أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمۡ وَمَا غَوٰى‌ۚ ۞

ترجمہ:

تمہارے آقا ( محمد۔ ) نے نہ کبھی سیدھا راستہ کم کیا اور نہ ( کبھی) راہ ( راست) کے بغیر چلے

النجم : ٢ میں فرمایا : تمہارے آقا ( محمد) نے نہ ( کبھی سیدھا) راستہ گم کیا اور نہ کبھی راہ ( راست) کے بغیر چلے۔

ضلال کے متعدد معانی

اس آیت میں ” ضل “ کا لفظ ہے یہ ” ضلال “ سے مآخوذ ہے، علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ اس کے معنی کے بیان میں لکھتے ہیں :” ضلال “ کا معنی ہے : راہ راست سے تجاوز کرنا، قرآن مجید میں ہے :

فَمَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖج وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا ج (یونس : ١٠٨)

جو شخص راہ راستہ پر چلے تو اس کا یہ چلنا اسی کے لیے مفید ہے اور جو شخص راہ راست سے تجاوز کرے تو اس کے اس تجاوز کا وبال اسی پر ہے۔

راہِ راست سے ہر قسم کے تجاوز کو ضلال کہا جاتا ہے، خواہ یہ تجاوز عمداً ہو یا سہواً ، معمولی تجاوز ہو یا زیادہ کیونکہ وہ سیدھا راستہ جو پسندیدہ اور مرغوب اور محبوب ہو، اس پر چلنا بہت مشکل اور دشوار ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :

استقیموا ولا تحصوا تم ہر معاملہ میں راہ راست پر رہو اور تم ہر معاملہ میں راہ راست کا احاطہ نہ کرسکو گے۔

( مسند احمد ج ٥ ص ٤٧٧، سنن کبریٰ ج ١ ص ٨٢، الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٩٩٤، اس حدیث کی سند صحیح ہے)

بعض حکماء نے کہا ہے کہ ہمارا کسی نہ کسی وجہ سے گم راہ ہونا، بہت سی صورتوں میں ہے کیونکہ تیر کو عین ہدف پر مارنا راہ راست ہے اور اگر وہ ہدف سے بال برابر بھی ادھر ادھر ہوجائے تو یہ ضلال ہے، یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر نے آپ کو دیکھ کر کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ بوڑھے ہوگئے ( یعنی آپ کے سفید بال ظاہر ہوگئے) آپ نے فرمایا : مجھے سورة ھود اور اس جیسی سورتوں نے بوڑھا کردیا۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٩٧) خصوصاً سورة ھود کی اس آیت نے :

فاستقم کما امرت (ھود : ١١٢) جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے سو آپ ہر عمل میں راہ راست پر رہیں۔

انبیاء علہیم السلام کی طرف ضلال کی نسبت کرنے کے معانی اور محامل

اور جب کہ ضلال کا معنی ہے : راہ راست کو ترک کرنا خواہ یہ ترک عمداً یا سہواً ، کم دفعہ ہو یا زیادہ دفعہ تو جس شخص سے بھی خطاء ہو، اس کے لئے ضلال کا لفظ استعمال کرنا صحیح ہے، اسی وجہ سے ضلال کی نسبت انبیاء (علیہم السلام) کی طرف بھی کی گئی ہے۔ اور کفار کی طرف بھی، ہرچند کہ دونوں کے ضلال میں زمین اور آسمان کا فرق ہے، اسی وجہ سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق فرمایا :

ووجدک ضا لافھدی (الضحی : ٧) آپ کو از خودراہ راست پر نہ پایا سو آپ کو راہ راست پر گامزن کیا۔

( اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ بعض امور میں آپ کو سہو اور نسیان سے راہ راست پر نہ پایاسو آپ کو راہ راست پر چلایا، جیسے امت کی تعلیم اور تشریع کے لیے آپ کو ظہر یا عصر کی نماز میں سہو ہو اور آپ نے چار رکعت کی بجائے دو رکعت نماز پڑھا دی۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٢٢٤، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٧٠) اور ایک مرتبہ ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھا دی۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٢٢٥، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٠٣٤، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٩١) پھر آپ نے سلام پھیر کر سجدہ کیا اور ہمیں یہ تعلیم دی کہ تم بھی ایسی صورت میں سجدہ سہو کر کے نماز کی اصلاح کرنا، اور اس کا تیسرا معنی یہ ہے کہ اللہ نے آپ کو اپنی محبت میں مستغرق اور وارفتہ پایا اور آپ کو امت کی طرف غیر متوجہ پایا تو آپ کو امت کی اصلاح، ہدایت اور تبلیغ اور تشریع کی طرف متوجہ کیا، اس معنی کی طرف اشارہ علامہ راغب کی اگلی عبارت میں آ رہا ہے۔ سعیدی غفرلہٗ ۔

حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے ان کے بیٹوں نے کہا :

انک لفی ضللک القدیم۔ ( یوسف : ٩٥) بیشک آپ ( یوسف کی اسی) پرانی محبت میں ہیں۔

ان ابانا لفی ضلل مبین۔ ( یوسف : ٨) بیشک ہمارا باپ ( یوسف) کی محبت میں واضح طور پر راہ راست سے متجاوز ہے۔

اس میں یہ اشارہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو حضرت یوسف (علیہ السلام) سے بہت شدید محبت تھی جس کو انہوں نے ضلال سے تعبیر کیا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا :

وانا من الضالین۔ ( الشعرا : ٢٠) اور میں سہو کرنے والوں میں سے ہوں۔

ان تضل احدھما ( البقرہ : ٢٨٢) دو گواہی دینے والی عورتوں میں سے ایک بھول جائے۔

ایک اور اعتبار سے ضلال کے معانی

ایک اور اعتبار سے ضلال کی دو قسمیں ہیں : (١) اللہ تعالیٰ کی معرفت اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معرفت میں کوئی شخص راہ راست پر نہ ہو ( ٢) احکام شرعیہ اور عبادات میں کوئی شخص راہ ِ راست پر نہ ہو۔

ضلال (١) کی مثال اس آیت میں ہے :

وَمَنْ یَّکْفُرْ بِ اللہ ِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلاً م بَعِیْدًا۔ (النسائ : ١٣٦)

جو شخص اللہ کے ساتھ اور اس کے فرشتوں کے ساتھ اور اس کی کتابوں کے ساتھ اور اس کے رسولوں کے ساتھ اور روز قیامت کے ساتھ کفر کرے تو بیشک وہ بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہوگیا۔

اور ضلال (٢) کی مثال یہ آیت ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللہ ِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰــلًام بَعِیْدًا۔ (النسائ : ١٦٧ )

بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور لوگوں کو اللہ کے راستہ ( پر چلنے) سے روکا، بیشک وہ بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔

ضلال کا معنی غفلت بھی ہے۔

قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍج لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَی۔ (طہٰ : ٥٢)

موسیٰ نے کہا : اس کا علم میرے رب کے پاس اس کتاب میں سے ہے جس سے میرا رب نہ غافل ہے اور نہ بھولتا ہے۔

ضلال کا معنی بھی ہے :

اَلَمْ یَجْعَلْ کَیْدَھُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ ۔ (الفیل : ٢) کیا اللہ نے کافروں کی سازش کو باطل نہیں کردیا۔

اضلال ( گمرہ کرنا) کا معنی یہ ہے کہ اس کا فاعل ضلال کا سبب ہو جیسے اس آیت میں ہے :

لَہَمَّتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْہُمْ اَنْ یُّضِلُّوْکَ ط (النسائ : ١١٣)

ان منافقین کی ایک جماعت نے آپ کو ضرور گمراہ کرنے کا قصد کرلیا تھا۔

یعنی منافقین آپ کے سامنے بنو ابریق کی چوری کی تہمت دوسروں پر ڈال رہے تھے تاکہ آپ سے ظالمانہ فیصلہ کرادیں اور ظالمانہ فیصلہ گم راہی کا سبب ہے۔

اللہ کی طرف اضلال کی نسبت کرنے کے دو معنی

اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف انسان کے اضلال کی نسبت ہو تو اس کے دو معنی ہیں : (١) انسان ضلال کا سبب مہیا کرے یعنی اس کا ارادہ کرے اور اللہ تعالیٰ دنیا میں اس کے اندر ضلال کو پیدا کر دے، اور آخرت میں اس کو جنت کے بجائے دوزخ کی طرف چلا دے، یعنی اس کو جنت سے بھٹکا دے اور گم راہ کر دے اور اللہ تعالیٰ کا یہ اضلال ( گم راہ کرنا) حق اور عدل ہے، پس ایسے انسان یہ حکم لگانا کہ اللہ نے اس کو گمراہ کردیا اور جنت کے راستہ سے بھٹکا دیا، برحق ہے اور کسی اعتراض کا موجب نہیں ہے، جیسے فرمایا :

کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللہ ُ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (المومن : ٧٤) اسی طرح اللہ کافروں میں گمراہی پیدا فرماتا ہے۔

(٢) اور اللہ کی طرف انسان کے اضلال کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی جبلت ( فطرت) پر پیدا کیا ہے، وہ جس راستہ کو پسند کرتا ہے خواہ وہ راستہ اچھا ہو یا براہو ( ایمان ہو یا کفر، نیکی ہو یا بدی) وہ اس راستہ کو اچھا سمجھتا ہے اور اس راستہ سے محبت کرتا ہے تو وہ انسان کی فطرت میں اس راستہ کو لازم کردیتا ہے اور اس کو اس راستہ سے پھیرنا اور ہٹانا مشکل ہوتا ہے اور گویا اس راستہ کی اس کے اوپر مہر لگ جاتی ہے، اس لیے کہا جاتا ہے کہ عادت انسان کی طبیعت ثانیہ ہے اور انسان کے اندر یہ قوت اللہ تعالیٰ کا فعل ہے جس کو اللہ نے انسان کے اندر اس کے اختیار کی بناء پر پیدا کیا ہے، اس کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے :

حضرت ابو الدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے مستقبل کے متعلق باتیں کر رہے تھے تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم یہ خبر سنو کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے تو اس کی تصدیق کردینا اور جب یہ خبر سنو کہ کسی شخص نے اپنی عادت بدل دی ہے تو اس کی تصدیق مت کرنا کیونکہ وہ اسی وصف پر لازم رہتا ہے جس پر اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ ( مسند احمد ج ٦ ص ٤٤٣ )

اور جب یہ قاعدہ اس طرح ہے تو جس فعل کا کوئی سبب ہو اس فعل کی اس سبب کی طرف نسبت کرنا صحیح ہے، پس کہا جائے گا کہ اس کافر کو اللہ تعالیٰ نے گم راہ کردیا، نہ اس طریقہ سے جیسا کہ جاہل کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے کسی کو گم راہ کردیا تو اس میں اس کا کیا قصور ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو گم راہ کرتا ہے جو از خود گم راہی کو اختیار کرتا ہے اور اس کو اچھا سمجھتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ کافر اور فاسق کو گم راہ کرتا ہے، مومن کو گمراہ نہیں کرتا بلکہ اس نے خود مومن کو گم راہ کرنے کی نفی فرمائی ہے، قرآن مجید میں ہے :

وَمَا کَانَ اللہ ُ لِیُضِلَّ قَوْمًام بَعْدَ اِذْ ہَدٰہُمْ (التوبہ : ١١٥)

اور اللہ کے یہ لائق نہیں ہے کہ وہ ایک قوم کو ہدایت دینے کے بعد اسے گم راہ کر دے۔

دلوں پر مہر لگانے کے ثبوت میں یہ آیات ہیں :

ختم اللہ علی قلوبھم ( البقرہ : ٧) اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔

بَلْ طَبَعَ اللہ ُ عَلَیْہَا بِکُفْرِہِمْ فَـلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۔ (النسائ : ١٥٥ )

بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔

( المفردات ج ٢ ص ٣٩٠۔ ٣٣٨، ملخصاً و موضحا ًو مخرجاً ، مکتبہ نزار مصطفی، بیروت، ١٤١٨ ھ)

ضلال کی دو آیتوں میں تعارض کا جواب

جب ضلال کے متعدد معانی معلوم ہوگئے تو اب پھر یہ اشکال نہیں رہے گا کہ النجم میں فرمایا ہے :

مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی۔ (النجم : ٢) تمہارے آقا ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ ( کبھی سیدھا) راستہ گم کیا اور نہ کبھی راہ ( راست) کے بغیر چلے۔

اور دوسری جگہ فرمایا ہے :

ووجدک ضالا فھدی۔ ( الضحیٰ : ٧) اللہ نے آپ کو ( از خود) راہ ِ راست پر نہ پایا سو آپ کو راہ راست پر گامزن کیا۔

ہم نے جو اس آیت کا معنی کیا ہے اس سے اس کا النجم : ٢ سے تعارض نہیں رہا اور اس کے دوسرے محامل یہ ہیں :

(٢) اللہ نے آپ کو بعض امور میں سہو اور نسیان سے راہ راست پر نہ پایا سو آپ کو راہ راست پر چلایا کیا۔

اس کے باقی محامل انشاء اللہ ہم الضحیٰ : ٧ میں بیان کریں گے۔

” صاحب “ کے معنی

اس آیت میں ” صاحبکم “ کا لفظ ہے، صاحب اس کو کہتے ہیں جو کسی کے ساتھ لازم رہے خواہ وہ انسان ہو یا یا حیوان ہو، مکان ہو یا زمان ہو اور اس کے مصاحبت خواہ بدن کے ساتھ ہو یا تو یہ اور التفات کے ساتھ ہو، عرف میں صاحب کا اطلاق اسی پر ہوتا ہے جو کسی کے ساتھ بہ کثرت لازم رہے، حضرت ابوبکر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بہ کثرت لازم رہتے تھے، اس لیے ان پر آپ کے صاحب کا اطلاق ہے :

اذیقول لصاحبہ لا تخرن ( التوبہ : ٤٠) جب نبی اپنے صاحب سے کہہ رہے تھے : تم غم نہ کرو۔

صاحب اس شخص کو بھی کہتے ہیں جو کسی کا مالک اور آقا ہو اور اس پر تصرف کرنے کا مالک ہو، اس معنی کے لحاظ سے اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صاحب کا اطلاق ہے، تمہارے آقا ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ کبھی سیدھا راستہ گم کیا۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسلمانوں کا صاحب فرمایا ہے، اس پر تنبیہ کرتے ہوئے تم ان کو مصاحب اور مجلس میں رہے ہو اور تم نے ان کا تجربہ کیا ہے اور ان کے ظاہر اور باطن کو پرکھا ہے اور اس میں کوئی خلل نہیں پایا، اس لیے فرمایا :

وما صاحبکم یمجنون۔ ( التکویر : ٢٢) اور تمہارے صاحب اور آقا مجنون نہیں ہیں۔

کسی شخص کے متبعین کو بھی اس کے اصحاب کہا جاتا ہے، اسی اعتبار سے زندگی میں آپ کے متبعین کو آپ کے اصحاب کہا جاتا ہے۔ ( المفردات ج ٢ ص ٣٦١، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا تھا :

عصی ادم ربہ فغوی۔ ( طہٰ : ١٢١) آدم نے اپنے رب کی ( بہ ظاہر) معصیت کی اور ( بہ ظاہر) راہ راست کے بغیر چلے۔

اور آپ کے متعلق فرمایا :

ما ضل صاحبکم وما غوی۔ (النجم : ٢) تمہارے آقا ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ کبھی سیدھا راستہ گم کیا نہ کبھی راہ راست کے بغیر چلے۔

” غوی “ کے معنی

” الغی “ کا معنی ہے : اعتقاد فاسد کی وجہ سے جاہل ہونا، کبھی انسان جاہل محض ہوتا ہے، اس کا کوئی اعتقاد صحیح ہوتا ہے نہ اعتقاد فاسد ہوتا ہے اور کبھی وہ اعتقاد فاسد کی وجہ سے جاہل ہوتا ہے، اس دوسری قسم کو ” الغی “ کہتے ہیں۔

واخوانہم یمدونہم فی الغی (الاعراف : ٢٠٢) شیاطین کے بھائی کافروں کو فاسد اعتقاد ( گمراہی) میں گھسیٹتے ہیں۔

فسوف یلقون غیا۔ (مریم : ٥٩) سو وہ عنقریب عذاب میں داخل ہوں گے۔

اس آیت میں ” الغی “ کا اطلاق عذاب پر کیا گیا ہے کیونکہ عذاب ” الغی “ کا اثر ہے۔

اللہ ُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَکُمْ ط (ھود : ٣٤) ( اے کافرو ! ) بیشک اللہ تمہیں تمہارے فاسد اعتقاد کی سزا دینا چاہتا ہے۔

وَعَصٰٓی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی۔ (طہ : ١٢١) آدم نے بہ ظاہر معصیت کی پس وہ غوی ہوئے۔

اس آیت میں ” فغوی “ کا معنی ہے : پس آپ نے نا واقفیت کا کام کیا، ایک قول ہے : پس آپ نے نقصان اٹھایا، ایک قول ہے : پس آپ کا عیش اور آپ کی پر لطف عشرت جاتی رہی۔

( ” غوی “ کے جتنے معنی ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ” مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی۔ “ (النجم : ٢) میں ان سب کی نفی کردی۔ ( المفردات ج ٢ ص ٤٧٨، مکتبہ نزار مصطفی، بیروت، ١٤١٨ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 2