أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِۙ ۞

ترجمہ:

اور بیت المعمور کی قسم

تفسیر:

الطور : ٤ میں فرمایا : اور بیت المعمور کی قسم۔

” البیت المعمور “ کا معنی اور اس کی تاریخ

قاضی عبد اللہ بن عمر بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ اور ان کے شارخ علامہ احمد خفا جی متوفی ١٠٦٩ ھ اور علامہ اسماعیل بن محمد قونوی متوفی ١١٩٥ ھ ” البیت المعمور “ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

” البیت المعمور “ کالفظی معنی ہے : آباد شدہ گھر ‘ اس سے مراد کعبہ ہے ‘ کیونکہ لوگ اس کا قصد کرتے ہیں اور حج کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں نے اس کو آباد کیا ہے۔ قاضی بیضاوی نے سورة توبہ میں یہ حدیث ذکر کی ہے : زمین میں میرے گھر مساجد ہیں اور ان کی زیارت کرنے والے ان کو آباد کرنے والے ہیں ‘ اور اس کو آباد کرنے سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ اس کو قندیلوں اور فرش سے مزین کیا جائے۔

حضرت انس (رض) نے فرمایا :” البیت المعمور “ ساتویں آسمان میں ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوت ہیں اور جو فرشتہ ایک بار داخل ہوتا ہے وہ دوبارہ قیامت تک نہیں داخل ہوتا۔ (المستدرک ج ٢ ص ٤٦٨ )

امام حاکم نے کہا : یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے اور انہوں نے اس کو روایت نہیں کیا اور ذہبی نے انکی موافقت کی ہے۔ اور یہ بات صحیح اور ثابت ہے کہ ہر آسمان میں زمین کے کعبہ کے مقابل ایک بیت ہے۔

حضرت ابن عباس نے فرمایا :” البیت المعمور “ آسمان میں ہے اس کو ” الضراح “ (دور اور بلند) کہتے ہیں ‘ یہ ” بیت الحرام “ کی مثل اور اس کی سیدھ میں ہے ‘ اگر وہ اوپر سے گرے تو کعبہ کے اوپر گرے گا اس میں ہر روز ایسے ستر فرشتے داخل ہوتے ہیں جنہوں نے اس سے پہلے اس کو نہیں دیکھا اور اس کی آسمان میں ایسی حرمت ہے جیسی مکہ کی حرمت ہے۔ (المعجم الکبیر الحدیث : ١٢١٨٥‘ حافظ الہیشمی نے کہا : اس کی سند میں ایک راوی ہے اسحاق بن بشر ابو حذیفہ وہ متروک الحدیث ہے۔ مجمع الزوائد ج ٧ ص ١١٤‘ دارالکتاب العرابی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

قاضی بیضاوی نے آل عمران کی تفسیر میں کہا ہے کہ ” البیت المعمور “ کعبہ کی جگہ پر تھا اس کا نام ” الضراح “ تھا ‘ فرشتے اس کا طواف کرتے تھے ‘ جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا گیا تو ان کو حکم دیا گیا کہ اس کا حج (قصد) کریں اور اس کا طواف کریں اور جب طوفان نوح آیا تو اس کو چو تھے آسمان پر اٹھا لیا گیا اور وہاں فرشتے اس کا طواف کرتے تھے ‘ اور حدیث صحیح میں مذکور ہے کہ ” البیت المعمور “ ساتویں آسمان میں ہے یہ اس کے منافی نہیں ہے ‘ کیونکہ یہ ثابت ہے کہ ہر آسمان میں کعبہ کے مقابل ایک بیت ہے اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ میں جو کعبہ کی جگہ ” البیت المعمور “ تھا اس کو حضرت آدم علیہالسلام کی وفات کے بعد آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا اور وہ چوتھے آسمان میں ہے ‘ اسی طرح امام ازرقی نے ” تاریخ مکہ “ میں لکھا ہے ‘ لیکن یہ عبارت قاضی بیضاوی کی اس تحریر کے خلاف ہے کہ ” البیت المعمور “ تھا اس کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی وفات کے بعد آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا اور وہ چوتھے آسمان میں ہے ‘ اسی طرح امام ازرقی نے ” تاریخ مکہ “ میں لکھا ہے ‘ لیکن یہ عبارت قاضی بیضاوی کی اس تحریر کے خلاف ہے کہ ” البیت المعمور “ کو طوفان نوح کے وقت چوتھے آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا تھا ‘ اور ہوسکتا ہے کہ یہ کوئی اور روایت ہو نیز ” البیت المعمور “ بھی متعدد ہیں۔ (عنایۃ القاضی ج ٨ ص ٦٠٦‘ حاثیۃ القونوی علی البیضاوی ج ١٨ ص ٢٣٨‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٢٢ ھ)

” البیت المعمور “ کے مصداق اور اس کے مقام کے متعلق احادیث ‘ آثار اور مفسرین کے اقوال

علامہ ابو عبد اللہ محدم بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ ” البیت المعمور “ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

الماوردی نے بیان کیا ہے کہ ” البیت المعمور “ چوتھے آسمان میں ہے ‘ کیونکہ حدیث میں ہے :

حضرت انس بن مالک (رض) ‘ حضرت مالک بن صعصہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے چوتھے آسمان میں لے جایا گیا سو ہمارے لیے ” البیت المعمور “ کو بلند کیا گیا پس وہ کعبہ کی سیدھ میں تھا اگر وہ گرے تو کعبہ پر گرے گا ‘ اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور جب وہ اس سے نکل آئیں تو پھر دوبارہ داخل نہیں ہوتے۔ (النکت والعیون ج ٥ ص ٣٧٧‘ دارالکتب العمیہ ‘ بیروت)

القشیری نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ” البیت المعمور “ آسمان دنیا میں ہے۔

ابو بکر الا نباری نے کہا : ابن الکواء نے حضرت علی (رض) سے سوال کیا کہ ” البیت المعمور “ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : وہ سات آسمانوں کے اوپر اور عرش کے نیچے ایک بیت (گھر) ہے ’ اس کو ” الضرح “ کہا جاتا ہے ‘” الضراح “ آسمان میں ایک گھر ہے اور وہی ” البیت المعمور “ ہے ‘ اسکے معمور (آباد) ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس کو فرشتوں نے بھر رکھا ہے۔

الہدوی نے کہا :” البیت المعمور “ عرش کے موازی اور محاذی ہے اور دد صحیح مسلم “ میں حضرت مالک بن صعصہ سے معراج کی حدیث میں روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر میرے لیے ” البیت المعمور “ بلند کیا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٤) اور حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے ‘ جب میں ساتویں آسمان پر پہنچا تو وہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی انہوں نے ” البیت المعمور “ کی طرف اپنی پشت سے ٹیک لگائی ہوئی تھی اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں اور دبوبارہ نہیں آتے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٢ )

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : آسمانوں اور زمینوں میں اللہ تعالیٰ کے پندرہ بیت ہیں ‘ سات آسمانوں میں ہیں اور سات زمینوں میں ہیں اور کعبہ ہے اور یہ تمام بیت کعبہ کے بالمقابل ہیں۔

حسن بصری نے کہا :” البیت المعمور “ کعبہ ہے اور یہ ” البیت الحرام “ ہے جو لوگوں سے آباد ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس میں ہر سال چھ لاکھ آدمی بھر دیتا ہے اور اگر لوگ کم ہوں تو اللہ تعالیٰ اس کمی کو فرشتوں سے پوری کردیتا ہے اور یہ وہ پہلا بیت (گھر) ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے عبادت کے لیے زمین پر رکھا۔

(گھر) ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے عبادت کے لیے زمین پر رکھا۔

الربیع بن انس نے کہا : حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ میں ” البیت المعمور “ کعبہ کی جگہ پر تھا ‘ پھر جب حضرت نوح (علیہ السلام) کا زمانہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس کا حج کرنے کا حکم دیا ‘ سو لوگوں نے اس کا انکار کیا اور نافرمانی کی پھر جب طوفانی لہریں بلند ہوئیں تو ” البیت المعمور “ کو زمین سے اٹھا کر آسمان دنیا پر اسی کی مقابل جگہ پر رکھ دیا گیا ‘ پھر ہر روز ستر ہزار فرشتے اس کو آباد کرتے ہیں پھر وہ اس میں دوبارہ نہیں آئیں گے حتی کہ صور پھونک دیا جائے گا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ” البیت المعمور “ کی جگہ کعبہ کو گھر بنادیا ‘ قرآن مجید میں ہے :

واذ بوا نا لابرھیم مکان البیت ان لا تشرک بی شیئا وطھر بیتی للطآئفین والرکع السجود۔ (الحج : ٢٦) اور جب ہم نے ابراہیم کے لیے البیت (عبادت کا گھر) بنانے کی جگہ مقرر کردی کہ تم میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا او میرے گھر کو طواف کرنے والوں کے لیے اور قیام کرنے والوں کے لیے اور رکوع کرنے والوں کے لیے سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھنا۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ طوفان نوح کی ویرانی کے بعد سب سے پہلے کعبہ کی تعمیر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھی ارشاد ہے کہ سب سے پہلی مسجد جو زمین پر بنائی گئی وہ مسجد حرام ہے۔ الحدیث (مسند احمد ج ٥ ص ١٥٠) ( الجامع لاحکام القرآن جز ١٧ ص ٥٨‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 52 الطور آیت نمبر 4