أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَاۤ اُرِيۡدُ مِنۡهُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ وَّمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ يُّطۡعِمُوۡنِ ۞

ترجمہ:

میں ان سے کسی رزق کو طلب نہیں کرتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا دیں

اللہ تعالیٰ تمام مخلوق سے مستغنی ہے اور سب اس کے محتاج ہیں

الذریت : ٥٧ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں ان سے کسی رزق کو طلب نہیں کرتا اور نہ چاہتا ہوں کہ مجھے کھانا دیں۔

حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس آیت کا معنی یہ ہے کہ میں یہ ارادہ نہیں کرتا کہ جنات اور انسان اپنے آپ کو رزق دیں اور نہ یہ ارادہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو کھانا دیں۔ (الجامع لا حکام القرآن جز ١٧ ص ٥٣ )

مگر یہ معنی ظاہر آیت کیخلاف ہے کیونکہ ” وما ارید ان یطعمون “ میں ” ن “ کے نیچے زیر ہے ‘ اس کا معنی ہے : اور نہ میں یہ ارادہ کرتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔ اس لیے اس آیت کا معنی ہے : میں ان سے کسی رزق کا ارادہ نہیں کرتا اور نہ یہ ارادہ کرتا ہوں کہ یہ مجھے کھانا کھلائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت سے اس وہم کا ازالہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں کو پیدا کیا ہے تو شاید اس سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کو ان سی کوئی نفع حاصل ہوگا اس کے ازالہ کیلیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان سے کسی رزق کا ارادہ کرتا ہے اور نہ کھانیکا ارادہ کرتا ہے ‘ رزق سے مراد عام ضروریات کی چیزیں ہیں خواہ وہ طعام ہوں یا کوئی اور چیز اور طعام سیمراد خاص رزق ہے جس سے انسان پیٹ بھرتا ہے۔

علامہ محمود بن عمر زمخشری خوارزمی متوفی ٥٣٨ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ میرا اپنے بندوں کے ساتھ معاملہ اس طرح نہیں ہے جس طرح مالک کا معاملہ اپنے غلاموں اور نوکروں کے ساتھ ہوتا ہے ‘ کیونکہ مالک غلام اور نوکر کو اس لیے رکھتا ہے کہ وہ ان نوکروں سے اپنے کاروبار میں اور ضروریات زندگی کے حصول میں تعاون حاصل کرے ‘ پس مالک یا تو اپنے تجارتی امور اپنے کارندوں کے حوالے کرتا ہے تاکہ وہ ان کو نفع کما کر لا کردیں یا اس کی زمین میں غلہ اور اناج کاشت کرکے اس کو فراہم کریں یا اس کے کارخانے ” مل یا فیکٹری کو چلائیں اور اس کو نفع لاکر دیں یا وہ ایندھن لانے والے کو رکھتا ہے یا باورچی کو رکھتا ہے جو اس کو کھانا پکا کردیں اور اس طرح کے اور اسباب معیشت اور کاروبار اور روز گار کے حصول کے لیے ملازمین کو رکھتا ہے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ جو تمام کائنات کا مالک ہے اس کو اپنے بندوں سے کسی قسم کے بھی کام یا فائدے کے حصول کی ضرورت نہیں ہے ‘ اس لیے اس کا منشاء یہ ہے کہ اے میرے بندو ! تم ان کاموں کو اختیار کرو اور انامور میں مشغول رہو جو تمہاری دنیا اور آخرت میں تمہارے لیے مفید ہوں اور میں یہ نہیں چاہتا کہ تم میرے لیے یا اپنے لیے رزق کی فراہمی میں کوشش کرو ‘ میں تم سے اور تمہاری کاوشوں سے مستغنی ہوں اور میں محض اپنے فضل سے تم کو رزق دیتا ہوں اور تمہیں ان کاموں کی ہدایت دیتا ہوں جو تمہاری دنیا او آخرت کی اصلاح کریں۔ (الکشاف ج ٤ ص ٤٠٩‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

اس آیت کی مزید وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے :

حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے : اے میرے بندو ! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کرلیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کردیا ہے سو تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو ‘ اے میرے بندو ! تم سب گمراہ ہو ‘ سوا اس کے جس کو میں ہدایت دوں ‘ سو تم مجھ سے ہدایت طلب کرو ‘ میں تم کو ہدایت دوں گا ‘ اے میرے بندو ! تم سب بھوکے ہو ‘ سوا اس کے جس کو میں کھانا کھلائوں ‘ اے میرے بندو ! تم سب برہنہ ہو ‘ سوا اس کے جس کو میں کپڑے پہنائوں ‘ اے میرے بندو ! تم رات اور دن گناہ کرتے ہو اور میں تمہارے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہوں ‘ تم مجھ سے مغفرت طلب کرو ‘ میں تمہاری مغفرت کروں گا ‘ اے میرے بندو ! تم مجھے ضرر پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتے کہ تم مجھے ضرر پہنچا سکو اور نہ تم مجھے نفع پہنچانے کی طاقت رکھتے ہو کہ تم مجھے نفع پہنچا سکو ‘ اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جنات اگر تم میں سب سے زیادہ متقی شخص کے دل کی طرح ہوجائیں تو اس سے میرے ملک میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا ‘ اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جنات اگر تم میں سب سے زیادہ بدکار شخص کے دل کی طرح ہوجائیں تو اس سے میرے ملک میں کوئی کمی نہیں ہوگی ‘ اے میرے بندو ! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور تمہارے جنات کسی ایک میدان میں کھڑے ہو کر سب مل کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورا کردوں تو میرے پاس جو خزانہ ہے اس میں صرف ایسی کمی ہوگی جیسے کوئی شخص سوئی کو سمندر میں ڈبو کر نکال لے ‘ ایمیرے بندو ! یہ صرف تمہارے اعمال ہیں جن کو میں تمہارے لیے شمار کرتا ہوں ‘ پھر میں تمہیں ان اعمال کی پوری پوری جزاء دوں گا ‘ پس جو شخص کسی خیر کو پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو شخص اس کے سوا کوئی چیز پائے وہ صرف اپنے نفس کو ملامت کرے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٧٧)

القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 57