ٣٦ ء یا ٣٦ ء یا ٤٦ ء میں تالیف کی گئی، چوتھی انجیل ٨٦، یا ٩٦ ء یا ٠٧ ء یا ٩٨ ء یا ٨٩ ء میں تالیف ہوئی۔

خطوط و مشاہدات

اور رسالہ عبرانیہ اور پطرس کا دوسرا رسالہ، اور یوحنا کا دوسرا تیسرا رسالہ، یعقوب (علیہ السلام) کا رسالہ یہود کا رسالہ، مشاہدات یوحنا اور یوحنا کا رسالہ نمبر ١ (کے بعض جملوں) کی نسبت حواریین کی جانب بلا دلیل ہے، اور یہ ٣٦٣ ء تک مشکوک رہے اور بعض مذکورہ جملے مردود اور آج تک جمہور محققین کے نزدیک غلط ہیں، جیسا کہ آپ کو باب ٢ کے مقصد ٢ میں معلوم ہوجائے گا، یہ جملے سریانی ترجمہ میں قطعاً موجود نہیں ہیں، نیز عرب کے تمام گرجوں نے پطرس کے دوسرے رسالہ اور یوحنا کے دونوں رسالوں اور یہودا کے رسالہ اور مشاہدات یوحنا کو رد کیا ہے، اسی طرح ان کو سریانی گرجے ابتداء سے آج تک رد کرتے آئے ہیں جیسا کہ عنقریب آئندہ اقوال میں آپ کو معلوم ہوجائے گا۔

ہورن اپنی تفسیر مطبوعہ ٢٢٨١ ء ج ٢ ص ٦/٢، ٧٠٢ میں کہتا ہے :

سریانی ترجمہ میں پطرس کا دوسرا رسالہ و یہودا کا رسالہ، یوحنا کا دوسرا تیسرا رسالہ اور مشاہدات بوساء انجیل یوحنا کے باب ٨ آیت ٢ لغایۃ ١١ اور یوحنا کے رسالہ نمبر ١ باب ٥، آیت ٧ بھی موجود نہیں ہیں۔

پھر سریانی ترجمہ کے مترجم نے ان چیزوں کو اس سے حذف کیا کہ وہ اس کے نزدیک ثابت اور معتبر نہ تھیں، چناچہ وارڈ کیتھولک اپنی کتاب مطبوعہ ١٤٨١ ء کے ص ٧٣ میں کہتا ہے کہ :

فرقہ پروٹسٹنٹ کے بہت بڑے عالم راجرس نے اپنے فرقہ کے ان بہت سے علماء کا ذکر کیا ہے جنہوں نے مندرجہ ذیل کتابوں کو جھوٹی سمجھ کر کتب مقدسہ سے خارج کردیا :

رسالہ عبرانیہ، یعقوب کا رسالہ، یوحنا کا دورسا تیسرا رسالہ، یہودا کا رسالہ، مشاہدات یوحنا۔

ڈاکٹر پلس فرقہ پروٹسنٹ کا زبردست عالم کہتا ہے کہ :

تمام کاتبیں یوسی بیوس کے عہد تک واجب التسلیم نہیں ہیں۔

اور اس امر پر اصرار کرتا ہے کہ :

یعقوب کا رسالہ، پطرس کا دوسرا رسالہ، یوحنا کا رسالہ نمبر ٢ و ٣، حواریوں کی تصنیفات نہیں ہیں، نیز عبرانی رسالہ عرصہ دراز تک مردود رہا، اسی طرح سریانی گرجوں نے پطرس کے رساسلہ نمبر ٢ یوحنا کے رسالہ نمبر ٢ و ٣ اور یہودا کے رسالہ اور کتاب المشاہدات کو واجب التسلیم نہیں مانا، یہی کچھ حالت عرب کے گرجوں کی تھی، مگر ہم تسلیم کرتے ہیں۔

لارڈنر اپنی تفسیر کیج ٤ ص ٥٧١ میں کہتا ہے کہ :

سرل اور اسی طرح اور شلیم کے گرجے اپنے زمانہ میں کتاب المشاہدات کو تسلیم نہیں کرتے تھے، اس کے علاوہ اس کتاب کا نام بھی اس قانونی فہرست میں نہیں پایا جاتا جو اس نے لکھی تھی۔

پھر ص ٣٢٣ میں کہتا ہے :

مشاہدات یوحنا قدیم سریانی ترجمہ میں موجود نہیں تھی، نہ اس پر بارہی بریوس نے یا قعوب نے کوئی شرح لکھی، ایبڈجسو نے بھی اپنی فہرست میں پطرس کے رسالہ نمبر ٢ اور یوحنا کے رسالہ نمبر ٢ و ٣ اور رسالہ یہود اور مشاہدات یوحنا کو چھوڑ دیا ہے، یہی رائے دوسرے سریانیوں کی ھبی ہے۔

کیتھولک ہیرلڈ مطبوعہ ٤٤٨١ ء ج ٧ ص ٦٠٢ میں ہے کہ :

روزے نے اپنی کتاب کے ص ١٦١ میں لکھا ہے کہ بہت سے پروٹسٹنٹ محققین، کتاب المشاہدات کو واجب التسلیم نہیں مانتے اور پر وبرایوالڈ نے مضبوط اور قوی شہادت سے ثابت کیا ہے کہ یوحنا کی انجیل اور اس کے رسالے اور کتاب المشاہدات ایک مصنف کی تصاینف ہرگز نہیں ہوسکتیں۔

یو سی بیوس اپنی تاریخ کی کاتب نمبر ٧ باب ٥٢ میں کہتا ہے :

دیوفیسیش کہتا ہے کہ بعض متقدمین نے کتاب المشاہدات کو کتب مقدسہ سے خارج کردیا ہی اور اس کے رد میں مبالغہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سب بےمعنی اور جہالت کا بہت بڑا پردہ ہے، اور اس کی نسبت یوحنا حواری کی جانب غلط ہے، اس کا مصنف نہ تو کوئی حواری ہوسکتا ہے، نہ کوئی نیک شخص اور نہ کوئی عیسائی، اس کی نسبت یوحنا کی جانب درحقیقت ایک بد دین اور ملحد شخص سرن تھسن نے کی ہے، مگر میں اس کو کتب مقدسہ سے خارج کرنے کی طاقتن ہیں رکھتا، کیونکہ بہت سے بھائی اس کی تعظیم کرتے ہیں، جہاں تک میری اپنی ذات کا تعلق ہے میں یہ تو تسلیم کرتا ہوں کہ یہ کسی الہامی شخص کی تصنیف ہے، مگر یہ بات آسانی سے نہیں مان سکتا کہ یہ شخص حواری تھا، اور زبدی کا بیٹا، یعقوب کا بھائی اور انجیل کا مصنف تھا، بلکہ اس کے برعکس محاورات ذخیرہ سے پتا چلت ہے کہ یہ حواری ہرگز نہیں ہوسکتا، نہ اس کا مصنف، وہ یوحنا ہوسکتا ہے جس کا ذکر کتاب الاعمال میں کیا گیا ہے، کیونکہ اس کا ایشیا میں آنا ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ یوحنا کوئی دوسری شخصیت ہے جو ایشیا کا باشندہ ہے، شہر آفسوس میں دو قبریں موجود ہیں، جن پر یوحنا کا نام لکھا ہوا ہے، عبارت اور مضمون سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ انجیل والا یوحنا اس کتاب کا مصنف نہیں ہے، کیونکہ انجیل اور اس کے رسالہ کی عبارت یونانیوں کے اسلوب کے مطابق بڑی پاکیزہ ہے، اس میں کچھ مشکل الفاظ کی بھرمار نہیں ہے، اس کے برعکس مشاہدات کی عبارت یونانی محاورات کے قطعی خلاف ہے، اس میں نامانوس اسلوب استعمال کئے گئے ہیں، نیز حواری اپنا نام کہیں بھی ظاہر نہیں کرتا، نہ انجیل میں اور نہ رسالہ عامہ میں بلکہ اپنے کو متکلم یا غائب کے صیغہ سے تعبیر کرتا ہے اور مقصود کو بغیر کسی تمہید کے شروع کرتا ہے، اس کے برعکس اس شخص نے باب ١ میں یسوع مسیح کا وہ مکاشفہ ١ ؎ لکھا ہے جو اللہ نے اس کو اس لئے عطا کی اتھا تاکہ اپنے بندوں کو وہ چیزیں جن کا عنقریب ہونا ضروری ہے، ظاہر کرے اور اس نے اپنے فرشتے کو بھیج کر اس کی معفرت اپنے بندے یوحنا پر ظاہر کی۔

اور چوتھی آیت میں ہے کہ : یوحنا کی جانب سے ان سات کلیسائوں کے نام۔ آیت نمبر ٩ میں ہے : میں یوحنا جو تمہارا بھائی اور یسوع کی مصیبت اور بادشاہی اور صبر میں تمہارا شریک ہوں۔

باب : ٢٢ آیت : ٨ میں لکھتا ہے کہ : میں وہی یوحنا ہوں جو ان باتوں کو سنتا اور دیکھتا تھا۔ ان آیتوں میں لکھنے والے نے حوایروں کے طریقے کے خلاف اپنے نام کو ظاہر کیا ہے۔ ٢ ؎

یہ جواب تو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں کہ اس موقع پر حواری نے اپنے نام کا اظہار اپنی عادت کے خلاف اس لئے کیا ہے تاکہ اپنا تعارفک رائیں، کیونکہ اگر تعارف مقصود ہوتا تو اپنے نام کے ہمراہ کوئی ایسی خصوصیت ذکر کرتا جو اس کو مشخص اور متعین کرتی، مثلاً یہ کہتا کہ یوحنا بن زبدی یا یعقوب کا بھائی یا یوحنا کا بھائی یا یوحنا اپنے رب کا محبوب مرید، وغیرہ وغیرہ، بجائے کسی خصوصی وصف ذکر کرنے کے ایک عام صفت تمہارا بھائی یا تمہارا شریک غم اور شریک صبر ذکر کرتا ہے، ہم یہ بات مذاق کے طور پر نہیں کہہ رہے ہیں، بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم دونوں شخصوں کی عبارت اور طرز کلام میں جو زبردست تفاوت پایا جاتا ہے اس کو واضح کریں۔

١۔ یہ کاتب مکاشفہ باب اول آیت ١ کی عبارت ہے۔ ٢١ تقی

٢ :؎ یعنی یوحنا حواری کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے نام کو ظاہر نہیں کرتے جیسا کہ انجیل یوحنا اور عام خط میں ہے مگر یہ شخص ظاہر کر رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ یوحنا صاحب انجیل نہیں کوئی اور ہے۔ ٢١ تقی

نیز یو سی بیوس نے اپنی تاریخ کتاب ٣، باب ٣ میں تصریح کی ہے :

پطرس کا رسالہ نمبر ١ سچا ہے، البتہ دوسرا رسالہ کسی زمانہ میں بھی کتب مقدسہ میں داخل نہیں ہوسکا، مگر پولس کے ٤١ رسالے ضرور پڑھے جاتے ہیں اور کچھ لوگوں نے رسالہ عبرانیہ کو خارج کردیا ہے۔

پھر کتاب مذکور کے باب ٥٢ میں تصریح کرتا ہے کہ :

اس امر میں لوگوں کا اختلاف ہے کہ رسالہ یعقوب، رسالہ یہود اور پطرس کا رسالہ نمبر ٢ اور یوحنا کا رسالہ نمبر ٢ و ٣ ۃ انجیل والوں کے لکھے ہوئے ہیں یا کسی دوسرے اشخاص کے جو انہی ناموں سے موسوم تھے اور یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ اعمال پولس اور باشتر اور مشاہدات پطرس اور رسالہ برنیا اور وہ کاتب جس کا نام استیتوشن حواریین ہے یہ سب جعلی اور فرضی کتابیں ہیں اور اگر ثابت ہوجائے تو مشاہدات یوحنا کو بھی ایاس ہی شمار کرنا چاہیے۔

نیز اپنی تاریخ کی کتاب ٦، باب ٥٢ میں آریجن کا قول رسالہ عبرانیہ کے حق میں یوں نقل کیا ہے :

وہ حال جو لوگوں کی زبانوں پر مشہور ہے یہ ہے کہ بعض کے نزدیک اس رسالہ کو روم کے بشپ کلیمنٹ ١ ؎ نے لکھا ہے اور کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اس کو لوقا نے ترجمہ کیا ہے۔

ارنیس پشپ لیس جو ٨٧١ ء میں گزرا ہے، اور ہپ پولیئس جو ٠٢٢ ء میں گزرا ہے اور روم کا بڑا پادری نوتیس جو ١٥٢ ء میں گزرا، انہوں نے اس کا اصل سے انکار کیا، ٹرٹولین ٢ ؎ کارتھیج کا بڑا پادری متوفی ٠٠٢ ء کہتا ہے کہ یہ برنیا کا رسالہ ہے۔ روم کے پادری کیس متوفی ٢١٢ ء نے پولس کے رسالوں کو ٣١ شمار کیا ہی اور اس رسالہ کو شمار نہیں کیا، ساٹی پرن، کارتھیج کالاٹھ پادری متوفی ٨٤٢ ء بھی اس رسالہ کا ذکر نہیں کرتا اور سریانی گرجا آج تک پطرس کے رسالہ نمبر ٢ اور یوحنا کے رسالہ نمبر ٢ و ٣ کو تسلیم کرنے سے منکر ہے، اسکالچر کہتا ہے کہ جس شخص نے پطرس کار سالہ نمبر ٢ لکھا، اس نے اپنا وقت ضائع کیا۔

یو سی بیوس اپنی تاریخ کی کتاب ٢ باب ٣٢ میں یعقوب کے رسالہ کی نسبت یوں کہتا ہے :

خیال یہ ہے کہ یہ رسالہ جعلی اور فرضی ہے، مگر بہت سے متقدمین نے اس کا ذکر کیا ہے اور یہی خیال ہمارا یہودا کے رسالہ کی نسبت بھی ہے، مگر بہت سے گرجوں میں اس پر بھی عملدرآمد ہوتا ہے۔

تاریخ بائبل مطبوعہ ٠٥٨١ ء میں کہا گیا ہے کہ :

کروٹیس کہتا ہے کہ یہ رسالہ یعنی یہودا کا رسالہ اس پادری کا ہے جو ایڈرین کے دور سلطنت میں اور شلیم کا پندرہواں پادری تھا۔

اور یو سی بیوس اپنی تاریخ کی کتاب نمبر ٦، باب ٥٢ میں کہتا ہے کہ :

آریجن نے انجیل یوحنا کی شرح کی ج ٥ میں کہا ہے کہ پولیس نے تمام گرجوں کو کچھ نہیں لکھا، اور اگر کسی گرجے کو لکھا ہے تو صرف دو چار سطریں لکھی ہیں۔

آریجن کے قول کے مطابق وہ تمام رسالے جو پولس کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں وہ اس کی تصنیف نہیں ہیں، بلکہ جعلی

١ ؎ Clement of Rome، ، 150 ء تا 22 ء -٢١

٢ ؎ Tertullian یہ پہلا شخص تھا جس نے مسیحی نوشتوں کو عہد جدید کے نام سے موسوم کیا اور اسے عہد عتیق کی کتابوں کی طرح الہامی سطح پر رکھا۔ (بائبل ہینڈ بگ) اور فرضی ہیں، جن کی نسبت اس کی جانب کردی گئی ہے، اور شاید دو چار سطروں کی مقدار ان رسالوں میں بھی پولس کے کلام کی موجود ہوگی، ان اقوال میں غور کرنے کے بعد آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ فاسٹس کا یہ قول کہ :

اس عہد جدید کو نہ مسیح (علیہ السلام) نے تصنیف کیا ہے اور نہ حواریوں نے بلکہ ایک مجہول نام شخص نے تصنیف کر کے حواریوں اور ان کے ساتھیوں کی جانب منسوب کردیا ہے۔

بالکل سچا اور درست ہے، جس میں ذرا بھی شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور اس سلسلہ میں اس کی رائے قطعی صحیح ہے، ادھر آپ کو فصل اول میں یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ یہ چھ رسالے اور کتاب مشاہدات ٣٦٣ ء تک مشکوک اور مردود چلے آتے تھے اور جن کو نائس کی اس بڑی مجلس نے بھی جو ٥٢٣ ء میں منعقد ہوئی تھی تسلیم نہیں کیا تھا، پھر یہ چھ رسالے لوڈیشیا کی مجلس منعقد ٤٦٣ ء نے قبول کی سند دے دی، مگر کتاب مشاہدات اس مجلس میں بھی مردود و مشکوک ہی رہی، جو کارتھیج کی مجلس منعقدہ ٧٩٣ ء میں تسلیم کرلی گئی، ان دونوں مجلسوں کا ان کتابوں کو تسلیم کرلینا حجت نہیں ہوسکتا، اول تو اس لئے کہ ہر مجلس کے علماء نے کتاب یہودیت کو تسلیم کیا تھا اور لوڈشیشیا کی مجلس نے کتاب استیر کے باب ٠١ کی ٠١ آیات کو، اور باب ٠١ کے بعد کے چھ بابوں کو تسلیم کیا تھا اور کارتھیج کی مجلس کے علماء نے کتاب دانش و کاتب طوبیا اور کتاب باردخ اور کتاب پند کلیسا اور کتاب ا لمقابین کو تسلیم کیا تھا اور بعد کی ہونے والی تینوں مجلسوں نے ان کتابوں کی نسبت ان کے فیصلہ کو تسلیم کیا تھا۔

اب اگر ان کا فیصلہ دلیل وبرہان کی بنیاد پر ہوتا تب تو ان سب کو تسلیم کرنا ضروری تھا، اور اگر بلا دلیل تھا جیسا کہ حقیقت ہے تو سب کا رد کرنا ضروری تھا، پھر تعجب ہے کہ فرقہ پروٹسٹنٹ ان کا فیصلہ ان ٦ رسائل اور کتاب المشاہدات کی نسبت تسلیم کرتا ہے اور دوسری کاتبوں کے متعلق ان کے فیصلہ کو رد کردیتا ہے، کتاب یہودیت کی نسبت، جس کے تسلیم کرنے پر تمام مجلسوں کا کامل اتفاق رہا۔

کتاب آستیر کے علاوہ دوسری مردود کتابوں کی نسبت ان کا یہ عذر لنگ کسی طرح مفید نہیں ہوسکتا کہ ان کی اصل معدوم ہوگئی تھی، کیونکہ جیروم کہتا ہے کہ اس کو یہودیت کا اصل نسخہ اور طوبیا کا اصل مسودہ ڈیک زبان میں اور مقابین کی پہلی کتاب کا اصل نسخہ اور کتاب پندکلیسا کی اصل عبرانی زبان ملی ملی ہیں اور ان کتابوں کا ترجمہ ان اصلی کتب سے کیا گیا ہے، اس لئے ان کے لئے لازم ہے کہ ان کتابوں کو تسلیم کرلیں جن کے اصل نسخے جیروم کو دستیاب ہوئے، اسی طرح ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ انجیل متی کو بھی تسلیم نہ کریں، کیونکہ اس کی اصل بھی گم ہوچکی تھی۔

دوسرے اس لئے کہ ہورن کے اقرار سے ثابت ہوچکا ہے کہ ان کے متقدمین کے یہاں روایات کی چھان بین اور تنقید نہیں کی جاتی تھی اور وہ بےاصل اور واہیات روایتوں کو بھی مانتے اور تسلیم کرلیتے تھے اور لکھ لیتے تھے بعد میں آنے والے ان کی پیروی کرتے جاتے، تو غالب یہی ہے کہ ان مجالس کے علماء تک بھی ان کتابوں کی بعض روایات ضرور پہنچی ہوں گی اور انہوں نے صدیوں تک ان کے مردود رہنے کے بعد ان کو تسلیم کرلیا۔

تیسرے اس لئے کہ کتب مقدسہ کی پوزیشن عیسائیوں کی نگاہ میں قوانین و انتظامات ملکی کی طرح ہے، ملاحظہ فرمائیے۔

کتب مقدسہ کی حیثیت قوانین و انتظامات کی سی ہے

(١) یونانی ترجمہ ان کے بزرگوں کے یہاں حواریوں کے زمانہ سے پندرہویں صدی تک معتبر چلا آ رہا تھا اور عبرانی نسخوں کی نسبت ان کا عقیدہ تھا کہ وہ تحریف شدہ ہیں اور صحیح بھی یونانی ہے، اس کے بعد پوزیشن بالکل برعکس ہوجاتی ہے اور جو محرف تھا وہ صحیح اور جو صحیح تھا وہ محرف اور غلط قرار دے دیا جاتا ہے، جس سے ان کے سارے بزرگوں کی جہالت پر روشنی پڑتی ہے۔

(٢) کتاب دانیال انکے اسلاف کے نزدیک یونانی ترجمہ کے موافق معتبر تھی مگر جب آریجن نے اس کے غلط ہونے کا فیصلہ کردیا تو سب نے اس کو چھوڑ کر تھیوڈوشن ١ ؎ کا ترجمہ قبول کرلیا۔

(٣) ارس تیس کا رسالہ سولہویں صدی تک تسلیم شدہ آ رہا تھا، جس پر سترہویں صدی میں اعتراضات کئے گئے اور تمام عملاء پروٹسٹنٹ کے نزدیک وہ جھوٹا قرار پا گیا۔

(٤) لاطینی ترجمہ کیتھولک کے نزدیک معتبر اور پروٹسٹنٹ کے یہاں غیر معتبر اور محرف ہے۔

(٥) پیدئاش کی کاتب صغیر پندرہویں صدی تک معتبر اور صحیح شمار کی جاتی تھی، پھر وہی سہولویں صدی عیسوی میں غلط اور جعلی قرار دے دی گئی۔

(٦) عزراء کی کتاب ٣ کو گریک گرجا آج تک تسلیم کئے جا رہا ہے، اور فرقہ پروٹسٹنٹ اور کیتھولک دونوں نے اس کو مردود بتا رکھا ہے، سلیمان (علیہ السلام) کی زبور کو ان کے اسلاف تسلیم کرتے رہے، اور ان کی کتب مقدسہ میں وہ لکھی جاتی رہی، بلکہ آج تک کو ڈکس اسکندر یانوس ٢ ؎ میں موجود ہے، مگر اس زمانہ میں اس کو جعلی شمار کیا جاتا ہے، ہم کو امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ عیسائی لوگ اپنی تمام کتابوں کے جعلی اور فرضی ہونے کا آہستہ آہستہ اعتراف کرلیں گے۔

اس پورے بیان سے آپ کو واضح ہوگیا ہوگا کہ عیسائیوں کے پاس نہ تو عہد عتیق کی کتابوں کی کوئی سند متصل موجود ہے اور نہ عہد جدید کی کتابوں کی اور جب کبھی اس سلسلہ میں ان پر مضبوط گرفت کی جاتی ہے تو یہ بہانہ بناتے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) نے عہد عتیق کی کتابوں کے سچا ہونے کی شہادت دی تھی، اس شہادت کی صحیح پوزیشن اور پوری حقیقت اشناء اللہ تعالیٰ تفصیل سے آپ کو باب ٢ کے مغالطہ نمبرہ کے جواب میں معلوم ہوجائے گی۔ (اظہار الحق مترجم ج ١ ص 356-372 متکبہ دارالعلوم، کراچی ٣٢٤١ ھ)

قرآن مجید کی مع اور ترتیب پر عیسائیوں کے اعتراض کا جواب

ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں قرآن مجید مسلمانوں کے سینوں میں متفرق طور پر موجود تھا اور بعض مسلمان اس کو لکھ لیتے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کو بتا دیتے تھے کہ یہ آیت فلاں سورت میں لکھو اور یہ آیت فلاں سورت میں لکھو، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پوری زندگی میں قرآن مجید نازل ہوتا رہا۔ مختلف سوالات کے جوابات میں مختلف آیات نازل ہوتی رہتی تھیں، اسی طرح مختلف غزوات میں اور مختلف حالات میں قرآن مجید کی آیات نازل ہوتی رہتی تھیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کو بتا دیتے تھے کہ یہ آیت فلاں سورت کی ہے اور یہ آیت فلاں سورت کی ہے، اس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں پورا قرآن مسلمانوں کے سینوں میں جمع اور مرتب ہوچکا تھا اور جو صحابہ کاتبین وحی تھے وہ پورا قرآن مرتب کر کے لکھ چکے تھے اور انہوں نے اس کو مختلف اشیاء پر لکھا ہوا تھا، ہرن یا کسی اور جانور کی جھلی نما باریک کھال پر لکھا ہوا تھا یا اس زمانہ میں جس نوعیت کا، کاغذ دستیاب تھا اس کاغذ پر لکھا ہوا تھا، لیکن پورا قرآن کسی ایک جلد میں یا مصحف میں اس طرح موجود نہیں تھا جس طرح آج کل ایک جلد میں قرآن کریم موجود ہے، اس طرح پہلی بار حرت ابوبکر (رض) کے دورخلات میں حضرت عمر کے مشورہ سے ایک جلد میں اور ایک مصحف میں قرآن مجید کو مع کیا گیا، اس تفصیل سے یہ معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں قرآن مجید جمع اور مرتب ہوچکا تھا اور اس سے عیسائیوں کا یہ اعترضا ساقط ہوگیا کہ قرآن مجید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں جمع اور مرتب نہیں ہوا تھا بلکہ اس کو آپ کے بعد آپ کے اصحاب نے باہمی مشورہ سے جمع اور مرتب کیا تھا، ہم پہلے اس پر دلائل پیش کریں گے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں قرآن مجید جمع اور مرتب ہوچکا تھا، پھر اس کی وضاحت کریں گے کہ حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں قرآن مجید کو مختلف اجزاء سے اکٹھا کر کے ایک جلد میں اسی ترتیب کے مطابق جمع کیا گیا جو ترتیب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتلائی تھی اور پھر اس کی وضاحت کریں گے کہ حضرت عثمان کے دور خلافت میں قرآن مجید کو صرف لغت قریش پر باقی رکھا گیا۔

١ ؎ تھیوڈوشن (Theodotion) ایک عبرانی عالم تھا جس نے دوسری صدی عیسوی میں مروجہ عبرانی متن سے ایک ترجمہ تیار کیا تھا، یہ ترجمہ ہفتاوی ترجمہ کے بعد پہلا ترجمہ ہے۔ ٢١ ت

٢ ؎ کو ڈکس (Codex) انگریزی میں نسخہ کو کہتے ہیں، اسکندریا نوس کی روایت سے یہ نسخہ کو ڈکس اسکندریہ کہلاتا ہے اور برطانیہ کے عجائب گھر میں موجود ہے۔ (ہماری کتب مقدسہ ص 34-35)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی وفات سے پہلے مکمل اور مترتب قرآن مجید حفظ ہوچکا تھا

اب ہم وہ احادیث پیش کر رہے ہیں جن میں یہ تصریح ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات مبارکہ میں قرآن جمع اور مرتب ہوچکا تھا :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام لوگوں سے زیادہ جواد تھے اور آپ رمضان کے مہینہ میں زیادہ جواد ہوتے تھے، جب آپ سے حضرت جبریل ملاقات کرتے تھے اور حضرت جبریل آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملاقات کرتے تھے اور آپ سے قرآن مجید کا دور کرتے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضرور بارش برسانے والی ہوائوں سے زیادہ جواد ہوتے تھے۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث :6-1902-3220-3554-4997 سنن نسائی رقم الحدیث :2095 صحیح مسلم رقم الحدیث :3308)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک سال میں جتنا قرآن نازل ہوتا تھا آپ اس کا رمضان کی ہر رات میں حضرت جبریل (علیہ السلام) سے دور کیا کرتے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ اس سال نازل ہونے والا تمام قرآن آپ کے سینہ مبارکہ میں جمع اور مرتبہ وتا تھا اور جس سال آپ کا وصال ہوا، اس سال تمام قرآن آپ کے سینہ میں جمع اور مرتب ہوچکا تھا۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ (علیہا السلام) سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سرگوشی کرتے ہوئے فرمایا، بیشک جبریل ہر سال مجھ سے ایک مرتبہ پورے قرآن کا دور کرتے تھے اور اس سال انہوں نے مجھ سے دو مرتبہ پورے قرآن کا دور کیا ہے اور اس سے میں یہی گمان کرتا ہوں کہ اب میری وفات ہونے والی ہے۔

(صحیح بخاری تعلیقاً کتاب فضائل القرآن، باب : ٧)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت جبریل ہر سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک بار قرآن مجید کا دور کرتے تھے اور جس سال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوا انہوں نے آپ سے دو مرتبہ قرآن مجید کا دور کیا اور آپ ہر سال دس دن کا اعتکاف کرتے تھے اور جس سال آپ کا وصال ہوا اس سال آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :4998)

حضرت جبریل کے ساتھ قرآن مجید کے دور کرنے کا معنی یہ ہے کہ ایک امرتبہ حضرت جبریل پورا نازل شدہ قرآن مجید پڑھتے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو سنتے اور دوسری بار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک نازل شدہ پورا قرآن مجید پڑھتے اور حضرت جبریل اس کو سنتے، اور جس سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوا اس سال رمضان میں مکمل قرآن نازل ہوچکا تھا، سوا ایک آیت کے وہ یوم عرفہ کو نازل ہوئی :” الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً ط “ (المائدہ : ٣) اور ایک قول یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات سے چند (تین، سات یا نو) دن پہلے یہ آیت نازل ہوئی :” واتقوا یوماً ترجعون فیہ الی اللہ “ (البقرہ : ١٨٢) ۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ٣ ص ٠٤٣ )

بہرحال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں جو آخری رمضان آیا اس میں آپ کے سینہ میں مکمل قرآن مجید جمع اور مرتب ہوچکا تھا، سوا ایک یا دو آیتوں کے۔

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٢٥٨ ھ لکھتے ہیں :

جو حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن مجید کی ترتیب تو قیفی ہے، وہ یہ ہے :

حضرت اوس بن حذیفہ ثقفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ثقیف کے اس وفد میں حاضر تھا جس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا، آپ نے ہمیں اپنے ایک خیمہ میں ٹھہرایا اور آپ اپنے گھروں سے مسجد میں آتے جاتے وقت ہم سے ملاقات کرتے تھے (الی قولہ) ایک رات آپ کافی دیر تک ہمارے پاس نہیں آئے، ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ آپ کو ہم سے ملنے میں کیوں دیر ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا : مجھے قرآن مجید کی حزب (قرآن مجید کی تلاوت کا مقرر کیا ہوا حصہ) کو مکمل کرنے کی وجہ سے تاخیر ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا : مجھے قرآن مجید کی حزب (قرآن مجید کی تلاوت کا مقرر کیا ہوا حصہ) کو مکمل کرنے کی وجہ سے تاخیر ہوگئی، سو میں نے ارادہ کیا جب تک میں اس حزب کو مکمل نہ کرلوں گھر سے نہ نکلوں، حضرت اوس بن حذیفہ نے کہا، پھر ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب سے صبح تک باتیں کرتے رہے، ہم نے پوچھا : آپ لوگ قرآن مجید کی حزب کس طرح مقرر کرتے ہیں ؟ انہوں نے کہا، ہم تین سورتوں کو حزبقرار دیتے ہیں اور پانچ سورتوں کو اور سات سورتوں کو اور نو سورتوں کو اور گیارہ سورتوں کو اور تیرہ سورتوں کو اور مفصل کی حزب سورة ق سے لے کر ختم قرآن تک ہے۔

(مسند احمد ج ٤ ص ٩ طبع قدیم۔ ج ٦٢ ص 88-89 رقم الحدیث : ٦٦١٦١ طبع جدید، ٩١٤١ ھ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١ ص ٢٠٥-١٠٥ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٩٣١، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٥٤٣١ الاحادو المثانی رقم الحدیث : ٣٣٥١ مشکل الاثار رقم الحدیث : ١٧٣١ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٩٩٥)

حافظا بن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ یہ حدیث اس پر دلیل ہے کہ ہمارے پاس جو قرآن مجید ہے اس میں سورتوں کی وہی ترتیب ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں تھی اور حضرت اوس کی حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ مفصل سورة ق سے لے کر آخر قرآن تک ہے۔ (فتح الباری ج ٠١ ص ١٥، دارالفکر، بیروت، ٠٢٤١ ھ)

نیز حفاظ ابن حجر عسقلانی نے آخری رمضان میں دو بار قرآن مجید کا دور کرنے (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٩٩٤) کی شرح میں لکھتے ہیں :

آخری رمضان میں مکمل قرآن نازل ہوچکا تھا ماسوا ان آیتوں کے جو اس رمضان کے بعد نازل ہوئیں اور ان میں سورة مائدہ کی وہ آیت ہے جو یوم عرفہ کے دن نازل ہوئی :” الیوم اکملت لکم دینکم “ (المائدہ : ٣) اور یہ آیات بہت کم ہیں اس لئے ان کا دور نہیں کیا گیا۔ (فتح الباری ج ٠١ ص ٣٥، دارالفکر، بیروت، ٠٢٤١ ھ)

صحابہ کرام کو بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں مکمل اور مترتب قرآن مجید حفظ ہوچکا تھا

ان حدیثوں میں یہ دلیل ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں مکمل قرآن جمع اور مرتب ہ چکا تھا اور اسی کے موافق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہ کثرت اصحاب کے سینوں اور ان کے مختلف صحیفوں میں قرآن مجید جمع اور مترب تھا، اگرچہ کسی کے پاس یہ مجموعہ ایک جلد میں یک جا نہیں تھا۔ حدیث میں ہے :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ہمیشہ اس سے محبت کرتا ہوں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چار آدمیوں سے قرآن حاصل کرو (١) عبداللہ بن مسعود (٢) سالم (٣) معاذ (٤) ابی بن کعب۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٩٩٩٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٦٤٢، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٠١٨٣، سن النسائی رقم الحدیث : ٦٩٩٧)

مسروق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، کتاب اللہ کی کوئی سورت نازل نہیں ہوئی مگر میں اس کے متعلق جانتا ہوں کہ وہ کہاں نازل ہوئی اور کتاب اللہ کی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی مگر میں اس کے متعلق جانتا ہوں کہ وہ کس کے متعلق نازل ہوئی ہے اور اگر مجھے کسی کے متعلق یہ علم ہوتا کہ وہ مجھ سے زیادہ کتاب اللہ کو جاننے والا ہے تو میں ضرور اس تک پہنچتا خواہ مجھے اونٹ پر سوار ہو کر اس تک پہنچنا پڑتا۔ (صحیح الخباری رقم الدیث : ٢٠٠٥ صحیح مسلمرقم الحدیث : ٣٦٤٢ )

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک (رض) سے سوال کیا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں کتنے لوگوں نے قرآن مجید کو جمع کیا تھا حضرت انس نے بتایا : چار آدمیوں نے اور ان سب کا تعلق انصار سے تھا (ۃ) حضرت ابی بن کعب (٢) حضرت معاذ بن جبل (٣) حضرت زید بن ثابت (٤) اور حضرت ابو زید۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٠٠٥ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٦٤٢ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٤٩٧٤ سنن النسائی رقم الحدیث : ٠٠٠٨)

حضرت انس (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں صرف چار صحابہ کا جو ذکر کیا ہے یہ ان کے علم کے اعتبار سے ہے ورنہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں قرآن مجید جمع کرنے والے صحابہ کی تعداد بہت زیادہ ہے جیسا کہ عنقریب واضح ہوگا۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو چار صحابہ کے سوا اور کسی نے قرآن مجید کو جمع نہیں کیا تھا وہ چار یہ ہیں : (١) حضرت ابوالدرداء (٢) حضرت معاذ بن جبل (٣) حضرت زید بن ثابت (٤) اور حضرت ابوزید، حضرت انس نے کہا، ہم ان ہی کے علوم کے وارث ہیں۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٠٠٥، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٦٤٢، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٤٩٧٤)

حضرت انس نے پہلی روایت میں حضرت ابوالدرداء کی جگہ حضتر ابی بن کعب کا ذکر کیا ہے۔

حضرت انس کنے عہد رسالت میں صرف چار صحابہ کے حافظ قرآن ہونے کا ذکر کیا ہے، اس … کا جواب

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٢٥٨ ء لکھتے ہیں ،

حضرت انس (رض) نے از راہ فخر کہا کہ انصار کے قبیلہ اوس کے چار افراد نے قرآن مجید کو جمع کیا تھا اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اور بہت صحابہ نے قرآن مجید کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زگندی میں جمع کیا تھا تو حضرت انس (رض) نے صرف قبیلہ اوس کے چار صحابہ کا ذکر کیوں کیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت انس کی مراد یہ تھی کہ قبیلہ اوس میں سے صرف چار صحابہ نے قرآن مجید جمع کیا تھا، ان کا مطلب یہ نہیں تھا کہ کل صحابہ بہ شمول مہاجرین و انصار میں سے صرف چار صحابہ نے قرآن مجید جمع کیا تھا اور اس پر قرینہ یہ ہے کہ انہوں نے قبیلہ اوس پر فخر کرتے ہوئے یہ بات کہی تھی۔ قاضی ابوبکر الباقلانی اور دیگر علماء نے حضرت انس کی حدیث کے اور جوابات بھی ذکر کئے ہیں، جو درج ذل ہیں :

(١) حضرت انس نے جو کہا ہے کہ چار صحابہ نے قرآن مجید کو جمع کیا تھا ان کے قول میں مفہوم مخلاف معتبر نہیں ہے اور اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ صحابہ میں سے اور کسی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں قرآن مجید کو جمع نہیں کیا۔

(٢) حضرت انس کی مراد یہ تھی کہ اور کسی نے جمیع وجوہ سے قرآن مجید کو جمع نہیں کیا حتیٰ کہ اس میں آیات کی تمام قرأت کا بھی ذکر کیا ہو۔

(٣) ان چار کے عالوہ اور کسی نے اتنی جامعیت سے جمع نہیں کیا کہ ان آیات کا بھی ذکر کیا ہو جن کی تلاوت منسوخ ہوچکی ہے اور ان آیات کا بھی ذکر کیا ہو جن کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی، اور یہ جواب پہلے جواب کے قریب ہے۔

(٤) حضرت انس کی مراد یہ تھی کہ ان چار نے بغیر کسی واسطے کے بہ راست رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے سن کر قرآن مجید جمع کیا، اس کے برخلاف قرآن مجید کو جمع کرنے والے دور سے صحابہ نے بعض آیات کو آپ سے بلاواسطہ سنا اور بعض آیات کو بالواسطہ سنا۔ (میں کہتا ہوں کہ قبیلہ اوس سے وابستہ صحابہ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں آپ سے بلا واسطہ قرآن سنا ہوگا لیکن ہجرت سے پہلے مکہ میں جو سورتیں نازل ہوئیں ان کو تو انہوں نے آپ سے بلاواسطہ نہیں سنا تھا۔ سعیدی غفرلہ)

(٥) یہ چار صحابہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات اور آپ سے حصول تعلیم کے در پے تھے اس لئے یہ مشہور ہوگئے اور دوسرے وہ صحابہ جنہوں نے آپ کی زندگی میں قرآن مجید جمع کیا تھا ان کا حال دوسرے سے مخفی رہا، حالانکہ واقع میں انہوں نے بھی آپ کی حیات میں قرآن مجید جمع کیا تھا، اس لئے حضرت انس نے صرف ان چار صحابہ کا ذکر کیا، دوسری وجہ یہ ہے کہ دوسرے صحابہ نے ریا کاری کے خطرہ اور شدت اخلاص کے جذبہ سے خود اپنی کاوشوں کو مخفی رکھا اور اس لئے حضرت انس ان کے کام پر مطلع نہ ہو سکے اور جب وہ ریاکاری کے خطرہ سے مامون ہوگئے تو پھر انہوں نے اپنی کاوشوں سے لوگوں کو مطلع کردیا۔

(٦) حضرت انس کی مراد یہ تھی کہ ان چار صحابہ نے لکھ کر قرآن مجید کو جمع کرلیا تھا اور دوسرے صحابہ نے مکمل قرآن مجید کو حفظ کر کے اپنے سنیوں میں جمع کرلیا تھا اور ان چار صحابہ نے مکمل قرآن مجید کو حفظ بھی کیا اور اس کو لکھ بھی لیا (لیکن اس کو ایک جلد اور ایک مصحف میں نہیں جمع کیا، یہ منتشر اور اق، باریک کھالوں، کھجور کے درخت کی چھالوں اور سنگ مرمر کے پتلے تختوں میں محفوظ تھا، اس کو ایک محصف اور ایک جلد میں حضرت ابوبکر (رض) کے دور میں محفوظ کیا گیا۔ )

(٧) حضرت انس (رض) کی مراد یہ تھی کہ ان چار صحابہ کے سوا اور کسی صحابی نے یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں مکمل قرآن مجید کو جمع کرلیا ہے کیونکہ یہ کام اسی وقت مکمل ہوا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی جب آخری آیت نازل ہوگئی اور ہوسکتا ہے کہ جب آری یا اس کے قریب آیت نازل ہو اس وقت قرآن مجید جمع کرنے والے صحابہ میں سے یہی چار صحابہ موجود رہے ہیں اگرچہ دوسرے مواقع پر دوسرے جمع کرنے والے صحابہ حاضر رہے ہوں۔

تحقیق یہ ہے کہ حضرت انس (رض) کا مقصد انصار کے دوسرے قبیلہ خزرج کے سامنے اظہار فخر کرنا تھا کہ ہمارے قبیلہ اوس کے چار صحابہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں قرآن مجید کو جمع کیا ہے اور دیگر مہاجرین اور انصار سے وصف کی نفی کرنا انکا مقصد نہ تھا۔ (فتح الباری ج ٠١ ص 62-63 دا الفکر، بیروت، ٠٢٤١ ھ)

حافظ عسقلانی کے تنبع سے ان صحابہ کی تعداد کا بیان جن کو عہد رسالت میں مکمل اور مترتب …قرآن مجید حفظ تھا۔

نیز عالمہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

بہ کثرت احادیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو بھی قرآن مجید حفظ تھا کیونکہ ہجرت سے پہلے انہوں نے اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنائی ہوئی تھی اور اس مسجد میں نماز میں بلند آواز سے قرآن مجید پڑھتے تھے اور یہ اس پر محمول ہے کہ قرآن مجید کی جس قدر سورتیں اور آیات نازل ہوتی تھیں ان کو حضرت ابوبکر اس مسجد میں بلند آواز سے پڑھتے تھے، کیونکہ حضرت ابوبکر اس پر شدید حریض تھے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرآن مجید حاصل کر کے اس کو یاد کریں جبکہ وہ آپ کے ساتھ مکہ میں مقیم تھے اور پھر اکثر اوقات میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر (رض) ساتھ رہتے تھے کہ حتیٰ کہ حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح اور شام ان کے پاس آتے رہتے تھے اور ” صحیح مسلم “ میں یہ حدیث ہے کہ جو شخص قوم میں سب سے زیادہ قرآن کو یاد رکھنے والا ہو وہ قوم کی امامت کرائے۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث 673:)

اور یہ بات گزر چکی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوئے تو آپ کی جگہ حضرت ابوبکر نماز پڑھاتے تھے کیونکہ ان کو سب سے زیادہ قرآن مجید حفظ تھا اور حدیث میں ہے :

امام ابن ابی دائود نے ” المصاحف “ میں سند حسن کے ساتھ عبد خیر سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی (رض) یہ فرماتے تھے : مصاحف کا سب سے زیادہ اجر حضرت ابوبکر کا ہے، ابوبکر پر اللہ کی رحمت ہو اور وہ سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے قرآن مجید کو جمع کیا۔ (فتح الباری ج 10 ص 15)

نیز حضرت علی نے فرمایا : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر نے ترتیب نزول کے مطابق قرآن مجید کو جمع کیا اور امام نسائی نے اپنی ” صحیح “ میں حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت کیا ہے، مَیں نے قرآن مجید کو جمع کیا اور میں نے ساری رات میں قرآن مجید ختم کیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا : ایک مہینہ میں قرآن مجید کو ختم کرو۔

(سنن نسائی رقم الحدیث 2392:)

اور حدیث میں گزر چکا ہے کہ حضرت ابن مسعود اور سالم مولیٰ ابو حذیفہ بھی قرآن مجید کو جمع کرنے والے تھے اور یہ مہاجرین میں سے تھے۔

ابو عبید نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں بےقراء کو جمع کیا ہے اور جن صحابہ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں قرآن مجید کو جمع کیا تھا ان کو شمار کیا ہے، ان میں ان صحابہ کا شمار کیا ہے :

مہاجرین میں سے حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت سعد، حضر ابن مسعود، حضرت حذیفہ، حضرت سالم، حضرت عبداللہ بن السائب، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن الزبیر اور خواتین میں سے حضرت عائشہ، حضرت حفصہ اور حضرت ام سلمہ نے قرآن مجید کو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں جمع کیا، لیکن ان میں سے بعض نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس کو مکمل کیا اور اس سے حضرت انس (رض) کے بیان کئے ہوئے حصر پر اعتراض نہیں ہوتا اور امام ابن ابی دائود نے :” کتاب الشریعتہ “ میں مہاجرین میں سے حضرت تمیم بن اوس الداری اور حضرت عقبہ بن عامر کو بھی شمار کیا ہے اور انصار میں سے حضرت عبادۃ بن الصامت اور حضرت معاذ جن کی کنیت ابو حلیمہ تھی اور حضرت مجمع بن حارثہ اور حضرت فضالۃ بن عبید اور حضرت مسلمہ بن مخلدو غیر ہم کو شمار کیا ہے اور یہ بھی تصریح کی ہے کہ ان میں سے بعض نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد قرآن کو جمع کیا ہے اور جن صحابہ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں قرآن مجید کو جمع کیا ان میں حضرت ابو موسیٰ اشعری بھی ہیں، ان کا ذکر ابو عمرو دانی نے کیا ہے اور بعض متاخرین نے ان قراء میں حضرت

حضرت ابو الدرداء کا ذکر کیا ہے، حصر کا جواب تو ہم پہلے کئی وجوہ سے ذکر کرچکے ہیں اور ائمہ نے اس قل کا انکار کیا ہے۔ امام مازری نے کہا : حضرت انس نے اپنے علم کے اعتبار سے ان چار صحابہ میں حصر کیا ہے ورنہ واقع میں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں قرآن مجید جمع کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، ورنہ صحابہ کرام کی تعداد بہت زیادہ تھی اور وہ مختلف شہروں میں پھیل چکے تھے، حضرت انس (رض) ان سب کا احاطہ کیسے کرسکتے تھے ؟ یہ حصر تب ہی صحیح ہوسکتا ہے کہ حضرت انس (رض) نے الگ الگ تمام صحابہ سے ملاقات کی ہو اور ہر صحابی نے ان کو یہ بتایا ہو کہ اس نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں قرآن مجید کو جمع نہیں کیا اور یہ چیز عادۃ انتہائی بعید ہے۔

علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں بہ کثرت صحابہ نے قرآن مجید کو جمع اور حفظ کیا تھا، اس پر دلیل یہ ہے کہ جنگ یمامہ میں 70 قراء صحابہ شہید کردیئے گئے اور سب قرآن مجید کے حافظ اور جامع تھے اور نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں بیرمعونہ میں 70 قاریوں کو کفار نے قرآن مجید سیکھنے کے لئے بلایا تھا اور پھر ان سب کو شہید کردیا تھا اور حضرت انس نے خصوصیت کے ساتھ قبیلہ اوس کے ان چار صحابہ کا ذکر کیا ہے، کیونکہ ان کا ان کے ساتھ ایسا شدید تعلق تھا، جو دوسروں کے ساتھ نہیں تھا یا ان کے ذہن میں ان ہی چار کا نام تھا دوسروں کا نہیں تھا۔

” صحیح البخاری “ رقم الحدیث 5004: کی رقم الحدیث 5003: سے دوسری مخالف یہ ہے کہ اس میں حضرت انس نے حضرت ابی بن کعب کے بجائے حضرت ابو الدرداء کا ذکر کیا ہے اور یہ دونوں حدیثیں صحیح نہیں ہوسکتیں، ان میں کوئی ایک حدیث ہی صحیح ہوگی اور امام بیہقی نے جزم کے ساتھ کہا ہے کہ صحیح وہ حدیث ہے جس میں حضرت ابی بن کعب کا ذکر ہے اور حدیث 5004: جس میں ان کے بجائے حضرت ابو الدرداء کا ذکر ہے کہ وہ صحیح نہیں ہے اور امام دائودی نے کہا : حضرت ابو الدرداء کا ذکر محفوظ نہیں ہے اور ایک مرتبہ حضرت ابو الدرداء کا ذکر کیا اور امام ابن ابی دائود نے محمد بن کعب قرظی کی سند سے روایت ہے کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں انصار میں سے پانچ صحابہ نے قرآن مجید کو جمع کیا تھا : (1) حضرت معاذ بن جبل (2) حضرت عبادہ بن الصامت (3) حضرت ابی بن کعب (4) حضرت ابو الدرداء (5) اور حضرت ابو ایوب انصاری (رض) ، اس حدیث کی سند حسن ہے، اس پر شاہد یہ حدیث ہے : شعبی بیان کرتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں چھ صحابہ نے قرآن مجید کو جمع کیا۔ ان میں حضرت ابو الدردائ، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت زید بن ثابت بھی تھے اور ان میں احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ” صحیح البخاری “ رقم الحدیث 5004: کی بہرحال اصل ہے، ہوسکتا ہے کہ کسی شخص کا یہ گمان ہو کہ بہ شمول حضرت ابوالدرداء ان چار نے عہد رسالت میں قرآن مجید کو جمع نہیں کیا تو حضرت انس نے اس کے رد میں مبالغہ کرتے ہوئے کہا کہ ان چار کے سوا عہد رسالت میں اور کسی نے قرآن مجید کو جمع نہیں کیا اور حضرت انس کا یہ حضر ادعائی ہے ان کی مراد یہ نہیں تھی کہ ان چار کے سوا اور کسی نے عہد رسالت میں قرآن مجید کو جمع نہیں کیا۔ (فتح الباری ج ٠١ ص ٤٦-٣٦، دارالفکر بیروت، ٢٠٤١ ھ)

علامہ شہاب الدین احمد قسطلانی متوفی ١١٩ ھ نے ” فتح الباری “ کی مذکور الصدر بحث کا خلاصہ لکھا ہے، اس کے بعد لکھتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات میں بہ کثرت صحابہ نے قرآن مجید کو جمع کیا جن کو منضبط کرنا اور منحصر کرنا بہت مشکل ہے اور یہ کس طرح ہوسکتا ہے جب کہ بیر معونہ میں ستر قراء اور حفاظ صحابہ کو شہیدکر دیا گیا اور جنگ یمامہ میں بھی ستر صحابہ کو شہید کردیا گیا ؟ (ارشاد الساری ج ١١ ص ٢٢٣- ١٢٣، دارالفکر بیروت، ١٢٤١ ھ)

حضرت انس کی حدیث کے حافظ عینی کی طرف سے جوابات

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی متوفی ٥٥٨ ھ اس بحث میں لکھتے ہیں :

حضرت انس (رض) نے کہا ہے کہ ان چار نے رسول اللہ علیہ وسلم کی حیات میں قرآن مجید کو جمع کیا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٠٠٥)

اس حدیث سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت انس نے ان چار صحابہ میں حصر کیا ہے، حالانکہ ان کے علاوہ بھی ان بہت صحابہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات میں قرآن مجید جمع کیا تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ چار کا لفظ عدد ہے اور عدد میں مفہوم مخلاف معتبر نہیں ہوتا اور اگر اس کو تسلیم نہیں کیا جائے تو اس حدیث کے اور متعدد جوابات ہیں، جو درج ذیل ہیں :

حضرت انس (رض) کی حدیث کے حافظ عینی

کی طرف سے جوابات :

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی متوفی ٥٥٨ ھ اس بحث میں لکھتے ہیں :

حضرت انس (رض) نے کہا ہے کہ ان چار نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات میں قرآن مجید کو جمع کیا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٠٠٥)

اس حدیث سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسن نے ان چار صحابہ میں حصر کیا ہے، حالانکہ ان کے علاوہ بھی اور بہت صحاب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات میں قرآن مجید جمع کیا تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ چار کا لفظ عدد ہے اور عدد میں مفہوم مخالف معتبر نہیں ہوتا اور اگر اس کو تسلیم نہ کیا جائے تو اس حدیث کے اور متعدد جوابات ہیں، درج ذیل ہیں :

( 1) قرآن مجید کو اس کی جمیع وجوہ کے ساتھ یعنی اس کی لغات، اس کے حروف، اس کی قرأت اور اس کے اسباب نزول کے ساتھ ان چار کے علاوہ اور کسی نے جمع نہیں کیا۔

( 2) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے بلاواسطہ سن کر ان چار کے سوا اور کسی نے عہد رسالت میں قرآن مجید کو جمع نہیں کیا۔

( 3) ان چاروں نے اس کا اظہار کیا اور قرآن مجید کی تعلیم اور تلقین کے در پے ہ گئے۔

( 4) ان چاروں نے آپ کی حیات میں قرآن مجید کو جمع کر کے لکھ لیا تھا خواہ ایک مصحف میں یا متعدد صحائف میں۔

( 5) ابوبکر بن العربی نے کہا، حضرت انس کی مراد یہ تھی کہ انہوں نے منسوخ شدہ آیات کو جمع نہیں کیا تھا۔

( 6) الماوردی نے کہا : حضرت انس کی مراد یہ تھی کہ ان چار کے سوا اور کسی نے قرآن جمع کرنے کا اعلان نہیں کیا تھا۔

( 7) اور ان چار کے عالوہ جن صحابہ نے قرآن مجید کو جمع کیا تھا انہوں نے ریاکاری کے خطرہ سے اس کا اظہار نہیں کیا تھا اور ان چار کے نفوس اپنے اخلاص پر مطمئن تھے اس لئے انہوں نے اس کا اعلان کردیا تھا۔

( 8) ان چاروں نیق رآن مجید حفظ کر کے اپنے سینوں میں جمع کیا اور صحیفوں میں لکھ بھی لیا اور بقای صحابی نے کسی ایک چیز پر اکتفاء کیا تھا۔

(9) زیادہ سے زیادہ بات یہ ہے کہ حضرت انس (رض) کو ان چار کے سوا باقی قرآن جمع کرنے والے صحابہ کا علم نہیں تھا۔

حافظ عینی کے تتبع سے عہد ِ رسالت میں حفاظ قرآن کی تعداد

ان چار صحابہ کے علاوہ جنہوں نے عہد ِ رسالت میں قرآن مجید کو جمع کیا وہ خلفاء راشدین ہیں، ابو عمرو نے کہا : رسول پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص نے بھی قرآن مجید جمع کیا تھا اور محمد بن کعب قرظی نے کہا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں حضرت عبادہ بن الصامت، حضرت ابو ایوب خالد بن زید نے قرآن مجید جمع کیا تھا، اس کو ابن عسا کرنے ذکر کیا ہے اور الدانی سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری اور مجمع بن جاریہ نے بھی آپ کی حیات میں قرآن مجید کو جمع کیا اور ابو عبید بن سلام نے ایک طویل حدیث میں ذکر کیا ہے کہ قیس بن صعصعہ عمرو بن زید انصاری بدری نے بھی قرآن مجید کو جمع کیا تھا، ان میں حضرت سعد بن عبید النعمان الاوسی ہیں اور امام ابن الاثیرنے کہا : جنہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں قران مجید کو جمع کیا ان میں حضرت قیس بن السکن، حضرت ام ورقہ بنت نوفل اور ایک قول ہے بند عبداللہ بن الحارث بھی ہیں اور ابوعبیدہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے قراء کا ذکر کیا ان میں مہاجرین میں سے چار خلفاء کو شمار کیا اور حضرت طلحہ، حضرت سعد، حضرت ابن مسعود، حضرت حذیفہ، حضرت سالم، حضرت ابوہریرہ، حضرت عبداللہ بن السائب کو اور چار عبادلہ کو (حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت ابن الزبیر اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص) اور خواتین میں سے حضرت عائشہ، حضرت حفصہ اور حضرت ام سلمہ اور امام ابن ابی دائود نے ذکر کیا ہے کہ مہاجرین میں سے حضرت تمیم بن اوس الداری اور حضرت عقبہ بن عامر اور انصار میں سے حضرت معاذ جن کی کنیت ابو حلیمہ ہے اور حضرت فضالۃ بن عبید اور حضرت مسلمہ بن مخلد اور سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے تو میں قرآن مجید جمع کر چخا تھا اور اس وقت میری عمر دس سال تھی اور اس تفصیل سے یہ ظاہر ہوگیا کہ جن صحابہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں قران مجید کو جمع کیا تھا اور اتنے زیادہ ہیں کہ کوئی عدد اور کوئی شمار ان کا احاطہ نہیں کرسکتا۔

(عمدۃ القاری ج 20 ص 38-39، دارالکتب العلمیہ، بیروت، 1421 ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے وفات سے پہلے حفظِ قرآن پر مزید احادیث اور صحابہ کے لئے بھی

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشا پوری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کپڑوں کے ٹکڑوں یا کاغذوں پر قرآن مجید کو لکھ کر جمع کررہے تھے، اچانک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شام کے لئے خوشی ہو، ہم نے پوچھا : کس وجہ سے ؟ آپ نے فرمایا : کیونکہ رحمان کے فرشتے ان کے اوپر اپنے پَر پھیلائے ہوئے ہیں۔

(المستدرک ج 2 ص 229-230 طبع قدیم، المتدرک رقم الحدیث 2901: طبع جدید 1420 ھ، مجمع الزوائد ج 10 ص 60، الترغیب ج 4 ص 63، المشکوٰۃ رقم الحدیث : 6264، کنز العمال رقم الحدیث : 36516)

امام ابو عبداللہ حاکم نیشا پوری اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں : یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو روایت نہیں کیا اور اس حدیث میں اس بات کا واضح بیان ہے کہ قرآن مجید کو صرف ایک مرتبہ جمع نہیں کیا، بلکہ پہلی بار قرآن مجید کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جمع کیا گیا، پھر دوسری بار حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے دور میں جمع کیا گیا اور تیسری بار حضرت امیر المومنین عثمان بن عفان کے دور خلافت میں جمع کیا گیا۔ امام ذہبی نے کہا : یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط کے مطابق ہے (پہلی بار قرآن مجید کی سورتوں اور آیتوں کو مختلف لغات پر منتشر اوراق میں جمع کیا گیا، ایک جلد اور ایک مصحف میں جمع نہیں کیا گیا، وسری بار قرآن مجیدکو ایک جلد میں جمع کیا گیا لیکن اس کو مختلف لغات پر پڑھا جاتا تھا اور تیسری بار اس کو صرف لغت قریش پر جمع کیا گیا اور اسی پر قائم رکھا گیا اور باقی لغات کی قرات کو محور کردیا گیا) ۔ (وضاحت از مصنف)

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے لوگوں سے پوچھا : تم کون سی قرات کے متعلق یہ گمان کرتے ہو کہ وہ آخری قرات ہے ؟ لوگوں نے کہا : حضرت زید بن ثابت کی قرات ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا : نہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر سال حضرت جبرایل (علیہ السلام) کو قرآن مجید سنایا کرتے تھے اور جس سال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو آپ نے ان کو دو بار قرآن سنایا اور حضرت ابن مسعود (رض) کی یہی آخری قرات تھی۔ امام ذہبی نے کہا : یہ حدیث صحیح ہے۔ (المستدرک ج 2 ص 230 طبع قدیم، المستدرک رقم الحدیث : 2903 طبع جدید، المکتبتہ العصریہ، 1420 ھ)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں قرآن مجید کو جمع اور حفظ کرلیا تھا۔

حضرت سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کئی مرتبہ قرآن سنایا گیا پس صحابہ کہتے ہتھے کہ ہماری قرات ہی وہ آخری قرات ہے جو رسول اللہ کو سنائی گئی تھی۔ (المستدرک ج 2 ص 230 ۔ رقم الحدیث 2904)

امام حاکم نیشا پوری نے کہا : یہ حدیث امام بخاری کی شرط کے موافق صحیح ہے اور اس کا بعض امام مسلم کی شرط کے موافق صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اس کو روایت نہیں کیا۔ امام ذہبی نے کہا : یہ حدیث صحیح ہے۔

اس حدیث میں بھی یہ تصریح ہے کہ صحابہ کرام نے پورے قرآن کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں ترتیب کے ساتھ جمع اور حفظ کرلیا تھا۔

وفات سے پہلے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مکمل قران مجید کا لکھا ہوا ہونا

امام ابن ابی عاصم متوفی 287 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عثمان بن ابی العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ثقیف کے کچھ لوگوں کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا، انہوں نے مجھ سے کہا : تم ہمارے سامان اور سواریوں کی حفاظت کرو، میں نے کہا : اس شرط پر کہ تم فارغ ہونے کے بعد میرا انتظار کرنا، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اپنی ضروریات کے متعلق سوال کیا، پھر وہ باہر آگئے تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے آپ سے مصحف (قرآن مجید کا مترتب لکھا ہوا نسخہ یا کتاب) کا سوال کیا جو آپ کے پاس موجود تھا تو آپ نے مجھے وہ عطا فرما دیا، تاہم یہ مصحف ایک جلد میں نہیں تھا، اس کے متعدد اجزاء تھے۔

امام ابوبکر بن ابی عاصم نے کہا : یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جن سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں مصاحف میں جمع ہوچکا تھا۔

(الاحاد والمشانی ج 3 ص 191 ۔ رقم الحدیث : 1528، المعجم الکبیرج 9 ص 53 ۔ رقم الحدیث : 8393 ۔ ج 9 ص 40 ۔ رقم الحدیث : 8356، حافظ الہیشمی نے کہا : اس حدیث کے تمام رجال صحیح کے رجال ہیں ماسوا عباد کے اس کی بھی توثیق کی گئی ہے، مجمع الزوائد ج 9 ص 371)

امام ابو عاصم نے کہا : درج ذیل حدیث سے بھی اس پر استدلال کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں قرآن مجید مصاحف میں جمع ہوچکا تھا۔

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مصاحفکو لے کر دشمن کی زمین کی طرف سفر نہ کرو۔

یہ حدیث بھی اس پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن مجید مصاحف میں لکھ کر جمع کیا جا چکا تھا۔ (الاحادوالمثانی ج 3 ص 191، صحیح البخاری رقم الحدیث : 2990، صحیح مسلم رقم الحدیث : 1829، سنن ابودائود رقم الحدیث : 2610، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 2879)

مذکور الصدر احادیث کی وضاحت

ان احادیث سے یہ واضح ہوگیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مکمل قرآن، مجموع اور مترتب محفوظ تھا جس کا آپ نے اپنی زندگی کے آخری سال میں حضرت جبریل (علیہ السلام) سے دوبارہ دور کیا اور آپ کے پاس یہ مجموع اور مترتب متعدد صحائف میں لکھا ہوا محفوظ بھی تھا، لیکن یہ ایک جلد میں محفوظ نہیں تھا اور یہ لکھے ہوئے اجزاء بھی آپ کی وفات سے کچھ پہلے معرض وجود میں آئے اور شروع سے قران مجید کو ایک مصحف یا ایک جلد میں اس لئے محفوظ نہیں کیا گیا کیونکہ قران مجید کا بہ تدریج نزول ہوا ہے اور تئیس سال میں قرآن کریم کا نزول مکمل ہوا، نیز اس کی بعض آیات کی تلاوت منسوخ بھی ہوتی رہتی تھیں ان وجوہات کی بناء پر قرآن مجید کا ابتادء نبوت میں مجموعہ محفوظ کرنا ممکن نہ تھا، صحابہ کرام قرآن مجید کو حفظ کرتے رہتے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کے آخری ایام میں جب قرآن مجید کا نزول مکمل ہوگیا تو ان گنت صحابہ مکمل قرآن مجید کو حفظ کرچکے تھے اور مکمل قرآن مجید متعدد مصاحف اور منتشر اوراق میں لکھا بھی جا چکا تھا جیسا کہ ” الاحادوالمثانی “ کی احادیث سے ظاہر ہوچکا ہے اور ” صحیح البخاری، صحیح مسلم “ کی احادیث اور ” فتح الباری “ اور ” عمدۃ القاری “ کے تتبع اور ان کی تصریحات سے یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ بیشمار صحابہ مکمل قرآن مجید کے حافظ تھے اور جب جنگ یمامہ میں مسلیمہ کذاب کے خلاف لڑتے ہوئی ستر قرآن مجید کے حفاظ صحابہ شہید ہوگئے تو اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ مکمل قران مجید کو لکھ کر ایک مصحف یا ایک جلد میں محفوظ کرلیا جائے تاکہ بہ وقت ضرورت اس کی نقول فراہم کی جاسکیں، لیکن اس کو بنیاد بناکر عیسائیوں کا یہ اعتراض غلط ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں قرآن مجید مجموع اور مرتب نہ تھا اس کو بعد میں صحافبہ نے جمع کیا اور ترتیب دی۔

حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں قرآن مجید کو ایک مصحف اور ایک جلد میں جمع کرنا

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عبید بن السباق بیان کرتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت (رض) نے کہا کہ جب اہل یمامہ کو قتل کیا گیا (یمامہ مدینہ کے مشرق کے وسط میں ہے اور مکہ سے سولہ مرحلہ پر ہے، اسی جگہ سلیمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا، حضرت ابوبکر نے حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں مسلیمہ اور اس کے متبعین کو قتل کرنے کے لئے ایک لشکر بھیجا، اس جنگ میں ستر قرآن کے حافظ صحابہ اور بارہ سو عام مسلمان شہید ہوئے۔ بالآخر حضرت وحشی (رض) نے مسلیمہ کذاب کو قتل کردیا) تو حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت زید بن ثابت (رض) کو بلایا، اس وقت ان کے پاس حضرت عمر بن الخطاب (رض) بھی تھے، حضرت ابوبکر (رض) نے کہا کہ حضرت عمر میرے پاس آئے اور کہا کہ جنگ یمامہ کے دن بہت قرآن مجید کے حفاظ شہید ہوگئے اور مجھے یہ خطرہ ہے کہ اگر مختلف جنگوں میں حفاظ قرآن شہید ہوتے رہے تو قرآن مجید کا بہت سارا حصہ جاتا رہے گا اور میری رائے یہ ہے کہ آپ قرآن مجید کو جمع کرنے کا حکم دیں۔ میں نے حضرت عمر سے کہا : ہم اس کام کو کیسے کریں جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں کیا ؟ حضرت عمر نے کہا : اللہ کی قسم ! اس کام میں خیر ہے۔ پھر حضرت عمر مجھ سے مسلسل اس کام کے لئے کہتے رہے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کو کرنے کے لئے میرا سینہ کھول دیا اور میری رائے حضرت عمر کی رائے کے موافق ہوگئی، حضرت زید بن ثابت نے کہا : حضرت ابوبکر (رض) کے لئے وحی لکھتے رہتے تھے، آپ قران مجید کو تلاش کرکے جمع کرلیجئے، حضرت زیدبن ثابت نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر وہ مجھے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کو اپنی جگہ سے منتقل کرنے کا حکم دیتے تو وہ مجھ پر اس قدر دشوار نہ ہوتا جتنا مجھ پر یہ حکم دشوار تھا کہ میں قرآن مجید کو جمع کروں، میں نے کہا : آپ لوگ اس کام کو کیسے کررہے ہیں جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہیں کیا ؟ حضرت ابوبکر نے کہا : اللہ کی قسم ! یہ اچھا کام ہے، پھر حضرت ابوبکر مجھ سے مسلسل یہ بات کہتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ بھی اس کام کے لئے کھول دیا جس کام کے لئے حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کا سینہ کھول دیا تھا میں قرآن مجید کو کھجور کے درخت کی چھال سنگ مر مر کے پتلے اور چپٹے تختوں (اور کپڑوں کے ٹکڑوں او کاغذوں اور باریک کھالوں اور اونٹ کی چوڑی ہڈیوں سے) اور مسلمانوں کے سینوں سے تلاش کر کے جمع کرتارہا حتیٰ کہ سورة توبہ کی آخری آیت مجھے حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری (رض) کے پاس ملی (جن کی تنہا شہادت کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو شہادتوں کے قائم مقام قرار دیا تھا) وہ آیت یہ ہے : (التوبہ :128-129) پھر یہ مجموعی صحیفہ حضرت ابوبکر کے پاس رہا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وفات دے دی، پھر حضرت عمر (رض) کی حیات میں ان کے پاس رہا پھر حضرت حفصہ بنت عمر (رض) کے پاس رہا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : 4982 سنن ترمذی رقم الحدیث : 3154، سنن نسائی رقم الحدیث : 4691)

اس حدیث کے راوی عبید بن السباق کی توثیق

یہ حدیث عبید بن السباق سے مروی ہے ان کے متعلق بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ یہ ضعیف راوی ہیں لیکن ایسا نہیں ہے ہم ان کی توثیق کے متعلق ماہرین اسماء رجال کی توثیق پیش کررہے ہیں :

عبید بن السباق الثقفی المدنی کا امام ابن حبان نے ” کتاب الثقات “ میں ذکر کیا ہے۔

(تہذیب الکمال ج 12 ص 300، دارالفکر، بیروت، 1414 ھ)

حافظ محمد بن احمد بن عثمان ذہنی متوفی 748 ھ لکھتے ہیں :

یہ حضرت زید بن ثابت، حضرت جویریہ ام المومنین، حضرت اسامہ بن زید، حضرت سہل بن حنیف اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے اور علماء اہل مدینہ سے ہیں۔ (تاریخ اسلام ج 6 ص 148، دارل کتاب العربی، بیروت، 1419 ھ)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی 852 ھ لکھتے ہیں :

امام بن حبان نے ان کا ثقات میں ذکر کیا ہے، العجلی نے کہا : یہ مدنی تابعی ثقہ ہیں، امام مسلم نے ان کا تابعین اہل مدینہ کے طبقہ اولیٰ میں ذکر کیا ہے۔ (تہذیب ج 7 ص 59، رقم الحدیث 4535 دارلکتب العلمیہ، بیروت 1415 ھ)

امام محمد بن حبان متوفی 354 ھ نے لکھا ہے : عبید بن السباق ثقہ ہیں۔ (کتاب الثقات ج 5 ص 133)

التوبہ : 128 کا صرف حضرت خزیمہ کے پاس ملنا کیا تواتر کی شرط کیخلاف نہیں ہے ؟

اس حدیث میں دوسری بحث یہ ہے کہ اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ التوبہ : 128, 129 صرف حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری (رض) کے پاس ملی اور انہوں نے یہ شہادت دی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کو لکھوایا تھا اس پر اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید کی آیات تو تواتر سے ثابت ہوتی ہیں تو صرف حضرت خزیمہ کی شہادت سے ان دو آیتوں کا قرآن ہونا کس طرح ثابت ہوگیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ صحابہ کرام کو قرآن مجید کی تمام آیات معلوم اور حفظ تھیں لیکن جو صحابہ کرام قرآن مجید کو مصحف میں جمع کررہے تھے انہوں نے مصحف میں جمع کررہے تھے انہوں نے مصحف میں قرآن مجید کی آیات کو درج کرنے کا یہ ضابطہ مقرر کیا تھا کہ جس آیت کے متعلق کم از کم دو صحابہ یہ گواہی دیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کو لکھوایا تھا وہ اس آیت کو مصحف میں درج کرتے تھے ‘ الاحزاب : ٢٣ کو لکھوا نے کے متعلق حضرت خزیمہ بن ثابت کے علاوہ اور کوئی گواہی نہیں ملی اور چونکہ حضرت خزیمہ کی گواہی کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو گواہوں کی گواہی کے قائم مقام قرار دیا تھا اس لیے صحابہ نے ان کی گواہی پر اس آیت کو سورة الاحزاب میں درج کرلیا ‘ واضح رہے کہ قرآن مجید کی ہر آیت تو اتر سے ثابت ہے یعنی اس کے قرآن ہونے کے متعلق ہر دور میں اتنے لوگوں نے خبر دی ہے کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہے ‘ لیکن یہاں پر یہ مسئلہ نہیں تھا کہ یہ آیت قرآن مجید میں ہے یا نہیں۔ اس کا قرآن مجید میں ہونا تو انہیں تواتر سے معلوم تھا ‘ مسئلہ یہ تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو لکھوایا ہے اور سورة الاحزاب میں درج کرایا ہے یا نہیں ؟ سو اس پر صرف حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) گواہ تھے ‘ الاحزاب : ٢٣ کی طرح سورة التوبہ کی آخری دو آیتیں بھی صرف حضرت خزیمہ بن ثابت کی گواہی سے مصحف میں درج کی گئیں۔

حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے پیغام بھیجا تو میں نے قرآن مجید کو جمع کرنا شروع کیا حتیٰ کہ جب میں سورة توبہ کے آخر میں پہنچا تا ” لقد جاء کم روال من انفسکم “ (التوبہ : ١٢٩- ١٢٨) مجھے صرف حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری کی گواہی کو جو دو گواہوں کی گواہی کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے ‘ اس کی وجہ دو واقعات ہیں جن کا ذکر آرہا ہے۔

حضرت خزیمہ بن ثابت کی گواہی کو دو گواہوں کی گواہی کے قائم مقام کرنے کا سبب

محمد بن عمارہ ‘ حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اعرابی سے گھوڑا خریدا ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے مہلت طلب کی کہ گھوڑے کی قیمت لے کر آئیں ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھوڑے کی قیمت لینے کے لیے سرعت کے ساتھ گئے ‘ اس اعرابی کے نزدیک تاخیر ہوگئی ‘ دوسرے لوگ اس اعرابی کے سامنے اس گھوڑے کی قیمت لگانے لگے ‘ ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس گھوڑے کو خرید چکے ہیں ‘ پھر اس اعرابی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اگر آپ اس گھوڑے کو خرید چکے ہیں تو فبہا ورنہ میں اس گھوڑے کو بیچ رہا ہوں ‘ آپ نے اس اعرابی کی بات سن کر فرمایا : کیا میں تم سے یہ گھوڑا خرید نہیں چکا ؟ اس اعرابی نے کہا : نہیں ! خدا کی قسم ! میں نے آپ کو یہ گھوڑا نہیں فروخت کیا ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیوں نہیں ! میں تم سے یہ گھوڑا خرید چکا ہوں ‘ اس اعرابی نے کہا : اچھا پھر آپ گواہ لائیں ‘ حضرت خزیمہ بن ثابت نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے یہ گھوڑا آپ کو فراخت کردیا ہے ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خزیمہ سے پوچھا : تم کس بنیاد پر یہ گواہی دے رہے ہو ؟ حضرت خزیمہ نے کہا : یا رسول اللہ ! کیونکہ میں آپ کی (ہر بات کی) تصدیق کرتا ہوں ‘ تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت خزیمہ کی گواہی کو دو گواہوں کے برابر قرار دیا۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٣٦٠٧‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٤٦٦١‘ الطبقات الکبریٰ رقم الحدیث : ٥٨٤‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٥٦٦١ طبع جدید ‘ مصنف عبدالرزاق ج ٨ ص ٣٦٦ طبع قدیم ‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٣٧٣٠‘ مجمع الزوائد ج ٩ ص ٣٢٠‘ المستدرک ج ٢ ص ١٨‘ السنن الکبریٰ ج ١٠ ص ١٤٦‘ تاریخ دمشق الکبیر رقم الحدیث : ٤٠٤٧‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٧٠٣٨‘ الاصابہ رقم الحدیث : ٢٢٥٦‘ اسد الغابہ رقم الحدیث : ١٤٤٦ )

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرض کا تقاضا کر رہا تھا ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تم کو قرض ادا کرچکا ہوں ‘ یہودی نے کہا : آپ گواہ لائیں ‘ اتنے میں حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری آگئے ‘ انہوں نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو قرض ادا کردیا ہے ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا : تم کو کیسے علم ہوا ؟ انہوں نے کہا : میں اس سے بہت بڑی خبروں میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں ‘ میں آسمان کی خبروں میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں ‘ تب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی شہادت کو دو شہادتیں قرار دیا۔ ( مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ٢٠٥٨٥ ۔ ١٥٦٦٣‘ طبع جدید ‘ مصنف عبدالرزاق ج ٨ ص ٣٦٦ ۔ ج ١١ ص ٣٣٥ طبع قدیم)

حضرت عثمان کے دور خلافت میں صرف لغت قریش پر قرآن مجید کو باقی رکھنا اور باقی نسخوں۔۔۔ کو جلا دینا

جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا تھا کہ پہلے متعدد لغات پر قرآن مجید کو پڑھنے کی اجازت تھی لیکن ہر وہ شخص جو کسی ایک لغت پر قرآن مجید پڑھتا تھا جب وہ دوسرے شخص سے کسی اور لغت کے تلفظ پر قرآن کو سنتاتو وہ اس کی تغلیط کرتا اور وہ دوسرا شخص اس پہلے شخص کے تلفظ کی تغلیط کرتا اور یوں مسلمان ایک دوسرے کی قراءت کی تکذیب کرتے ‘ اس وقت حضرت عثمان (رض) نے اس قراءت پر قرآن کو باقی رکھا جو لغت قریش پر تھا اور حضرت حفصہ کے گھر محفوظ تھا اور باقی لغات کے نسخوں کو محو کردیا گیا ‘ اس کی تفصیل اس حدیث میں ہے :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ بن یمان (رض) ‘ حضرت عثمان (رض) کے پاس آئے ‘ وہ اس وقت اہل شام سے آرمینیہ اور آذر بائی جان کی فتح کے سلسلہ میں اہل عراق سے جہاد میں مشغول تھے ‘ اس وقت حضرت حذیفہ مسلمانوں کے قرآن پڑھنے میں اختلاف سے گھبرا گئے ‘ حضرت حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا : اے امیر المئومنین ! اس سے پہلے کہ یہ امت یہود و نصاریٰ کی طرح اپنی کتاب میں مختلف ہوجائے آپ اس کا تدارک کرلیجئے ‘ پھر حضرت عثمان نے حضرت حفصہ (رض) کے پاس پیغام بھیجا کہ قرآن مجید کا وہ نسخہ ہماری طرف بھیجیں ‘ ہم اس کو دوسرے مصاحف میں نقل کریں گے پھر آپ کو یہ نسخہ واپس بھیج دیں گے ‘ حضرت حفصہ نے وہ نسخہ حضرت عثمان کے پاس بھیج دیا ‘ حضرت عثمان نے حضرت زید بن ثابت ‘ حضرت عبداللہ بن الزبیر ‘ حضرت سعید بن العاص اور حضرت عبدالرحمان بن الحارث بن ہشام سے کہا کہ وہ اس نسخہ کو مصاحف میں نقل کریں اور حضرت عثمان نے تین قریشین کی جماعت سے کہا : جب تمہارا اور زید بن ثابت کا قرآن کے کسی لفظ میں اختلاف ہوجائے تو اس کو لغت قریش کے موافق لکھنا کیونکہ قرآن مجید لغت قریش کے مطابق نازل ہوا ہے ‘ سو انہوں نے ایسا ہی کیا ‘ حتیٰ کہ جب انہوں نے اس نسخہ کو مصاحف میں نقل کرلیا تو حضرت عثمان نے وہ مستعار لیا ہوا نسخہ یا مصحف حضرت حفصہ کو واپس کردیا اور تمام صوبوں اور بڑے شہروں میں ان مصحف کی نقلیں بھیج دیں اور حکم دیا کہ اس نسخہ کے مطابق مصاحف لکھیں اور ان کے ماسوا جو قرآن مجید کے سابقہ نسخے ہیں ان کو جلا دیا جائے۔ (صحیح البخاری قم الحدیث : ٤٩٨٧)

بقیہ مصاحف کو جلانے کی توجیہ

حضرت عثمان (رض) نے سابقہ مصاحف کو جلانے کا جو حکم دیا تھا اس کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

جب حضرت عثمان (رض) نے تمام بڑے شہروں میں حضرت حفصہ کے مصحف کی نقول بھجوا دیں تو کہا : میں نے اس اس طرح کیا اور اپنے سابقہ مصحف کو مٹادیا ‘ سو تم بھی اپنے اپنے سابقہ مصاحف کو محور کردو اور محو اس سے عام ہے کہ ان سابقہ کاغذات کو دھویا جائے یا جلا دیا جائے ‘ اکثر روایات میں جلانے کا ذکر ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلے ان کاغذات کو دھویا گیا ہو پھر جلا دیا گیا ہو تاکہ سابقہ اوراق کا بالکل نام و نشان نہ رہے ‘ قاضی عیاض نے حتمی طور پر کہا ہے کہ انہوں نے پہلے ان کاغذات کو دھویا پھر جلا دیا تاکہ سابقہ قراءت کا کوئی نام و نشان نہ رہے۔ (فتح الباری ج ١٠ ص ٢٥‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ ‘ عمدۃ القاری ج ٢٠ ص ٢٦‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

نیز علامہ عینی حنفی نے لکھا ہے کہ جب مصحف کے اوراق بہت پرانے ہوجائیں اور استفادہ کے قابل نہ رہیں تو ان کو کسی پاک جگہ پر دفن کردیا جائے۔

جمع قرآن کے متعلق حرف آخر

ملا علی سلطان محمد القاری المتوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں :

خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کرام نے اسی وقت قرآن مجید کو جمع کیا جب ان کے نزدیک دلیل قطعی سے قرآن مجید کے الفاظ ثابت ہوگئے اور دلیل ظنی سہے یہ ثابت ہوگیا کہ ان الفاظ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھوایا تھا۔

الحارث المحاسبی نے ” فہم السنن “ میں کہا ہے کہ قرآن مجید کو لکھنا حادث (نیاکام) نہیں ہے ‘ کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید کو لکھنے کا حکم دیتے تھے ‘ لیکن وہ لکھا ہوا یک جا نہیں تھا ‘ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اس کو یک جا کیا ‘ گویا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں مکمل قرآن مجید کے منتشر اور متفرق اوراق مل گئے ‘ پھر کسی جمع کرے والے نے ان اوراق کو جمع کرکے ا کی دھاگے کے ساتھ باندھ دیا تاکہ ان میں سے کوئی ورق ضائع نہ ہوجائے اور ان کا غذوں ‘ کپڑوں اور باریک کھالوں پر جو لکھا ہوا تھا وہی صحابہ کے سینوں میں محفوظ تھا کیونکہ وہ ابتداء سے نازل ہونے والے قرآن کو حفظ کررہے تھے اور انہوں نے تئیس سال سے لگاتار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلاوت کا مشاہدہ کیا تھا ‘ اس لیے اس بات کا کوئی خطرہ نہیں تھا کہ اس میں کوئی غلط چیز شامل ہوگی ‘ ہاں اس کا خطرہ تھا کہ اس میں سے کوئی چیز رہ نہ جائے اس لیے انہوں نے انتہائی احتیاط کے ساتھ قرآن مجید کو جمع کیا۔ (مرقاۃ المفاتیح ج ٤ ص ٧٢٩۔ ٧٢٨‘ ملخصا ‘ مکتبہ حقانیہ ‘ پشاور)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 52 الطور آیت نمبر 3