أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَاتَّبَعَتۡهُمۡ ذُرِّيَّتُهُمۡ بِاِيۡمَانٍ اَلۡحَـقۡنَا بِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَمَاۤ اَلَـتۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَمَلِهِمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ‌ؕ كُلُّ امۡرِیءٍۢ بِمَا كَسَبَ رَهِيۡنٌ ۞

ترجمہ:

اور ایمان والوں کو اور ان کی اس اولاد کو جس نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اس اولاد کو بھی ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ہم ایمان والوں کے عمل سے کوئی کمی نہیں کریں گے ہر شخص اپنے اعمال کے عوض گروی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ایمان والوں کو اور ان کی اس اولاد کو جس نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اس اولاد کو بھی ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ہم ایمان والوں کے عمل سے کوئی کمی نہیں کریں گے ‘ ہر شخص اپنے اعمال کے ساتھ گروی ہے۔ اور ہم ان کو ایسے پھل اور گوشت مسلسل عطا کرتے رہیں گے جن کو وہ طلب کریں گے۔ وہ جنت میں شراب کے جام کے لیے ایک دوسرے پر جھپٹ رہے ہوں گے جس میں نہ کوئی بےہودگی ہوگی اور نہ کوئی گناہ۔ ان کے خدام ان کے گرد پھر رہے ہوں گے گویا کہ وہ پوشیدہ موتی ہیں۔ (الطور : ٢٤-١٢)

مئومنوں کے ایمان کی وجہ سے ان کی نابالغ اولاد کو جنت میں داخل کرنے کے متعلق۔۔۔۔۔ احادیث ‘ آثار اور اقوال تابعین

حضرت ابن عباس (رض) سے الطور : ٢١ کے معنی میں چار روایات ہیں :

(١) النحاس نے ” الناسخ و المنسوخ “ میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ مئومن کی اولاد کو اس کے ساتھ جنت کے درجہ میں بلنع کرے گا ‘ خواہ مومن کی اولاد کا عمل اس سے کم ہوتا کہ اولاد کو اپنے ساتھ جنت میں دیکھ کر مئومن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ‘ پھر حضرت ابن عباس نے اس آیت کی تلاوت کی۔

(٢) سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ عزوجل مئومن کی اولاد کو مومن کے ساتھ اس کے درجہ میں بلند فرمائے گا خواہ اس کی اولاد کا عمل اس کے برابرنہ ہوتا کہ اولاد کی وجہ سے مومن کی آنکھیں ٹھنذی ہوں ‘ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ (مسند البزاررقم الحدیث : ٢٢٦٠‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٣٢٣٤٢-٣٢٣٤٠-٣٢٣٣٩-٣٢٣٣٨)

ابو جعفر نے کہا : یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مرفوع روایت ہے اور اسی طرح واجب ہے ‘ کیونکہ حضرت ابن عباس اس کو صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہی روایت کرسکتے ہیں کیونکہ اس حدیث میں اللہ عزوجل کے فعل کی خبر دی ہے۔

زمخشری نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ مئومنوں کے لیے انواع و اقسام کی خوشیاں جمع کر دے گا ‘ مئومنین خود کا میاب ہو کر جنت میں پہنچیں گے ‘ پھر ان کا کشادہ چشم حوروں سے نکاح کردیا جائے گا اور جنت میں وہ اپنے دیگر مئومن بھائیوں سے مانوس ہوں گے اور ان کی اولاد بھی ان کے ساتھ جنت کے اسی درجہ میں ہوگی۔

المہدوی نے کہا : حضرت ابن عباس (رض) سے یہ بھی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ مئومن کے ساتھ اس کی نابالغ اولاد کو مالا دے گا۔

ذریت کا اطلاق چھوٹی اور بڑی اولاد دونوں پر ہوتا ہے ‘ اگر ذریت سے مراد یہاں نابالغ اولاد ہو تو ” بایمان “ دونوں مفعولوں سے حال ہوگا اور اس کا وہی معنی ہوگا جو ہم پہلے کرچکے ہیں اور اگر ذریت سے مرادبڑی اولاد ہو تو ” بایمان “ دونوں فاعلوں سے حال ہوگا اور اس کا معنی ہوگا کہ مئومنوں کی جو اولاد ایمان لانے میں ان کی پیروی کرے گی وہ ان کے ساتھ جنت میں ہوگی۔

(٣) حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : اس آیت میں ایمان والوں سے مراد مہاجرین اور انصار ہیں اور ذریت سے مراد تابعین ہیں ‘ اور ان سے ایک اور روایت یہ ہے کہ اگر آباء کا درجہ بلند ہو تو اللہ تعالیٰ ابناء کو آباء کے درجہ میں رکھ دے گا اور اگر ابناء کا درجہ زیادہ بلند ہو تو اللہ تعالیٰ آباء کو ابناء کے درجہ میں رکھ دے گا ‘ پھر آباء ذریت کے لفظ میں داخل ہوجائیں گے جیسا کہ اس آیت میں آباء ذریت میں داخل ہیں :

وایتہ لہم انا حملنا ذریتھم فی الفلک المشحون۔ (یٰس : ٤١) اور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کے آباء کو (یعنی نسل انسانی کے آباء کو) بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔

(٤) حضرت ابن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا : جب اہل جنت ‘ جنت میں داخل ہوجائیں گے تو ان میں سے ایک شخص اپنے ماں باپ ‘ اپنی بیوی اور اپنی اولاد کے متعلق سوال کرے گا ‘ تو اس سے کہا جائے گا : انہوں نے وہ درجہ نہیں پایا جو تمہیں حاصل ہے ‘ پس وہ کہے گا : اے میرے رب ! میں نے اپنے لیے بھی عمل کیا ہے اور ان کے لیے بھی عمل کیا ہے ‘ پھر یہ حکم دیا جائے گا کہ ان کو اس کے درجے کے ساتھ ملا دیا جائے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٢٢٤٨‘ المعجم الصغیر رقم الحدیث : ٦٤٠‘ حافظ الہیثمی نے کہا : اس حدیث کی سند میں محمد بن عبدالرحمان بن غزوان ‘ ضیعف راوی ہے۔ )

حضرت ام المئومنین خدیجہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے والدین کے متعلق سوال کیا جو زمانئہ جاہلیت میں فوت ہوگئے تھے آپ نے فرمایا : وہ دونوں دوزخ میں ہیں ‘ جب آپ نے میرے چہرے پر ناگواری کے اثرات دیکھے تو فرمایا : اگر تم ان کی جگہ دیکھ لو تو تم ان سے بغض رکھو گی ‘ انہوں نے سوال کیا : میری جو اولاد آپ سے ہوئی ہے ؟ فرمایا : وہ جنت میں ہے ‘ پھر فرمایا : بیشک مئومنین اور ان کی اولاد جنت میں ہے اور مشرکین اور ان کی اولاد دوزخ میں ہے ‘ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :

والذین امنو اواتبعتہم ذریتھم بایمان الحقنابہم ذریتہم وما التنہم من عملہم من شیء (الطور : ٢١) اور ایمان والوں کو اور ان کی اس اولاد کو جس نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اس اولاد کو بھی ان کے ساتھ ملادیں گے اور ہم ایمان والوں کے عمل سے کوئی کمی نہیں کریں گے۔ (مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٧٠٧٧‘ المعجم الکبیر ج ١٦ ص ٢٣‘ علامہ ذہبی نے کہا : اس حدیث کی سند منقطع ہے۔ سیر اعلام النبلاء ج ٢ ص ١١٣)

یعنی ہم اولاد کی عمر کم ہونے کی وجہ سے ان کے اعمال کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کریں گے اور نہ اولاد کو آباء کے ساتھ ملانے کی وجہ سے آباء کے اعمال کے ثواب میں کوئی کمی کریں گے اور ” ھم “ کی ضمیر ایمان والوں یعنی آباء کی طرف راجع ہے۔

ابن زید نے کہا : اس آیت کا معنی ہے : ہم ایمان والوں کے ساتھ ان کی نابالغ اولاد کو ملا دیں گے جو ابھی عمل کرنے کی عمر کو نہیں پہنچے اور ” ھم “ کی ضمیر ذریت کی طرف راجع ہے۔

اس آیت کے آخر میں فرمایا ‘ ہر شخص اپنے اعمال کے ساتھ گروی ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت اہل دوزخ کی طرف راجع ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : ان کو دکھایا کہ اہل جہنم اپنے اعمال کے ساتھ ہیں اور اہل جنت اپنی نعمتوں کے ساتھ ہیں ‘ اس لیے فرمایا : ہر شخص اپنے اعمال کے ساتھ گروی ہے۔ (الجامع لا حکام القرآن جز ١٧ ص ٦٣ ۔ ٦٢‘ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ )

مئومنوں کی بالغ اور کافر اولاد ان کے ایمان کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہوگی

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

باپ کی شفقت اپنی اولاد پر جس طرح دنیا میں بہت زیادہ ہوتی ہے اسی طرح آخرت میں بھی اس کی شفقت اولاد پر بہت زیادہ ہوگی ‘ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کا دل اس طرح خوش کیا کہ وہ آباء کو جنت میں اولاد سے الگ نہیں کرے گا بلکہ ان کو جنت میں جمع کر دے گا ‘ اگر اس پر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر بیٹا بڑا ہو کر کافر ہوجائے تو پھر باپ کی شفقت کا تقاضا کیوں پورا نہیں ہوتا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ باپ اور بیٹے کا رشتہ ایمان کی وجہ سے قائم ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” انما المومنون اخوۃ “ (الحجرات : ١٠) ۔

مئومنین آپس میں بھائی ہیہں ‘ سو جب بیٹا کفر کو اختیا کرے تو اس کا مسلمان شخص سے ولدیت اور شفقت کا رشتہ منقطع ہوگیا جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا بیٹا جب اسلام نہیں لایا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ تمہارے اہل سے نہیں ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

قال ینوح انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح (ھود : ٤٦) فرمایا : اے نوح ! وہ تمہارے اہل سے نہیں ہے ‘ اس کے اعمال نیک نہیں ہیں۔

اولاد پر شفقت کرنے کی ترغیب

اس آیت میں آباء کے لیے یہ ہدایت ہے کہ وہ اپنی اولاد پر شفقت کو ترک نہ کرے اور یہ بہت بری بات ہے کہ انسان اپنے دوستوں کے ساتھ عیش و عشرت میں وقت گزارے اور اپنے احباب کو خوب کھلائے اور پلائے اور اس کی اولاد فاقے کررہی ہو اور جب کہ انسان جنت میں حوروں کے ساتھ دادعیش دے رہا ہو پھر بھی وہ اپنی اولاد کو اپنی نعمتوں میں شریک کرتا ہے تو اس کو دنیا میں بھی اپنی اولاد کو فراموش نہیں کرنا چاہیے تو اس فاسق شخص کے متعلق تمہارا کیا گمان ہوگا جو اپنے مال کو حرام کاموں اور ناجائز عیاشیوں میں صرف کرے اور اس کی اولاد بھیک مانگ رہی ہو ؟ یہی سجہ ہے کہ جو شخص اپنی اولاد کو حلال مال کا وارث بنائے تو اس کے اس عمل کو صدقہ میں شمار کیا جاتا ہے ‘ اسی وجہ سے بیمار آدمی کو صرف اس کے تہائی مال میں صدقہ اور خیرات کی اجازت دی گئی ہے اور باقی دوتہائی مال کو وارثوں کے لیے چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

دنیاکا دارالاسباب اور آخرت کا دارالمسببات ہونا

نیز اس آیت میں فرمایا : ان کی جس اولاد نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی۔

خواہ مئومنوں کی اولاد نے ان کی مثل نیک کام نہ کیے ہوں ‘ ہم پھر بھی ان کی اولاد کو جنت میں ان کے درجہ میں داخل کردیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مئومنوں کی اولاد کو بغیر نیک اعمال کے اور بغیر کسی سبب ظاہر کے جنت میں داخل کردیا جائے گا جب کہ دنیا میں اعم اور اغلب طور پر بغیر سبب کے کوئی کام نہیں ہوتا ‘ یہی وجہ ہے کہ ہم کو بغیرسبب کے رزق نہیں ملتا ‘ طعام کے حصول کے لیے ہم کو زمین میں ہل چلانا ‘ بیج ڈالنا ‘ کھیت میں پانی ڈالنا اور دیگر اسباب فراہم کرنے پڑتے ہیں تب کہیں جا کر ہم روٹی پکاسکتے ہیں ‘ آسمان سے روٹیاں نہیں برستیں اور جنت میں ہم کو کوئی کام کیے بغیر نہ صرت روٹی ‘ سالن بلکہ اور بھی بہت انواع و اقسام کی کھانے پینے کی نعمتیں ملیں گی ‘ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دنیا دارالاسباب ہے اور آخرت میں ان اسباب کے مسببات مرتب ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ نے اولاد کو ایمان میں اپنے آباء کے تابع کیا ہے اور آباء کو اولاد کے کفر میں ان کے تابع نہیں کیا ‘ اسی وجہ سے اگر کوئی کافر اسلام لے آئے تو اس کی نابالغ اولاد کو بھی مسلمان قرار دیا جاتا ہے اور اگر معاذ اللہ کوئی مسلمان مرتد ہوجائے تو اس کی نابالغ اولاد کو مرتد نہیں قرار دیا جاتا۔

نیز فرمایا ہے : ہم ان مئومنوں کے عمل میں کوئی کمی نہیں کریں گے ‘ یعنی مئومنوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کے کم عملوں پر اپنے فضل سے جو زیادہ اجر عطا فرمایا تھا وہ اسی طرح اپنے حال پر باقی رہے گا اور آباء کے ایمان کی وجہ سے ان کی اولاد کو جنت میں ان کے درجہ میں داخل کرنے سے ان کے عمل اور اس کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

نابالغ اولاد کا بھی اپنے مسلمان ماں باپ کو جنت میں لے جانا اور کسی شخص کو اس کے غیر۔۔۔۔۔ کے عمل سے فائدہ پہنچنا

اس آیت میں فرمایا ہے کہ آباء کے ایمان کی وجہ سے ان کی اولاد کو جنت میں داخل کردیا جائے گا اور احادیث میں یہ بھی ہے کہ نابالغ اولاد کی وجہ سے اس کے ماں باپ کو جنت میں داخل کردیا جائے گا :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس مسلمان کے تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں تو وہ اس مسلمان کو جنت میں داخل کردیں گے یہ اللہ تعالیٰ کی ان بچوں پر رحمت اور اس کا فضل ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٢٤٨‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٠٦٠‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٦٠٣)

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ خواتین نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ آپ ہمیں وعظ کرنے کے لیے ایک دن مقرر کر دیجئے ‘ سو آپ نے ان کو وعظ کیا اور فرمایا : جس عورت کے بھی تین (نابالغ) بچے فوت ہوگئے ‘ وہ اس کے لیے دوزخ سے حجاب ہوجائیں گے ‘ ایک عورت نے کہا : اگر دو ہوں تو ؟ آپ نے فرمایا : دو بھی۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٢٤٩‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٥٨٩٧)

حضرت ابو سعید اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے ‘ حضرت ابوہریرہ نے کہا : وہ بچے بلوغت کو نہ پہنچے ہوں۔ صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٢٥٠‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٦٠٩)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس مسلمان کے بھی تین (نابالغ) بچے فوت ہوں گے وہ دوزخ میں صرف اللہ کی قسم پوری کرنے کے لیے داخل ہوگا ‘ امام بخاری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا ہے : ” وان منکم الا واردھا “ (مریم : ٧١) تم میں سے ہر شخص دوزخ میں داخل ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٢٥١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٦٣٢‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٠٦٠‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ١٨٧٥‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٦٠٣)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ نیک بندے کا جنت میں مرتبہ بلند فرماتا ہے ‘ وہ بندہ عرض کرتا ہے : اے میرے رب ! مجھے یہ مرتبہ کیسے مل گیا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تمہاری اولاد کے استغفار کرنے کی وجہ سے۔

حافظ ابن کثیر نے کہا : یہ حدیث صحیح ہیأ (تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٢٦٦‘ دارالفکر ‘ بیروت) شیخ قنوجی نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ (فتح البیان ج ٦ ص ٤٣٥) (مسند احمد ج ٢ ص ٥٠٩ طبع قدیم ‘ مسند احمد ج ١٦ ص ٣٥٦۔ رقم الحدیث : ١٠٦١٠‘ مئوسستہ الرسالتہ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ ‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٠ ص ٣٩٦۔ ج ٣ ص ٣٨٧‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٦٦٠‘ مسند البز اررقم الحدیث : ٣١٤١‘ المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٥١٠٤‘ سنن بیہقی ج ٧ ص ٧٩-٧٨)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب انسان مرجاتا ہے تو تین چیزوں کے سوا اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے (١) صدقئہ جاریہ (٢) وہ علم جس سے نفع حاصل کیا جائے (٣) اس کی نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٣١‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٨٨٠‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٦٥١‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٧١‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣٧٢)

قرآن مجید کی اس آیت (الطور : ٢١) اور مذکور الصدر احادیث میں یہ بھی دلیل ہے کہ انسان کو اس کے غیر کا عمل بھی فائدہ پہنچاتا ہے اسی وجہ سے مسلمان اپنے رشتہ داروں کو اپنے نیک اعمال کا ثواب پہنچاتے ہیں ‘ اس کی زیادہ تحقیق اور تفصیل ہم انشاء اللہ النجم : ٣٩ میں بیان کریں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 52 الطور آیت نمبر 21