أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَقۡبَلَ بَعۡضُهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ يَّتَسَآءَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور وہ ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے ایک دوسرے کے احوال دریافت کریں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے ایک دوسرے کے احوال دریافت کریں گے۔ وہ کہیں گے : بیشک ہم اس سے پہلے اپنے گھروں میں خوف زدہ رہتے تھے۔ پس اللہ نے ہم پر احسان فرمایا اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا۔ بیشک ہم اس سے پہلے اللہ ہی کو پکارتے تھے، بیشک وہ بہت احسان فرمانے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔

(الطور : ٢٨۔ ٢٥ )

اہل جنت کا باہمی مکالمہ

حضرت ابن عباس نے فرمایا : الطور : ٢٥ میں جو ایک دوسرے سے حال پوچھنے کا ذکر ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ قبروں سے نکلیں گے تو ایک دوسرے سے اس کا حال دریافت کریں گے اور ایک قول یہ ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے حال معلوم کریں گے اور کہیں گے کہ وہ دنیا میں اپن عاقبت کے متعلق بہت فکر مند اور پریشان رہتے تھے اور انہوں نے دنیا میں بہت محنت، مشقت اور تھکاوٹ میں وقت گزارا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے اور اللہ تعالیٰ نے اس خوف کو ان سے دور کردیا اور ایک قول یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے یہ دریافت کریں گے کہ انہوں نے آخرت کے اس عظیم الشان مرتبہ کو کیسے پا لیا ؟

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 52 الطور آیت نمبر 25