أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الَّذِيۡنَ هُمۡ فِىۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَ‌ۘ ۞

ترجمہ:

جو بےہودہ مشغلہ میں کھیل رہے ہیں

کفار کے عذاب کے احوال

الطور : ١٢- ١١ میں فرمایا : اس دن مکذبین کے لیے عذاب ہوگا۔ جو بےہودہ مشغلہ میں کھیل رہے ہیں۔

اس آیت کے شروع میں ” ویل “ کا لفظ ہے ‘ جو شخص عذاب میں ہلاک ہونے والا ہو ‘ اس کے لیے ” ویل “ کا لفظ کہا جاتا ہے۔

نیز فرمایا : وہ کھیل رہے ہیں ‘ یعنی وہ باطل کام میں تردد کر رہے ہیں اور ان کا تردد اور تفکر سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی تکذیب میں غور و فکر کرنا ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ وہ دنیا کی رنگینیوں اور اللہ کی عبادت اور اس کی یاد سے غافل کرنے والی چیزوں میں مشغول ہیں اور وہ قیامت کے دن کی پرسش اعمال اور حساب و کتاب اور جزاء اور سزا کو یاد نہیں کرتے۔

القرآن – سورۃ نمبر 52 الطور آیت نمبر 12