أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّ لِلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا عَذَابًا دُوۡنَ ذٰلِكَ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ان ظالموں کے لیے اس عذاب ( آخرت) کے علاوہ ایک اور عذاب ہے لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے

الطور : ٤٧ میں فرمایا : اور بیشک ان ظالموں کے لیے اس عذاب ( آخرت) کے علاوہ ایک اور عذاب ہے لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

ان ظالموں کے لیے عذاب کے رات کے علاوہ جو ایک اور عذاب ہے اس کے تعیین میں اختلاف ہے۔ ابن زید نے کہا : وہ دنیا کے مصائب ہیں اور درد اور تکلیف والی بیماریاں ہیں اور مال اور الاد کے نقصانات ہیں۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد بھوک، پیاس اور قحط سالی ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس سے مراد قتل کیا جانا ہے اور ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ ان پر جو مصائب آ رہے ہیں وہ در حقیقت عذاب ہے۔

کس علم کا حصول فرض عین ہے اور کس علم کا حصول فرض کفایہ ہے ؟

اس آیت میں فرمایا ہے : ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بعض لوگ جانتے ہیں کہ عذاب آخرت کے علاوہ ایک اور عذاب بھی ہے لیکن وہ اس عذاب سے بچنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کرتے کہ برے اعمال کو ترک کردیں اور نیک اعمال سے خود کو مزین کریں اور اکثر لوگ کفر اور شرک پر جمے رہتے ہیں، وہ عذاب آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور نہ دنیاوی عذاب کو مانتے ہیں اور نہ عذاب آخرت کو مانتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص اس عذاب کو جانتا اور مانتا ہو اور اس کے تقاضے پر عمل نہ کرے اور وہ اور جاہل دونوں برابر ہیں، لہٰذا صاحب عقل پر لازم ہے کہ وہ علوم آخرت کرے اور ان کے تقاضے پر عمل کرے۔

علماء نے کہا ہے کہ علم کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ علم جو بہ قدر ضرورت ہو اور ایک شریعت کے اصول اور فروغ کا مکمل علم ہے، جو علم بہ قدر ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ جب انسان کے پاس ضرورت سے زائد مال نہ ہو اور اس پر زکوٰۃ اور حج فرض نہ ہو اور اس پر صرف نماز اور روزہ فرض ہو تو وہ نماز اور روزے کا علم حاصل کرے، یعنی نماز کے فرائض، واجبات، سنن اور آداب کیا ہیں، وضو کے فرائض، سنن اور آداب کیا ہیں اور کن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے اور کن سے نہیں ٹوٹتا۔ اسی طرح قرآن مجید کو بہ قدر ضرورت یاد کرے، ہر بالغ شخص پر اتنا علم حاصل کرنا ضروری ہے اور جب وہ نکاح کرے تو نکاح اور طلاق کا علم حاصل کرے، تاکہ بعد میں بیوی کو تین طلاقیں دے کر پچھتاتا نہ پھرے، بیوی، بچوں اور ماں باپ کے حقوق کا علم حاصل کرے، ان کی کفالت کے لیے کسب معاش کرے تو حلال اور حرام پیشوں اور جائز اور ناجائز تجارت کا علم حاصل کرے تاکہ لقمہ حرام کھانے اور کھلانے سے محفوظ رہ سکے، اور اگر وہ مال دار ہو اور اس پر زکوٰۃ اور حج فرض ہوجائے تو ان کا علم حاصل کرے، غرض وہ زندگی کے جس شعبہ سے وابستہ ہو اس شعبہ سے متعلق جو اسلام کی ہدایات ہیں ان کا علم حاصل کرنا اس پر فرض عین ہے اور تمام شعبوں سے متعلق اسلام کی مکمل ہدایات اور شریعت کے تمام اصول اور فروغ کا علم حاصل کرنا ہر شخص پر فرض عین نہیں ہے، البتہ فرض کفایہ ہے، شہر میں ایسے کم از کم ایک عالم کا ہونا فرض کفایہ ہے تاکہ ضرورت کے وقت اس سے ہر شعبہ سے متعلق شخص رونمائی حاصل کرسکے گ اور اگر شہر میں ایک عالم بھی ایسا نہ ہو تو تمام شہر والے گناہ گار ہوں گے۔

قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے عذاب قبر کا ثبوت

آخرت کے عذاب سے پہلے جو ظالموں کو عذاب ہوگا، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس سے مراد عذاب قبر ہے۔

ملحدین، رافضی اور معتزلہ عذاب قبر کو نہیں مانتے، قرآن مجید میں صراحتہً عذاب قبر کا ثبوت ہے :

اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّاج وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُقف اَدْخِلُوْٓا اٰلَ فِرْعَوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ ۔ (المومن : ٢٦ )

یہ وہ آگ ہے جس پر صبح اور شام آل فرعون کو پیش کیا جاتا ہے، اور قیامت کے دن بھی ان کو آگ پر پیش کیا جائے گا ( اے فرشتو ! ) آل فرعون کو زیادہ سخت عذاب میں داخل کردو۔

آل فرعون کو جس آگ پر صبح اور شام پیش کیا جاتا ہے، وہ آگ قبر میں ہے اور یہ عذاب قبر کا واضح ثبوت ہے، اس کے بعد قیامت کے دن ان کو دوزخ کی آگ پر پیش کرنے کا ذکر فرمایا اور اس آیت میں عذاب قبر پر تیسری دلیل یہ ہے کہ فرشتوں سے کہا جائے گا : آل فرعون کو زیادہ سخت عذاب میں داخل کرو، معلوم ہوا کہ ان کو نفس عذاب دنیا میں دیا جا چکا ہے اور وہ عذا ب قبر ہے۔ احادیث صحیحہ میں بھی عذاب قبر کا ذکر ہے :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عذاب ِ قبر کے متعلق دریافت کیا، آپ نے فرمایا : ہاں عذاب قبر برحق ہے، حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ اسکے بعد جب بھی میں نے دیکھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٧١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٣٢، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٠٠٦، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٨٥٦ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کرتے تھے :

اللھم انی اعوذ بک من عذاب القبر و من عذاب النار ومن فتنۃ احیا والممات ومن فتنۃ المسیح الدجال۔

اے اللہ ! میں قبر کے عذاب سے اور دوزخ کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے فتنوں سے اور مسیح دجال کے فتنوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٧٧، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٩٨٣، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٣٠٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٩٠٩)

حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک جب تم میں سے کوئی شخص مرجاتا ہے تو صبح اور شام اس پر اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو اہل جنت سے اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اور اگر وہ اہل دوزخ سے ہو تو اس سے کہا جاتا ہے : یہی تیرا ٹھکانہ ہے حتیٰ کہ اللہ سبحانہٗ تجھے دوبارہ زندہ کر کے قیامت کے دن اٹھائے گا۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٧٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٦٦، سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٠٧٢، مصنف عبد الرزاق رقم الحدیث : ٥٩٧١، طبع قدیم، مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : ٣٩٣، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٥٨٢٩ )

شیطان کا قبر میں آکر مؤمنوں کو بہکانا

ہم نے اس حدیث سے پہلے یہ حدیث ذکر کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عذاب ِ قبر سے اور زندگی اور موت کے فتنوں سے پناہ طلب کی ہے، موت کے فتنوں میں سے یہ بھی ہے جس کو علماء نے ذکر کیا ہے کہ قبر میں سوال اور جواب کے وقت شیطان قبر میں آ کر مومن کو بہکاتا ہے، اس سلسلہ میں حسب ذیل احادیث ہیں :

امام ابو عبد اللہ محمد بن علی حکیم ترمذی روایت کرتے ہیں :

سفیان ثوری روایت کرتے ہیں کہ حدیث میں ہے : جب مومن سے سوال کیا جاتا ہے کہ تیرا رب کون ہے ؟ تو شیطان اس کی قبر میں داخل ہوتا ہے اور کسی صورت کو بناء کر اپنی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ تیرا رب میں ہوں۔

امام حکیم ترمذی کہتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کی تحقیق کی تو ہم کو اس سلسلہ میں احادیث مل گئیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی میت کو دفن کرتے وقت فرماتے تھے : اے اللہ ! اس کو شیطان سے اپنی پناہ میں رکھنا۔

( نوادر الاصول ج ٤ ص ١٦٢، دارالجیل، بیروت، ١٤١٢ ھ)

حکیم ترمذی نے اس مسئلہ میں جن احادیث کا ذکر کیا، وہ درج ذیل ہیں :

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) کے ساتھ ایک جنازہ میں آگیا جب انہوں نے میت کو لحد میں رکھ دیا تو انہوں نے کہا :

بسم اللہ و فی سبیل اللہ وعلی ملہ رسول اللہ۔

اللہ کے نام سے اور اس کے راستے میں اور رسول اللہ کے دین پر۔

پھر یہ دعا کی :

اللھم اجرھا من الشیطان ومن عذاب الفبر اللھم جاف القبر عن جنبیھا وصعد روحھا ولقھا منک رضوانا۔

اے اللہ ! اس میت کو شیطان سے پناہ میں رکھ اور عذاب قبر سے پناہ میں رکھ، اے اللہ ! اس کی قبر کو اس کے پہلوئوں سے دور رکھ، اس کی روح کو چڑھا اور اس کو اپنی رضا کی تلقین فرما۔

( سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٥٥٣، سنن بیہقی ج ٤ ص ٥٥، المسند الجامع ج ١٠ ص ٢٣٠۔ ٢٢٩ )

کلبی نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر سے پوچھا : تم نے اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بنا ہے یا یہ تمہاری رائے ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔

اس کی سند کا ایک راوی حماد بن عبد الرحمن کلبی ضعیف ہے اور اس کا شیخ ال اوری مجہول ہے، تاہم فضائل اعمال میں احادیث ِ ضعیفۃ الاسانید معتبر ہوتی ہیں۔

حکیم ترمذی نے اس سلسلہ میں یہ حدیث بھی ذکر کی ہے :

حضرت عبد اللہ بن محمد بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرزند حضرت ابراہیم (رض) فوت ہوگئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو لائے، آپ ان کے جنازہ کے آگے چل رہے تھے، پھر آپ ان کی قبر میں داخل ہوئے، پھر آپ نے ان کو دیکھ کر ان کی قبر میں رکھا، سو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، یہ دیکھ کر آپ کے اصحاب بھی رونے لگے، حتیٰ کہ ان کی آوازیں بلند ہوگئیں، پھر حضرت ابوبکر (رض) نے آگے بڑھ کر کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ بھی رو رہے ہیں، حالانکہ آپ رونے سے منع فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اے ابوبکر ! آنکھ روتی ہے اور دل میں تکلیف ہوتی ہے اور ہم وہ بات نہیں کہتے جس سے رب نارض ہوتا ہے، پھر آپ نے ان کو دفن کردیا، پھر آپ نے فرمایا : کوئی شخص پانی لے کر آئے تو ہم ابراہیم کی قبر پر پانی چھڑکیں، پھر پانی لایا گیا تو آپ نے قبر پر پانی چھڑکنے کا حکم دیا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اللہ کے نام سے اور شیطان رجیم کی پناہ سے تمہاری تدفین کو ختم کرتا ہوں۔ (نوادر الاصول ج ٤ ص ١٦٣۔ ١٦٢، دارالجیل، بیروت، ١٤٢١ ھ)

عذاب قبر کے اسباب

(١) پیشاب کی نجاست سے احتراز نہ کرنا اور چغلی یا غیبت کرنا۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو قبروں کے پاس سے گزرے، آپ نے فرمایا : ان دونوں قبر والوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی ایسی چیز کے سبب عذاب نہیں ہو رہا جس سے بچنا بہت دشوار ہو، ان میں سے ایک شخص پیشاب کے قطروں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔ ( ایک روایت میں ہے : دوسرا غیبت کرتا تھا) پھر آپ نے درخت کی شاخ کے دو ٹکڑے کیے اور ہر ایک کی قبر پر ایک ٹکڑا گاڑ دیا اور فرمایا : جب تک یہ شاخیں نہیں سوکھیں گی ان کے عذاب میں تخفیف ہوتی رہے گی۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢١٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٩٢، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢١۔ ٢٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٤٧، سنن دارمی رقم الحدیث : ٧٣٩، مسند احمد ج ١ ص ٢٢٥، سنن بیہقی ج ١ ص ١٠٤)

(٢) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین چیزوں کی وجہ سے عذاب قبر ہوتا ہے، غیبت، چغلی اور پیشاب کی نجاست سے نہ بچنے کی وجہ سے۔ ( اثبات عذاب القبر للبیہقی رقم الحدیث : ٢٦٢، دارالجیل، بیروت، ١٤٠٧ ھ)

(٣) امام عبد الرزاق اپنی سند کے ساتھ عمرو بن شرجیل سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص فوت ہوگیا، اس کے پاس فرشتے آئے اور کہا : ہم تمہیں اللہ کے عذاب سے سو کوڑے ماریں گے، پھر اس کی نماز، روزے اور جہاد کا ذکر کیا گیا، پھر کہا : اس کے عذاب میں تخفیف کر کے دس کوڑے مارو، پھر ان سے تخفیف کا سوال کیا حتیٰ کہ ایک کوڑا رہ گیا، فرشتوں نے کہا : ہم تمہیں ایک کوڑا ماریں گے، اس کے بعد کوئی چارہ نہیں، پھر اس کو ایک کوڑا مارا جس سے اس کی قبر جلنے لگی اور وہ شخص بےہوش ہوگیا، جب وہ شخص ہوش میں آیا تو اس نے پوچھا : تم نے مجھے کس گناہ کی وجہ سے کوڑا مارا ہے ؟ فرشتوں نے کہا : تم نے ایک دن پیشاب کیا، پھر وضو کیے بغیر نماز پڑھ لی اور تم نے ایک شخص کو فریاد کرتے ہو سے سنا اور اس کی فریاد رسی نہیں کی۔ ( مصنف عبد الرزاق ج ٣ ص ٣٩٤۔ ٣٩٣۔ رقم الحدیث : ١٨٥٠، طبع جدید، مصنف عبد الرزاق ج ٣ ص ٥٨٧ طبع قدیم)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بےوضو نماز پڑھنے سے اور کسی فریاد کی مدد نہ کرنے سے بھی عذاب قبر ہوتا ہے۔

جن صورتوں میں عذاب قبر سے نجات ملتی ہے

امام نسائی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

(١) حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جو شخص ہر رات کو سورة ” تبارک الذی بیدہ الملک “ پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے عذاب قبر روک لیتا ہے اور ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں اس سورت کو مانعہ کہتے تھے۔

( عمل الیوم واللیلۃ رقم الحدیث : ٧٧١٦ ص ٢١٥، مؤسسۃ الکتب الثقافیہ، بیروت، ١٤٠٨ ھ، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٨٩٢)

(٢) حضرت البراء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے رات کو سونے سے پہلے ”’ الم تنزیل السجدۃ “ کو پڑھا وہ عذاب قبر سے نجات پالے گا اور قبر کے سوال و جواب کرنے والوں سے محفوظ رہے گا۔ ( کنزالعمال رقم الحدیث : ٢٦٨٤)

حضرت خالد بن معدان نے کہا کہ ” الم تنزیل “ قبر میں اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرتی ہیں، وہ کہتی ہے کہ اے اللہ ! اگر میں تیری کتاب سے ہوں تو تو مجھے اس کی شفاعت کرنے والا بنا دے اور اگر میں تیری کتاب سے نہیں ہوں تو تو مجھے اس کتاب سے مٹا دے وہ ایک پرندے کی طرح اپنے پر پھیلا کر اس کی شفاعت کرتی ہے اور اس کو عذاب قبر سے محفوظ رکھتی ہے اور سورة ” تبارک الذی “ بھی اس کی مثل ہے اور حضرت خالد ہر رات ان دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔

(٣) حضرت فضالہ بن عبید اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ہر مرنے والے کا عمل ختم ہوجاتا ہے سوا اس شخص کے جو اللہ کی راہ میں سرحد کی حفاظت کرنے والا ہو، اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہے گا اور وہ فتنہ ( عذاب) قبر سے محفوظ رہے گا ( اس حدیث کی سندصحیح ہے) ۔ (صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٦٢٤، المعجم الکبیر ج ١٨۔ رقم الحدیث : ٨٠٢، المستدرک ج ٢ ص ١٤٤، سنن سعید ابن منصور رقم الحدیث : ٢٤١٤، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٢٥٠٠، شعب الایمان رقم الحدیث : ٤٢٨٧، مسند احمد ج ٦ ص ٢٠ طبع قدیم، مسند احمد ج ٣٩ ص ٣٧٤۔ رقم الحدیث : ٢٣٩٥١ طبع جدید، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢١ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص سرحد کی حفاظت کرتے ہوئے مرگیا، اس کو فتنہ قبر سے محفوظ رکھا جائے گا اور اس کو قیامت کی دہشت سے مامون رکھا جائے گا اور اس کو صبح اور شام جنت سے رزق دیا جائے گا اور قیامت تک اس کے صحیفہ اعمال میں سرحد کی حفاظت کرنے کا اجر لکھا جاتا رہے گا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ ( مصنف عبد الرزاق رقم الحدیث : ٩٦٢٢، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٢٥٥٨، شعب الایمان رقم الحدیث : ٩٨٩٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٧٦٧، مسند البزار رقم الحدیث : ١٦٥٥، مسند احمد ج ٢ ص ٤٠٤ طبع قدیم، مسند احمد ج ١٥ ص ١٣٧۔ رقم الحدیث : ٩٢٤٤ طبع جدید، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

(٤) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص بیماری میں مراد وہ شہادت کی موت مرا، اس کو فتنہ قبر سے محفوظ رکھا جائے گا اور اس کو صبح اور شام جنت سے رزق دیا جائے گا۔

( سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٦١٥، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٦١٤٥، اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ )

(٥) حضرت عبد اللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مسلمان بھی جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات فوت ہوجائے اللہ سبحانہٗ اس کو فتنہ قبر سے محفوظ رکھے گا۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٠٧٤، مشکل الآثار رقم الحدیث : ٢٧٧، الترغیب والترہیب ج ٤ ص ٣٧٣، اثبات عذاب القبر للبیقہی رقم الحدیث : ١٥٦، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ١٤١٣، الکامل لا بن عدی ج ٧ ص ٢٥٥٤، مسند احمد ج ٢ ص ١٦٩، مسند احمد ج ١١ ص ١٤٧۔ رقم الحدیث : ٦٥٨٢ طبع جدید، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

(٦) حضرت مقدام بن معدی کرب الکندی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل کے پاس شہید کے لیے چھ انعام ہیں۔ (١) اس کا جب پہلی بار خون نکلے گا تو اس کی مغفرت کردی جائے گی (٢) وہ جنت میں اپنا مقام دیکھ لے گا (٣) اور اس کو ایمان کامل پہنایا جائے گا (٤) اور بڑی آنکھوں والی حور سے اس کا نکاح کردیا جائے گا (٥) اور اس کو عذاب قبر سے محفوظ رکھاجائے گا (٦) اس کو قیامت کی بڑی دہشت سے مامون رکھا جائے گا۔

(مصنف عبد الرزاق رقم الحدیث : ٩٥٥٩، سنن سعید بن منصور رقم الحدیث : ٢٥٦٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٧٩٩، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ج ٢٠۔ رقم الحدیث : ٦٢٩، شعب الایمان رقم الحدیث : ٤٢٥٤، مسند احمد ج ٤ ص ١٣١ طبع قدیم، مسند احمد ج ٢٨ ص ٤١٩ رقم الحدیث : ٧١٨٢ طبع جدید، مؤسسۃ الرسالۃ، بیرو ت، ١٤١٩ ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ سات قسم کے مسلمانوں کو عذاب قبر سے محفوظ رکھا جائے گا (١) جو شخص ہر رات کو سورة ” تبارک الذی “ کی تلاوت کرے (٢) جو شخص ہر رات کو سورة ” الم تنزیل “ کی تلاوت کرے (٣) جو شخص مسلمان ملک کی سرحد کی حفاظت کرتا ہوا مرجائے (٤) جو شخص کسی بیماری میں مرجائے (٥) جو شخص جمعہ کے دن یا جمعہ کی شب فوت ہو (٦) جو شخص اللہ کی راہ میں شہید ہو (٧) جس مسلمان کی قبر پر درخت کی شاخ کو گاڑ دیا جائے (٨) آٹھویں صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جس مسلمان کو کسی نیک مسلمان کے جوار میں دفن کردیا جائے تو توقع ہے کہ اس نیک مسلمان کی برکت سے وہ بھی عذاب قبر سے محفوظ رہے، کیونکہ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم نیک مسلمانوں کے قرب اور جوار میں موت کی دعا کریں، قرآن مجید میں ہے :

وتوفنا مع الابرار۔ ( آل عمران : ١٩٣) ہم کو نیک مسلمانوں کے قرب میں موت عطاء فرما۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دعا کی :

تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ ۔ (یوسف : ١٠١) مجھے اسلام پر موت عطاء فرما اور مجھے نیکوں کے ساتھ ملا دے۔

القرآن – سورۃ نمبر 52 الطور آیت نمبر 47