أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡ كُلِّ شَىۡءٍ خَلَقۡنَا زَوۡجَيۡنِ لَعَلَّكُمۡ تَذَكَّرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ہر چیز سے جوڑے جوڑے بنائے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو

الذریت : ٤٩ میں فرمایا : اور ہم نے ہر چیز سے جوڑے بنائے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا جوڑا بنایا اور اس کا کوئی جوڑا نہیں

ابن زید نے کہا : اس کا معنی ہے : ہم نے ہر چیز کی دو مختلف صنفیں بنائیں جیسے انسان کی دو صنفیں ہیں : مذکر اور مؤنث اور پھلوں کی دو صنفیں ہیں : میٹھے اور کھٹے۔

مجاہد نے کہا : دو صنفیں جیسے مذکر اور مؤنث ‘ سورج اور چاند ‘ رات اور دن ‘ نور اور ظلمت ‘ میدان اور پہاڑ ‘ جنات اور انسان ‘ خیر اور شر ‘ صبح اور شام اسی طرح مختلف ذائقوں کے پھل ‘ مختلف رنگوں کے پھول اور مختلف خوشبوئیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی دو مختلف صنفیں بنائیں تاکہ تم کو معلوم ہوجائے کہ چیزوں کا خالق زوج نہیں ہے فرد ہے اور اس کی صفات دو مختلف صنفوں پر مشتمل نہیں ہیں کہ اس میں حرکت اور سکون ہو یا روشنی اور اندھیرا ہو یا اٹھنا اور بیٹھنا ہو یا ابتداء اور انتہاء ہو ‘ سو اس کی صفات میں تضاد نہیں ہے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ رؤف و رحیم بھی ہے اور قہار اور جبار بھی ہے اور ان صفات میں تضاد ہے ‘ اسی طرح وہ مارتا بھی ہے اور زندہ بھی کرتا ہے اور ان صفات میں بھی تضاد ہے ‘ وہ رزق تنگ بھی کرتا ہے اور کشادہ بھی کرتا ہے اور ان صفات میں بھی تضاد ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تضاد ان دو صفات میں ہوتا ہے جو بیک وقت ایک محل میں جمع نہ ہوسکیں ‘ جیسے سفید اور سیاہ ایک کپڑا بیک وقت سفید اور سیاہ نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ بیک وقت رحیم اور قہار ہے اور بیک وقت مارتا ہے اور جلاتا ہے ‘ بیمار کرتا ہے اور شفا دیتا ہے ‘ رزق تنگ کرتا ہے اور کشادہ کرتا ہے۔

پھر فرمایا : تاکہ تم نصیحت حاصل کرو ‘ یعنی تم غور اور فکر کر کے یہ جان لو کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہر چیز جوڑے بنائے تو اس کا کوئی جوڑا نہیں ہے کیونکہ اگر اس کا بھی کوئی جوڑا ہوتا اور ہر جوڑا مخلوق ہے تو وہ بھی مخلوق ہوتا خالق نہ ہوتا۔

القرآن – سورۃ نمبر 51 الذاريات آیت نمبر 49