علمائے اھل سنت سندھ وبلوچستان کے نام ایک درد مند پیغام ۔

۔

کسی فارسی شاعر نے کہا تھا !

” مَنْ اَزْ بیگانگاں ھرگِزْ نہ نالَمْ

کہ بامَنْ ھرچہ کَرْد آں آشنا کرد “

۔

علمائے ذی احتشام! السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

تاجدارِ ختم نبوت ،محبوبِ خدا حضرت محمّد مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے “مَنْ یُّرِدِاللّٰہُ بِہ خَیْرا یُفَقّھْہ فی الدین ” اللہ پاک جس سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھداری عطافرماتا ہے ۔

۔

فقیہِ ہند، نعمانِ ثانی امام اھل سنت مولانا شاہ احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے متقدّمین اور متاخّرین کی اقوال کو جمع فرماکر فقہ کی تعریف کی کہ مقاصدِ شرع کا اداراک فقہ ہے ۔جو جس قدر مقاصد شرع کوجتنا زیادہ جانتا ہے وہ اتنا ہی بڑا فقیہ ہے ۔

۔

ہم سوادِ اعظم اھل سنت وجماعت کہلاتے ہیں ۔ہر زمانہ میں جب جب کچھ لوگوں نے جماعت کے پردے میں رہ کر سواد اعظم اھل سنت وجماعت کے عقائد کو خراب کرنے کی کوشش کی تب تب اُس وقت کے علمائے اھل سنت نے عقائدِ حقہ کی ہرممکن حفاظت کی اور عوام اھل سنت کو بھیڑیوں سے بچایا ۔ماضی قریب میں جب تقویۃ الایمان، صراط مستقیم اور براہین قاطعہ جیسی کتابیں لکھ بعض لوگوں نے اھل سنت کا جگر چاک کرکے سینہ چھلنی کرنے کی کوشش کی ،جب اثرِ ابنِ عباس کا سہارا لےکر عقیدہ ختمِ نبوت پر حملہ کیا گیا تو اللہ پاک نے فاضلِ بریلوی جیسی قدآور علمی شخصیت کو پیدا کردیا جو اِن فتنوں کے سامنے سینہ سپر ہوکر میدانِ عمل میں آئے اور ایمان کُشْ یلغار کے سامنے سدِ سکندری بن گئے ۔امام اھل سنت صدری قوت ،جوشِ ایمانی اور عشق نبوی صلی الله عليه و آلہ وسلم کی دولت سے سرشار تھے ۔

۔

وادئ مہران سندھ میں بدمذہیبت کی تبلیغ واشاعت کرنے والے سب سے پہلے شخص تاج محمد امروٹی تھے ۔انگریزوں کے دور میں جب بدمذہبوں نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر مسلمان پر ہجرت واجب قرار دیا تو سندھ میں ہجرت کی تحریک چلانے والے تاج محمد امروٹی ہی تھے ۔ہزاروں سندھی مسلمانوں نے تاج محمد امروٹی کے بےمحل فتویٰ کی وجہ سے اپنے جائیداد اونے پونے داموں بیچ کر افغانستان کی طرف ہجرت کی،سفر کی صعوبتیں برداشت کیں۔ افغانستان میں تو اُنہیں ٹھکانہ نہیں ملا مزید مصیبت اپنے جائیدادوں کی رقم سے بھی محروم ہو گئے ۔دین مکر کے ساتھ روٹی گھی شکر کے ساتھ یہ بدمذہبوں کا پرانا نعرہ ہے ۔

ہمارے اکابرین نے جن بدمذہبوں کے ساتھ مناظرے کئے ،رافضیوں کی حقیقت سے عوامِ اھل سنت کو آگاہ کیا آج ہماری جماعت کے کچھ لوگ بدمذہبوں ،رافضیوں کے ہمنواؤں کی بولیاں بول رہے ہیں ،خندہ پیشانی سے اُن کا استقبال کررہے ہیں ۔

۔

سندھ میں ہر دوسرا پیر غوثِ زماں ہے ایسے ہی ایک پیر نے تین سال پہلے ایک جلسے میں کہا تھا” امروٹی اچھا بندہ تھا میرے ابا امروٹی سے بیعت تھے ” سندھ کے اور آنجہانی پیر نے کفریہ الفاظ سے بھرپور ایک خطبہ بنام خطباتِ اِلٰہی رموزاتِ شہنشاہی میں خدا کی توحید وقدرت بیان کرتے ہوئے لکھا کہ اللہ پاک جس منافق کو چاہے نبی بنائے اور جس نبی کو چاہے منافق بنادے ۔معاذاللہ ۔۔۔۔۔۔۔

۔

اسلامی عقائد کے مطابق تو نبی قبلِ نبوت اور بعدِ نبوت صغائر وکبائر سے پاک ہوتے ہیں ،نبی سے منصبِ نبوت کے زوال ہونے کو جائز ماننا کفر ہے لیکن اُس پیر کا بیٹا اپنے ابا کی قبر پر مزار بنوائے بیٹھا ہے ،ہر سال عرس بھی مناتا ہے بتائیے اگر امروٹی کو اچھا کہنے والا پیر صحیح ہے ، خطبہ میں کفریہ اشعار لکھنے والے پیر کا مزار اور عُرس منایا جاسکتا ہے تو پھر سُنّی غیر سُنّی اختلاف کا کیا مطلب ہوا ؟۔

۔

ضروریاتِ دینیہ کا انکار بدمذہب کرے تو غلط اگر عرس منانے والا وہی غلطی کرے تو صحیح ۔۔۔یہ سب کیا ہے ؟۔

۔

شارع نے جس وجہ سے ضروریات دینیہ کے انکار کرنے والے کو بےایمان کہا ہے کیا وہ وجہ یہاں نہیں پائ جارہی کہ اِن پیروں کی غلطیوں سے صرفِ نظر کیا جارہا ؟

۔

شیعوں سے ہمارا اختلاف اصولی ہے جس بنیاد پر شیعہ سُنّی میں تفریق پائ جارہی ہے یہی وجہ اگر اپنے کسی بندے میں پائ جائے تو تفریق کس بناپر نہیں کی جاتی ؟ ۔

۔

رانی پور سندھ میں جن لوگوں نے حنیف قریشی اور ریاض شاہ کا کھلے دل سے استقبال کیا ،یاجن پیروں نے عرفان شاہ مشھدی کی کھلے الفاظ میں تعریف کی کیا اُن کو نہیں پتا کہ عرفان شاہ عبدالقادر ٹچ بھاٹوی اور محمود شاہ حویلیاں والے کو اچھا کہہ چکا ہے اگر رافضی صحابہ کرام علیھم الرضوان کو سب وشتم کریں تو غلط اور محمود شاہ آنجہانی ، عبدالقادر ٹچ بھاٹوی ،حنیف قریشی ،ریاض شاہ صحابہ کرام علیھم الرضوان کو سب وشتم کریں تو صحیح کیوں ہیں؟ ۔کیوں سندھ کے پیر اِن روافض کا استقبال کررہے ہیں اُن کی تعریفیں کررہے ہیں؟ ۔

۔

اگر سندھ کا پیروں کا یہ طرزِ عمل صحیح ہے تو پھر آئیے بدمذہبوں اور روافض کو بھی گلے لگاتے ہیں کیونکہ جو غلطیاں روافض اور بدمذہبوں نے کیں وہی غلطیاں عرفان شاہ اینڈ کمپنی بھی کررہے ہیں تو اگر اُنہیں گلے نہیں لگاسکتے تو پھر اِن پیروں کی اصلاح کی کوئ صورت نکالئے ۔

.

کیا ہم نے مدارس میں رہ کر ،دین کی خدمت کے نام پر لوگوں کے زکٰوۃ، فطرے ،صدقات دس دس سال تک اِس لیے کھائے کہ بےدینی اور بدمذہبی کو پروان چڑھانے والے بےعلم پیروں کی غلطیوں سے صرفِ نظر کریں ۔

۔

کیا امامِ اھل سنت سے تجدید وفا کا اب یہ تقاضا رہ گیا کہ جماعت کے اصولوں سے منحرف ہونے والے پیروں کی رعایت کرتے رہیں ،اُنہیں اُن کی غلطیوں سے آگاہ نہ کریں ؟ صرف عرس ،میلاد منانے کی وجہ بے علم پیروں کو سُنّی سمجھ کر بدمذھبیاں وبدعات پھیلانے دیں ۔

۔

بدمذہبوں نے اِنہی بے علم پیروں کی بدعات ،خرافات کی وجہ سے میرے امام کو بدنام کیا ،اِنہی کی وجہ سنجیدہ مزاج لوگ سُنّیت سے دور بدمذیبیت کے قریب ہوئے کیا اِن پیروں کو شریعت کی لگام دینے والا کوئ نہیں ہے ؟

۔

ہمارے اکابرین میں سے امام دارالہجرہ امام مالک رضی الله عنہ تو یہ فرما گئے ” کل یوخذ عنہ ویرد علیہ الا صاحب ھذالقبر” سوائے اِس صاحبِ مزار یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہر شخص کی بات قبول بھی کی جاسکتی ہے اور رد بھی لیکن جھالت کو پروان چڑھانے والے پیروں نے ایسا جتھہ بنالیا کہ اب اُن کی خرافات کا رد کرنا ہم سب کو مشکل لگ رہا ۔

کئ نام نہاد علماء اِن جاھل پیروں کے آگے ماتھے رگڑ رہے ہیں ،صرف جلسہ کامیاب ہو اِس لیے اپنے جلسوں میں بدعقیدگی پھیلانے والے پیروں کو صدرِ جلسہ بنارہے ہیں کیا یہ کھلم شرعی احکامات کی خلاف ورزی نہیں ہے ؟

۔

کوئ صاحب ہمیں بھی سمجھائے تاکہ ہم بھی چپ بیٹھ جائیں ۔جواب کا منتظر ابوحاتم

23/11/2021/