أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَوۡحٰۤى الٰى عَبۡدِهٖ مَاۤ اَوۡحٰىؕ ۞

ترجمہ:

پھر اللہ نے اپنے مقدس بندے کی طرف رحی فرمائی جو بھی وحی فرمائی

” فاوحیٰ الی عبدہ ما اوحی “ کی تفسیر میں مفسرین کے اقوال

النجم : ١٠ میں فرمایا : پھر اللہ نے اپنے مقدس بندے کی طرف وحی فرمائی جو بھی وحی فرمائی۔

علامہ عبد الرحمان بن علی بن محمد الجوزی المتوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت کی تفسیر میں تین قول ہیں :

(١) شب معراج اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بالمشافہ اور بلا واسطہ وحی کی۔

(٢) حضرت ابن عباس نے فرمایا : حضرت جبریل نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف وہ وحی کی جو ان کی طرف اللہ نے وحی کی تھی۔

(٣) حضرت عائشہ (رض) ، حسن بصری اور قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل کی طرف وحی کی جو بھی وحی کی۔

( زاد المسیر ج ٨ ص ٦٧، مکتب اسلامی، بیروت، ١٤٠٧ ھ)

علامہ الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ نے مؤخر الذکر دو قول بیان کیے ہیں۔ ( النکت والعیون ج ٥ ص ٣٩٣)

امام رازی المتوفی ٦٠٦ ھ نے بھی مؤخر الذکر دو قول بیان کیے ہیں۔ ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٢٤١ )

قاضی بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ نے صرف دوسرا قول ذکر کیا ہے۔ ( تفسیر بیضاوی مع الخفا جی ج ٩ ص ٧ )

علامہ قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ نے تینوں قول ذکر کیے ہیں اور علامہ ابن جوزی کی طرح پہلے قول کو مقدم رکھا ہے۔

( الجامع الاحکام القرآن جز ١٧ ص ٧٥)

علامہ اسماعیل حقی متوفی ١٣٧ ھ نے صرف دوسرا قول ذکر کیا ہے۔ ( روح البیان ج ٩ ص ٢٥٧ )

حافظ ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ نے لکھا ہے کہ حضرت جبریل نے آپ کی طرف وحی کی یا اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل کے واسطے سے آپ کی طرف وحی کی۔ ( تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٢٧٢)

علامہ ابو الحیان اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ نے پہلے دو قول ذکر کیے ہیں اور مقدم پہلے قول کو رکھا ہے۔ ( البحر المحیط ج ١٠ ص ١١)

علامہ الحسین بن مسعود بغوی متوفی ٥١٦ ھ نے بھی پہلے دو قول ذکر کیے ہیں اور مقدم پہلے قول کو رکھا ہے۔

(معالم التنزیل ج ٤ ص ٣٠٣)

علامہ ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ نے بھی پہلے دو قول ذکر کیے ہیں اور مقدم پہلے قول کو رکھا ہے۔ ( جامع البیان جز ٢٧ ص ٦٣ )

ان اقوال میں ہمارا مختارپہلا قول ہے اور علامہ آلوسی کا بھی یہی مختار ہے، وہ لکھتے ہیں : علامہ طیبی نے کہا کہ اس آیت کو اس پر محمول کرنا کہ حضرت جبریل نے اللہ کے مقدس بندے پر وحی کی، اس سے ذوق سلیم انکار کرتا ہے کیونکہ یہ وحی بالواسطہ ہے اور دوسری وحی بلاواسطہ ہے جو تعظیم اور تکریم کی جہت سے ہے اور اس وحی سے آپ کو ایک مقام سے ترقی حاصل ہوگی۔

امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ جب اللہ کے حبیب، اللہ سے غایت قریب میں پہنچے تو آپ پر بہت زیادہ ہیبت طاری ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے ازالہ کے لیے آپ پر انتہائی لطف و کرم فرمایا اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :

فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِہٖ مَآ اَوْحٰی۔ (النجم : ١٠) پھر اللہ نے اپنے مقدس بندے کی طرف وحی فرمائی جو بھی وحی فرمائی۔

گویا جو ہونا تھا وہ ہوا اور حبیب نے اپنے حبیب سے وہ کہا جو ایک حبیب دو سے حبیب سے کہتا ہے اور آپ سے وہ راز کی باتیں کیں جو راز ایک حبیب اپنے حبیب سے کہتا ہے پس دونوں نے اس راز کو مخفی رکھا اور ان کے راز و نیاز پر کوئی بھی مطلع نہیں ہوا۔ ( روح المعانی جز ٢٧ ص ٨٣، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 10