أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ يُرِيۡدُوۡنَ كَيۡدًا‌ؕ فَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هُمُ الۡمَكِيۡدُوۡنَؕ‏ ۞

ترجمہ:

یا وہ کوئی دھوکہ دینا چاہتے ہیں سو کفار خود اپنے دھوکے کا شکار ہیں

الطور : ٤٢ میں فرمایا : وہ کوئی دھوکا دینا چاہتے ہیں سو کفار خود اپنے دھوکے کا شکار ہیں۔

اس سے مراد وہ سازش ہے جو کفار نے آپ کو قتل کرنے کے لیے دار الندوۃ میں کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق فرمایا :

وَلَا یَحِیْقُ الْمَکْرُ السَّیِّیئُ اِلَّا بِاَہْلِہٖ ط (الفاطر : ٤٣) ان کی سازش کا وبال ان پر ہی پڑے گا۔

انہوں نے دارلندوۃ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کی سازش کی، اللہ تعالیٰ نے ان کی سازش کو ان پر الٹ دیا اور غزوہ بدر میں ستر کافر قتل کردیئے گئے۔

اس کا ایک معنی یہ کیا ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک آجائے گا اور ان کو اس کی توقع ہوگی نہ اس کا علم ہوگا۔

القرآن – سورۃ نمبر 52 الطور آیت نمبر 42