أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ فِىۡ جَنّٰتٍ وَّنَعِيۡمٍۙ ۞

ترجمہ:

بیشک متقین جنتوں اور نعمتوں میں ہوں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک متقین جنتوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔ اپنے رب کی عطا کردہ تعمتوں سے خوش ہو رہے ہوں گے اور ان کا رب انہیں دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھے گا۔ (ان سے کہا جائے گا :) خوشی سے کھائو اور پیو ‘ یہ ان نیک کاموں کی جزاء ہے جو تم کرتے تھے۔ وہ صف بہ صف تختوں پر ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے ہم ان کا نکاح کشادہ چشم گوری عورتوں سے کردیں گے۔ (الطور : ٢٠- ١٧)

متقین کے درجات

اس سے پہلی آیتوں میں کفار کی آخرت کے احوال بیان فرمائے تھے اور اس آیت میں مئومنین اور متقین کی آخرت کے احوال بیان فرمائے ہیں اور عتاب کے بعد ثواب کا ذکر فرمایا ہے تاکہ ترہیب کے بعدتر غیب اور خوف کے بعد رجاء کا امر مکمل ہوجائے ‘ متقین کا پہلا درجہ یہ ہے کہ وہ کفر اور شرک کر ترک کرنے والے ہوں ‘ چوتھا درجہ یہ ہے کہ وہ مکروئہ تنز یہی اور خلاف اولیٰ کاموں کر ترک کرنے والے ہوں اور پانچواں درجہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں اس طرح منہمک اور مستغرق ہوں کہ اس کے ماسوا کر ترک کردیں اور تمام نیک کاموں کو اس کی اور اس کے رسول معظم کی محبت میں ڈوب کر کریں اور جنت ہرچند کہ عیش اور سرور کی جگہ ہے لیکن باغ میں رہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ باغ کی نعمتوں اور لذتوں سے فیض یاب بھی ہو کیونکہ باغ کا محافظ بھی باغ میں ہوتا ہے لیکن وہ باغ کی نعمتوں سے بہرہ اندوز نہیں ہوتا ‘ اس لیے فرمایا کہ متقین جنتوں اور نعمتوں میں ہون گے یعنی جنت کی نعمتوں سے لذت حاصل کر رہے ہوں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 52 الطور آیت نمبر 17