أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعۡيُنِنَا‌ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ حِيۡنَ تَقُوۡمُۙ ۞

ترجمہ:

اور ( اے رسول مکرم ! ) آپ اپنے رب کے حکم پر ثابت قدم رہیں کیونکہ آپ ہماری نگرانی میں ہیں اور جب آپ قیام کریں تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں

کسی مجلس میں اٹھنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کرنا

الطور : ٤٨ میں فرمایا : اور ( اے رسول مکرم ! ) آپ اپنے رب کے حکم پر ثابت قدم رہیں کیونکہ آپ ہماری نگرانی میں ہیں اور جب آپ قیام کریں تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں۔

رب کے حکم اور اس کے فیصلہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو توحید کا پیغام پہنچانے اور دین اسلام کے احکام کی تبلیغ کا حکم دیا ہے اس کو بجا لائیں اور اس حکم کی تعمیل میں جن مشکلات اور مصائب کا سامنا ہو ان کو برداشت کریں کیونکہ آپ ہماری نگرانی میں ہیں ہم آپ کو دیکھ رہے ہیں اور آپ کے کلام کو سن رہے ہیں، ہم آپ کی حفاظت کر رہے ہیں اور ہم آپ کو کفار کے شر اور ان کی ایذاء سے محفوظ رکھیں گے اور کوئی شخص آپ کو قتل کرنے پر قادر نہ ہو سکے گا۔

نیز فرمایا : اور جب آپ قیام کریں تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں۔ اس آیت میں قیام کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ بعض نے کہا : اس سے مراد یہ ہے کہ جب آپ نماز میں قیام کریں تو کہیں :” سبحانک اللھم وبحمدک “ اور حضرت ابن مسعود (رض) ، سعید بن جبیر اور سفیان ثوری وغیرہم نے کہا ہے کہ جب کوئی شخص اپنی مجلس سے اٹھے تو یہ کہے :’ ’ سبحان اللہ وبحمدہ “ یا کہے :” سبحانک اللھم وبحمدک “ اگر وہ نیک مجلس تھی تو اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کرنے سے تمہاری نیکیوں میں اضافہ ہوگا اور اگر وہ بری مجلس تھی تو اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کرنے سے اس کے گناہ کا کفارہ ہوجائے گا، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص کسی مجلس میں بیٹھا اور اس میں اس نے بہت شور و شغب کیا اور اس نے مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ کلمات پڑھے :

سبحانک اللھم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک وتواب الیک الا غفرلہ ما کان فی مجلسہ ذالک۔

اے اللہ ! تو پاک ہے تیری تمام صفات کامل ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، میں تجھ سے توبہ اور استغفار کرتا ہوں تو اس مجلس میں اس نے جو کچھ کہا تھا اس کی مغفرت کردی جائے گی۔

( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٤٣٣، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٩٤، المستدرک ج ١ ص ٥٣٦)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مجلس میں اٹھنے سے پہلے سو مرتبہ پڑھتے تھے :

رب اغفرلی و تب علی انک انت التواب الغفور۔

اے میرے رب ! میری مغفرت فرما اور میری توبہ قبول فرما، بیشک تو بہت توبہ قبول فرمانے والا، بہت مغفرت فرمانے والا ہے۔

یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ ( سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٤٣٠، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٥١٦)

القرآن – سورۃ نمبر 52 الطور آیت نمبر 48