أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍۙ ۞

ترجمہ:

اور کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے

” کتاب مسطور “ کے معانی اور مصادیق

الطور : ٢ میں فرمایا : اور اس کتاب کی قسم جو لکھی ہوئی ہے۔

اس سے مراد قرآن مجید ہے جس کو مئومنین مصاحف میں سے پڑھتے ہیں اور فرشتے اس کو لوح محفوظ سے پڑھتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

انہ لقران کریم۔ فی کتب تکنون۔ (الواقعہ :77-78) (بےشک یہ قرآن بہت عزت والا ہے۔ جو معزز کتاب میں درج ہے۔ )

بعض مفسرین نے کہا :” کتاب مسطور “ سے مراد تمام وہ کتابیں ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہوئی ہیں اور ہر کتاب باریک کھال یا جھلی کے کھلے ہوئے ورق میں تھی، جس سے حاملین کتب اس کو پڑھتے تے۔

کلبی نے کہا : اس کتاب سے مراد ” تورات “ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے لکھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قلم کی آواز سن رہے تھے۔

فراء نے کہا : اس سے مراد لوگوں کے صحائف اعمال ہیں بعض وہ ہیں جو اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے صحیفہ اعمال پکڑے ہوئے ہوتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو اپنے بائیں ہاتھ سے اپنا صحیفہ اعمال پکڑے ہوئے ہوں گے، قرآن مجید میں ہے :

(بنی اسرائیل :13-14) اور ہم قیامت کے دن ہر انسان کے سامنے اس کا صحیفہ اعمال نکالیں گے جس کو وہ اپنے سامنے کھلا ہوا پائے گا۔ لے آج خود ہی اپنا اعمال نامہ پڑھ لے اپنا محاسبہ کرنے کے لئے آج تو خود ہی کافی ہے۔

نیز فرمایا :

واذا الصحف نشرت۔ (التکویر : ٠١) اور جب صحائف اعمال کھول دیئے جائیں گے۔

موت کے وقت صحائف اعمال لپی ٹدیئے جاتے ہیں، پھر قیامت کے دن حساب کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں، جنہیں ہر شخص دیکھ لے گا اور از خود ڑھ کر اپنا محاسبہ کرے گا۔

ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آسمان میں فرشتوں کے لئے لکھ دیا ہے، وہ اس کتاب میں پڑھتے ہیں جو کچھ ہوچکا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کامل مئومنین اور اولیاء اللہ کے دلوں میں لکھ دیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے :

(المجادلہ : ٢٢) یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان کو لکھ دیا ہے۔

کیونکہ قرآن مجید کی زیر تفسیر آیت میں ہے : ہر کتاب باریک کھال یا جھلی کے کھلے ہوئے ورق میں تھی، یعنی ورق میں لکھنے کا ذکر ہے، مذکور الصدر آیت میں دل میں لکھنے کا ذکر ہے تو اس آیت میں قلب کو مجازاً ورق پر محمول کرنا پڑے گا۔

جو مرتب حروف لکھے ہوئے ہوں ا کو سطر کہا جاتا ہے، یعنی وہ کتاب جو باریک یا کھال میں لکھی ہوئی ہے۔

یہ تمام اقوال مرجوع اور غیر معتبر ہیں، صحح بات یہی ہے کہ ” کتاب مسطور “ سے مراد قرآن مجید ہے جیسا کہ انشاء اللہ ہم عنقریب دلائل سے واضح کریں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 52 الطور آیت نمبر 2