ایک متعصب دیوبندی کے ایک اعتراض کا جواب

ازقلم:اسد الطحاوی الحنفی

 

آج ایک متعصب دیوبندی جسکا نام افضال کلیم ہے جسکو اعلی حضرت فوبیہ ہے ۔ یہ دن رات امام احمد رضاء کے خلاف کچھ نہ کچھ کاپی پیسٹ مارتا رہتا ہے اور ہمارے مولوی اسکی جہالت عیاں کرتے رہتے ہیں ۔

 

خیر اسکی نئی نا ٹنکی جو ہم کو دیکھنے کو ملی ہے اب اسکا جواب پیش کرتے ہیں ۔

 

موصوف لکھتا ہے :

 

🏀آئیے بہت بڑے مشرک بلکہ مشرکوں کے امام سے ملیں

🏀رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی گزر گئی یہی سمجھاتے ہوۓ کہ اللہ سے مانگو

🏀اور یہ مشرک صاحب کہتے ہیں میں نے جب بھی مدد مانگی یا غوث ہی کہا

یعنی یا اللہ کبھی نہ کہا

افسوس!!

🏀احمد رضا کے پیرو کار اس قسم کے حوالے بہت دیتے ہیں کہ شیخ عبدالقادر نے کہا مجھ سے مدد مانگو میں مدد کروں گا

شیخ زروق نے کہا مجھ سے مدد مانگو میں مدد کروں گا

اللہ کے کہے پہ انہیں یقین نہیں کہ اللہ مدد کرے گا

🏀یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے رضا خانی کو نجات

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب (اسد الطحاوی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اسکی جہالت کا سارا زور اس طرف ہے کہ یہ ہمارے امام کے بارے کہتا ہے احمد رضاء کہتا ہے کہ ”میں نے جب بھی مدد مانگی ہے تو یا غوث کہا ہے” جسکا مطلب آگے لکھتا ہے کہ وہ اللہ کو نہیں پکارتا ہے ۔

 

سب سے پہلے اس حصہ پر بات کرتے ہیں

 

اس نے جو اسکین لگایا ہے اس میں صاف لکھا ہے ہے کہ اعلیٰحضرت سے سوال ہوا کہ شیخ رزوق کا قول ہے کہ جب کوئی تکلیف پہنچے تو میرے نام سے ندا کرو میں فورا مدد کے لیے پہنچوں گا ۔

 

اسکا جواب دیتے ہوئے اعلیٰحضرت فرماتے ہیں:

”میں نے کبھی اس قسم کی مدد طلب نہ کی جب کبھی استعانت کی تو یا غوث ہی کہا” ۔

انتھی

 

اس عبارت میں بالکل عیاں ہے کہ اعلی حضرت نے جو فرمایا کہ ”میں نے کبھی ا قسم کی مددطلب نہ کی” تو سوال ہے کہ یہ قسم کونسی ہے جسکا ذکر اعلی حضرت کر رہے ہیں ؟

تو اسکا جواب ہے کہ اس قسم سے مراد ہے غیر اللہ سے استغاثہ کہ غیر اللہ سے ولیوں میں نے جب استغاثہ کیا ہے تو میں نے کبھی شیخ رزوق کو کبھی نہیں نداء نہیں دی ہے اور نہ ہی کسی اور کو اور نہ ہی عمومی یہ طریقہ کار ہے کہ بندہ اللہ کو یا اسکے رسول ﷺ کو چھوڑ کر فقط اولیاء اللہ کو پکارتا رہے ۔ جب کہ وہ بھی اللہ کے محتاج ہیں ۔

 

اور کبھی استعانت (غیر اللہ ) کی بھی ہے تو یا غوث کہا ہے ۔

یعنی چونکہ شیخ عبدالقادر کا یہ فرمان ہے تو ہماری جب کوئی دعا اللہ قبول نہیں فرماتا تو انکے محبوب ولی سے اللہ کی طرف رابطہ کرتے ہیں یا غوث کہہ کر سفارش کرتے ہیں ۔

 

اس میں چیدہ چیدہ نکات یہ ہے

 

۱۔ اعلی حضرت اس قسم کی ندا شیخ رزوق کے نام سے کبھی نہیں لگائی

۲۔ اعلی حضرت نے جب کبھی استعانت و استغاثہ غیر اللہ کیا بھی تو شیخ غوث پاک کا استغاثہ کیا ہے کیونکہ انکا انکا مقام تمام اولیاء اللہ پر مقدم ہے جو انکے بعد کے زمانہ کے ہیں ۔

۳۔ اس میں کہیں یہ بات نہیں کہ اللہ سے دعا میں کرتا ہی نہیں یا اللہ کو ہمیشہ کے لیے دعا کرنا ترک کے بس یا غوث کہتا رہتا ہے معاذاللہ

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

لیکن اس متعصب دیوبندی نے اعلی حضرت کے کلام میں کیا خیانت کی اس نے لکھا :

”اور یہ مشرک صاحب کہتے ہیں میں نے جب بھی مدد مانگی یا غوث ہی کہا” جبکہ اعلی حضرت کی عبارت میں ہے کہ جب کبھی استعانت کی (یعنی جب کبھی غیر اللہ سے استغاثہ کیا بھی )تو یا غوث کہا ۔ اور اس سے پہلے کہتے ہیں میں اس قسم کا استغاثہ کرتا نہیں یعنی عمومی طور پر ایسا نہیں کرتا لیکن چونکہ غوث پاک کا قول ہے تو ہم جب کبھی استغاثہ کریں تو یا غوث کے نام سے کرتے ہیں ۔

۔۔۔۔

 

اب چونکے متعصب دیوبندی نے جو جھوٹٰی عبارت اعلی حضرت پر لگائی ہے الفاظ میں (کبھی) کو ہٹا کر ۔ اب ہم اس پر ائمہ دین محدثین کی عبارت پیش کرتے ہیں اور اس سے پوچھیں گے کہ انکو بھی یہ امام المشرکین کہے گا ؟

کیونکہ یہ تو متقدمین میں سے ہیں اور تابعین سے بھی کچھ تو پھر اعلی حضرت انکی تعلیمات پر چلیں تو وہ مشرکوں کے امام کیسے بن جاتے ہیں ؟

 

امام خیثمہ نے اپنی تاریخ میں تابعی حضرت محمد بن منکدر کا عمل روایت کیا ہے :

 

حَدَّثَنا مُصْعَب، قَالَ: حدثني إسماعيل بن يعقوب التَّيْمِيّ، قَالَ: كان مُحَمَّد بن الْمُنْكَدِر يجلس مع أصحابه فكان يصيبه الصمات فكان يقوم كما هو يضع خده على قبر النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثم يرجع فعوتب في ذلك فقال: إنه تصيبني خطره فإذ وجدتُ ذلك استغثت بقبر النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

 

محمد بن منکدر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیٹھتے تو ان کو بہرے پن کا مرض لاحق ہو جاتا۔وہ وہاں سے اٹھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر اپنے رخسار رکھتے ، پھر واپس پلٹ آتے۔ اس فعل پر ملامت کی گئی ، تو انہوں نے کہا: جب مجھے مرض کا خطرہ محسوس ہوتا ہے، تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر جا کر فریاد کرتا ہوں۔ (تو مجھے شفاء ملتی ہے )

[التاریخ الکبیر لابن ابی خیثمہ:258/2 وسندہ حسن]، [سیر اعلام النبلاء]

 

اب کیا یہ دیوبندی کہے گا کہ چونکہ تابعی نے کہا ہے :إنه تصيبني خطره فإذ وجدتُ ذلك استغثت بقبر النَّبِيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

جب مجھے مرض کا خطرہ محسوس ہوتا ہے، تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر جا کر فریاد کرتا ہوں

 

اب دیوبندی کیا امام ابن منکدر تابعی علیہ رحمہ کی بات کا یہ مطلب نکالے گا چونک انکو جب بھی خطرہ لاحق ہوتا تو یہ حضورﷺ کی قبر مبارک پر جا کر رخسار مسک کرتے اللہ کو یاد نہ کرتے تو یہ بھی مشرک (معاذاللہ)

۔۔۔۔۔۔۔

 

ایک دوسری روایت :

ایک عظیم محدث امام ابو عبداللہ الحسین بن اسماعیل الماحلی (المتوفى: 330 هـ )جنکے بارے امام ذھبی فرماتے ہیں :

القاضي الإمام العلامة المحدث الثقة مسند الوقت أبو عبد الله الحسين بن إسماعيل بن محمد بن إسماعيل بن سعيد بن أبان الضبي البغدادي المحاملي مصنف السنن

یہ قاضی امام علامہ محدث ثقہ اپنے وقت کے مسند زمانہ ابو عبداللہ المحاملی جو کہ کتاب السنن کے مصنف ہیں

[سیر اعلام النبلاء برقم ۱۱۰]

 

امام محدث الماحلی فرماتے ہیں امام معروف کرخی مشہور ولی اللہ کی قبر کے بارے :

 

حدثني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الله الصوري، قال: سمعت أبا الحسين محمد بن أحمد بن جميع، يقول: سمعت أبا عبد الله ابن المحاملي، يقول: أعرف قبر معروف الكرخي منذ سبعين سنة ما قصده مهموم إلا فرج الله همه.

امام عبداللہ ابن المحاملی فرماتے ہیں معروف کرخی کی قبر کو ستّرسال سے پہچانتا ہوں جب بھی کسی مغموم شخص نے اس (کی قبر کی زیارت) کا ارادہ کیا اللّہ تعالی نے اس کے غم کو دور فرمادیا.

[تاریخ بغداد، وسندہ صحیح]

 

اب کیا یہ متعصب دیوبندی کہے گا کہ بقول ابن الماحلی کے جو بندہ کسی غم و مصیبت میں مبتلا ہو کر بقول انکے معروف کرخی کی قبر پر جاتا ہے تو اللہ تواسکی مشکل آسان کر دیتا ہے لیکن یہ بندے اللہ کو چھوڑ کو معروف کرخی کی قبر پر جانے کے سبب مشرک ہیں انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر ایک مردے کو مشکل کشا بنا لیا ۔۔۔۔

اسکے جوابات دینا دیوبندی کے زمے ہیں ۔۔۔

 

اب چونکہ یہ جو اولیاء اللہ کے قول ملتے ہیں بعض کتب میں کہ مجھے مصیبت میں پکارنا اسکا مطلب ان اولیاء اللہ کا ہرگز یہ نہیں کہ تم اللہ کو قادر مطلق چھوڑ کر ہم کو قادر سمجھ کر پکارو۔۔۔

بلکہ جب اللہ اپنے بندے کی کوئی دعا قبول نہیں کرتا اسکے گناہوں کے سبب تو بندہ اللہ کے ہاں انکی محبوب ہستیوں کا وسیلہ دیتا ہے تاکہ اللہ کو اپنے ولی کے سبب حیاء آجائے اور وہ ہماری دعا اس سبب قبول کر لے ۔

جیسا کہ حدیث صحیح میں موجود ہے کہ اللہ سفید داڑھی والون سے حیاء کریگا قیامت کے دن انکو بخش دیگا۔ تو حیاء کرنا بھی اللہ کی صفت ہے ۔

 

ایک قول امام معروف کرخی کا ہم بھی بیان کر دیتے ہیں ایسا جیسا کہ امام ابو نعیم صفہانی روایت کرتے ہیں :

 

حدثنا جعفر بن محمد بن نصير , في كتابه وحدثني عنه عثمان بن محمد العثماني , قال أخبرنا أحمد بن مسروق، حدثني يعقوب ابن أخي معروف الكرخي , قال لي عمي: «يا بني إذا كانت لك إلى الله حاجة فسله بي»

 

امام معروف کرخی اپنے بھتیجے سے فرماتے ہیں اے بیٹے! جب تم کو حاجت کے لیے اللہ کی ضرورت ہو تو میرے زریعے سوال کرنا

[حلية الأولياء وطبقات الأصفياء ج۸، ص]

 

اس سند کے سارے رجال ثقہ ہیں سوائے امام معروف کرخی کے بھتیجے کے انکا ذکر امام خطیب نے بغیر جرح و تعدیل کے کیا ہے اور اس قول کو تقویت حاصل ہے پچھلی روایت سے ۔ اور اس قول کو مزید تقوید درج ذیل روایت بھی دیتی ہے

جسکو امام خطیب نے روایت کیا ہے اپنی تاریخ بغداد میں :

أخبرني أبو إسحاق إبراهيم بن عمر البرمكي، قال: حدثنا أبو الفضل عبيد الله بن عبد الرحمن بن محمد الزهري، قال: سمعت أبي يقول: قبر معروف الكرخي مجرب لقضاء الحوائج، ويقال: إنه من قرأ عنده مائة مرة قل هو الله أحد وسأل الله تعالى ما يريد قضى الله له حاجته.

 

امام عبدالرحمن بن محمد الزھری فرماتے ہیں :حضرت امام معروف کرخی کی قبر حاجات کو پورا کرنے کے لیے آزمودہ ہےکہا جاتا ہے کہ جو بھی انکی قبر کے پاس قل ھو اللہ احد انکی قبر کے پاس جا کر ۱۰۰ بار پڑھے پھر اللہ سے جو بھی دعا کرے اللہ اسکی دعا قبول فرماتا ہے

[تاریخ بغداد وسندہ صحیح]

ہماری بیان کردہ تمام روایات کی سند حسن و صحیح ہیں لیکن اسکی تحقیق ہم پیش کر دیتے ہیں تاکہ کسی کو یہ غلط فہمی نہ رہے کہ ہم فقط دعویٰ کر رہے ہیں

سند کے رجال کا تعارف!

۱۔پہلے راوی : امام ابراہیم بن عمر البرمکی

إبراهيم بن عمر بن أحمد بن إبراهيم، أبو إسحاق البرمكي البغدادي، الفقيه الحنبلي. [المتوفى: 445 هـ]

قال الخطيب: كتبنا عنه، وكان صدوقا دينا فقيها على مذهب أحمد بن حنبل

امام خطیب کہتے ہیں میں نے ان سے لکھا ہے یہ صدوق ہیں یہ مذہب احمد بن حنبل کے فقھاء میں سے تھے

[تاریخ الاسلام برقم:۱۳۴]

 

۲۔ سند کے دوسرے راوی : امام ابو الفضل

امام ذھبی انکی توثیق نقل کرتے ہوئے لکھتےہیں :

الشيخ، العالم، الثقة، العابد، مسند العراق، أبو الفضل عبيد الله بن عبد الرحمن بن محمد بن عبيد الله بن سعد ابن الحافظ إبراهيم بن سعد بن إبراهيم ابن صاحب النبي – صلى الله عليه وسلم – عبد الرحمن بن عوف القرشي الزهري العوفي البغدادي

[سیر اعلام النبلاء برقم 282]

 

۳۔ سند کے تیسرے راوی: امام عبد الرحمن بن محمد بن عبيد الله

اور یہ صحابی رسول حضرت عبد الرحمن بن عوف القرشی کی نسل سے تھے

صرف پانچ واسطوں سے انکا سلسلہ نسب صحابی رسول ﷺ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ سے ملتا ہے

امام خطیب نے انکی توثیق کی ہے :

– عبد الرحمن بن محمد بن عبيد الله بن سعد بن إبراهيم بن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف(صحابی رسولﷺٌ)

وكان ثقة.

[تاریخ بغداد برقم : 5373]

۔۔۔۔۔۔۔

 

اب دیوبندی اپنی ریڈی میڈ توحید کے سبب ان تمام ائمہ دین کو جن میں تابعی اور خیر القرون کے محدثین ہیں ورنہ تسلیم کرے کہ استغاثہ غیر اللہ کو اللہ کی توحید کے منافی سمجھنا اسکی نا سمجھی ہے ۔

 

تحقیق: اسد الطحاوی الحنفی البریلوی