ذکرِ اہل بیت ہرگز رافضیت نہیں ، مگر جو ذکر کسی صحابی رسولﷺ پر طعن وتشنیع کروائے ، اور اس ذکر سے کسی بھی صحابی کے بارے میں نفرت پیدا ہو ، وہ ذکر ضرور رافضیت ہے ۔

 

اسی طرح شان و دفاع صحابہ کرام ہرگز ناصبیت نہیں ، مگر جس دفاع و شان کے بیان سے کسی بھی فردِ اہل بیت کی توہین کا پہلو نکلتا ہو تو وہ ضرور ناصبیت ہے ۔

 

ہم اہل سنت کا نہ دشمنان صحابہ سے کوئی تعلق ، اور نہ ہی گستاخانِ اہل بیت سے کوئی واسطہ ۔ ہم پر تمام صحابہ و اہل بیت کا نبی پاک ﷺ کی نسبت کی وجہ سے ادب و احترام کرنا اور ان سے پیار و محبت رکھنا واجب ہے ۔

 

لہذا ہر اُس محقق کی تحقیق ، مقرر کی تقریر ، پیر کا ادب اور مولوی کا علم ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں ، اور ایسے لوگوں کو جوتے کی نوک پہ رکھیں ، جو صحابہ و اہل بیت میں سے کسی ایک کا بے ادب و گستاخ ہو ۔

 

✍️ارسلان احمد اصمعی قادری

3/12/2021ء