وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًاؕ-فَاَخَذَهُمُ الطُّوْفَانُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ(۱۴)

اور بےشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس سال کم ہزار برس رہا(ف۳۰) تو اُنہیں طوفان نے آ لیا اور وہ ظالم تھے(ف۳۱)

(ف30)

اس تمام مدّت میں قوم کو توحید و ایمان کی دعوت جاری رکھی اور ان کی ایذاؤں پر صبر کیا اس پر بھی وہ قوم باز نہ آئی اور تکذیب کرتی رہی ۔

(ف31)

طوفان میں غرق ہو گئے ۔ اس میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو تسلّی دی گئی ہے کہ آپ سے پہلے انبیاء کے ساتھ ان کی قوموں نے بہت سختیاں کی ہیں ۔ حضرت نوح علیہ السلام پچاس کم ہزار برس دعوت فرماتے رہے اور اس طویل مدّت میں ان کی قوم کے بہت قلیل لوگ ایمان لائے تو آپ کچھ غم نہ کریں کیونکہ بفضلہٖ تعالٰی آپ کی قلیل مدّت کی دعوت سے خَلقِ کثیر مشرف بہ ایمان ہو چکی ہے ۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَصْحٰبَ السَّفِیْنَةِ وَ جَعَلْنٰهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۵)

تو ہم نے اُسے (ف۳۲) اور کشتی والوں کو (ف۳۳) بچالیا اور اس کشتی کو سارے جہاں کے لیے نشانی کیا (ف۳۴)

(ف32)

یعنی حضرت نوح علیہ السلام کو ۔

(ف33)

جو آپ کے ساتھ تھے ان کی تعداد اٹھہتّر تھی نصف مرد نصف عورت ان میں حضرت نوح علیہ السلام کے فرزند سام و حام ویافث اور ان کی بی بیاں بھی شامل ہیں ۔

(ف34)

کہا گیا ہے کہ وہ کَشتی جودی پہاڑ پر مدّتِ دراز تک باقی رہی ۔

وَ اِبْرٰهِیْمَ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۱۶)

اور ابراہیم کو (ف۳۵) جب اس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ کو پوجو اور اس سے ڈرو اس میں تمہارا بھلا ہے اگر تم جانتے

(ف35)

یاد کرو ۔

اِنَّمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا وَّ تَخْلُقُوْنَ اِفْكًاؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا یَمْلِكُوْنَ لَكُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللّٰهِ الرِّزْقَ وَ اعْبُدُوْهُ وَ اشْكُرُوْا لَهٗؕ-اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(۱۷)

تم تو اللہ کے سوا بُتوں کو پوجتے ہواور نِرا جھوٹ گڑھتے ہو(ف۳۶) بے شک وہ جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری روزی کے کچھ مالک نہیں تو اللہ کے پاس رزق ڈھونڈو (ف۳۷) اور اس کی بندگی کرو اور اس کا احسان مانو تمہیں اسی کی طرف پھرنا ہے (ف۳۸)

(ف36)

کہ بُتوں کو خدا کا شریک کہتے ہو ۔

(ف37)

وہی رزّاق ہے ۔

(ف38)

آخرت میں ۔

وَ اِنْ تُكَذِّبُوْا فَقَدْ كَذَّبَ اُمَمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْؕ-وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(۱۸)

اور اگر تم جھٹلاؤ (ف۳۹) تو تم سے پہلے کتنے ہی گروہ جھٹلا چکے ہیں (ف۴۰) اور رسول کے ذمہ نہیں مگر صاف پہونچا دینا

(ف39)

اور مجھے نہ مانو تو اس سے میرا کوئی ضَرر نہیں ، میں نے راہ دکھا دی ، معجزات پیش کر دیئے ، میرا فرض ادا ہو گیا ، اس پر بھی اگر تم نہ مانو ۔

(ف40)

اپنے انبیاء کو جیسے کہ قومِ نوح و عاد و ثمود وغیرہ ان کے جھٹلانے کا انجام یہی ہوا کہ اللہ تعالٰی نے انہیں ہلاک کیا ۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا كَیْفَ یُبْدِئُ اللّٰهُ الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗؕ-اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ(۱۹)

اور کیا اُنہوں نے نہ دیکھا اللہ کیونکر خلق کی ابتدا فرماتا ہے (ف۴۱) پھر اُسے دوبارہ بنائے گا (ف۴۲) بےشک یہ اللہ کو آسان ہے (ف۴۳)

(ف41)

کہ پہلے انہیں نطفہ بناتا ہے پھر خونِ بستہ کی صورت دیتا ہے پھر گوشت پارہ بناتا ہے اس طرح تدریجاً ان کی خِلقت کو مکمل کرتا ہے ۔

(ف42)

آخرت میں بَعث کے وقت ۔

(ف43)

یعنی پہلی بار پیدا کرنا اور مرنے کے بعد پھر دوبارہ بنانا ۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللّٰهُ یُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۚ(۲۰)

تم فرماؤ زمین میں سفر کرکے دیکھو (ف۴۴) اللہ کیوں کر پہلے بناتا ہے (ف۴۵) پھر اللہ دوسری اُٹھان اُٹھاتا ہے (ف۴۶) بےشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے

(ف44)

گزشتہ قوموں کے دیار و آثار کو کہ ۔

(ف45)

مخلوق کو پھر اسے موت دیتا ہے ۔

(ف46)

یعنی جب یہ یقین سے جان لیا کہ پہلی مرتبہ اللہ ہی نے پیدا کیا تو معلوم ہو گیا کہ اس خالِق کا مخلوق کو موت دینے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا کچھ بھی متعذّر نہیں ۔

یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْحَمُ مَنْ یَّشَآءُۚ-وَ اِلَیْهِ تُقْلَبُوْنَ(۲۱)

عذاب دیتا ہے جسے چاہے (ف۴۷) اور رحم فرماتا ہے جس پر چاہے (ف۴۸) اور تمہیں اسی کی طرف پھرنا ہے

(ف47)

اپنے عدل سے ۔

(ف48)

اپنے فضل سے ۔

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ٘-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ۠(۲۲)

اور نہ تم زمین میں (ف۴۹) قابو سے نکل سکو اور نہ آسمان میں(ف۵۰) اور تمہارے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی کام بنانے والا اور نہ مددگار

(ف49)

اپنے ربّ کے ۔

(ف50)

اس سے بچنے اور بھاگنے کی کہیں مجال نہیں یا یہ معنٰی ہیں کہ نہ زمین والے اس کے حکم و قضا سے کہیں بھاگ سکتے ہیں نہ آسمان والے ۔