اکھلیش اویسی سے اتحاد کیوں کرے؟

 

غلام مصطفےٰ نعیمی

روشن مستقبل دہلی

 

اکھلیش یادو نے اسدالدین اویسی کے ساتھ کسی بھی اتحاد سے صاف منع کردیا ہے۔بعض جذباتی مسلمان بڑے غصے میں ہیں کہ جب اکھلیش یادو آدھا درجن پارٹیوں سے اتحاد کر سکتے ہیں تو اویسی کی پارٹی سے اتحاد کرنے میں کیا برائی ہے؟

پہلی نظر میں دیکھا جائے تو اکھلیش پر غصہ تو آتا ہے مگر سیاسی نظریے سے دیکھا جائے تو اکھلیش کا فیصلہ سیاسی چالاکی اور پختہ سیاسی شعور کا مظاہرہ ہے۔

آپ سوچ رہے ہوں گے یہ کیسا سیاسی شعور ہے جس میں مہان دَل جیسی زیرو پوزیشن والی پارٹی کے لیے جگہ ہے لیکن تین صوبوں میں ممبران اسمبلی رکھنے والی پارٹی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔آئیے اسے سیاسی اعداد و شمار کی روشنی میں سمجھتے ہیں تاکہ آپ اکھلیش کی سیاسی ہوشیاری کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔

 

یوپی کی سیاسی تصویر:

 

یوپی میں ٧٥ ضلع ہیں جن میں اسّی پارلیمانی اور 403 اسمبلی سیٹیں ہیں۔یہاں کی سیاست ذات پات اور مذہب کے ارد گرد گھومتی ہے اس لیے پہلے یوپی کا سیاسی نقشہ سمجھ لیں:

🔹 دَلِت: 21.2 فیصد

🔸 مسلم : 20 فیصد

🔹 برہمن : 5.88 فیصد

🔸 راجپوت : 5.28 فیصد

🔹 بنیے : 2.28 فیصد

🔸 یَادَوْ : 6.47 فیصد

🔹 کُرمی : 3.2 فیصد

🔸 جاٹ : 1.7 فیصد

 

اس فہرست کو غور سے دیکھیں، ایک بار میں سمجھ نہ آئے تو دوبارہ پھر دیکھیں، اگر سمجھ آجائے تو بتائیں کہ ووٹ پرسنٹ کی بنیاد پر صوبے میں کس کی حکومت بننا چاہیے؟

معمولی عقل رکھنے والا بھی یہی جواب دے گا زیادہ ووٹنگ پرسنٹ کی بنیاد پر دَلت حکومت بنائیں گے یا مسلمان! کیوں کہ حکومت سازی کے لیے کم از کم 25 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔صوبے میں دَلت اور مسلمانوں کی تعداد ہی بیس فیصد یا اس سے زیادہ ہے باقی سارے طبقات پانچ سے سات فیصد کے درمیان ہی سمٹ جاتے ہیں۔یعنی ان کی حیثیت اتنی نہیں کہ اپنے بوتے حکومت سازی کرسکیں، لیکن مزے دار بات تو یہ ہے تعداد میں کم ہونے کے باوجود ہندو اپر کاسٹ(Hindu upper caste) کے افراد سب سے زیادہ وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔اب تک یوپی میں کل 20 افراد وزیر اعلیٰ کی کرسی تک پہنچے ہیں جن میں اپر کاسٹ کے 13 افراد ہیں۔یعنی 20 میں سے 13 افراد تو اپر کاسٹ کے ہوگیے باقی بچے سات میں سے 3 یادو، ایک جاٹ، ایک دلت، ایک کائستھ اور ایک لودھی سماج سے منتخب ہوا ہے۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس فہرست میں مسلمان کہاں ہیں؟

تو حضور والا!

دل تھام کر سنیں، یوپی کے مسلمان اس فہرست سے مکمل طور پر خارج ہیں، ان کے کھاتے میں صرف زیرو ہے۔سماجی اعتبار سے وزرائے اعلیٰ کی پوری تفصیل اس طرح ہے:

 

🔹 پنڈت سماج : چھ افراد وزیر اعلیٰ بنے

🔸راجپوت سماج : چار افراد وزیر اعلیٰ بنے

🔹بنیا سماج : تین افراد وزیر اعلیٰ بنے

🔸یادو سماج : تین لوگ وزیر اعلیٰ بنے

🔹دَلِت سماج : ایک فرد منتخب ہوا

🔸جاٹ سماج : ایک فرد منتخب ہوا

 

یہ فہرست محض افراد کے اعتبار سے ہے، اس میں شامل افراد ایک سے زائد بار بھی وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔یادو سماج کے تین افراد رام نریش یادو، ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے مگر تنہا ملائم سنگھ ہی تین مرتبہ وزیر اعلیٰ بنے۔اسی طرح دلت سماج سے بھلے ہی ایک ہی فرد مایاوتی وزیر اعلیٰ بنیں، مگر وہ چار مرتبہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوچکی ہیں۔

 

مسلمان کہاں ہیں؟

 

یوپی میں برہمن چھ فیصد سے کم ہیں مگر ان کے چھ افراد وزارت اعلیٰ تک پہنچے۔ راجپوتوں کی تعداد محض پانچ فیصد ہے مگر ان کے بھی چار افراد وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔بنیا سماج بھلے ہی تین فیصد سے کم ہے مگر ان کے بھی تین افراد وزارت اعلیٰ کی کرسی پر فائز ہوچکے ہیں۔یادو سماج جنہیں اہیر بھی کہا جاتا ہے تعداد میں بھلے ہی چھ فیصد ہی ہیں مگر ان کے بھی تین افراد پانچ مرتبہ وزیر اعلیٰ ہوچکے ہیں جب کہ دلت سماج سے بھلے ہی ایک فرد کو موقع ملا مگر دلتوں کی سیاسی سوجھ بوجھ کی تعریف کرنا ہوگی کہ دیر سے ہی سہی لیکن انہوں بھی چار مرتبہ اپنا وزیر اعلیٰ بنانے میں کامیابی حاصل کی۔اور ہاں! سب سے زیادہ تعریف تو جاٹ سماج کی ہونا چاہیے جنہوں نے محض ڈیڑھ فیصد ہونے کے باوجود ایک بار ہی سہی مگر اپنا وزیر اعلیٰ بنانے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔سوال اٹھتا ہے کہ جب چھ فیصد والے یادو اور ایک فیصد والے جاٹ، وزیر اعلیٰ منتخب ہوسکتے ہیں تو آخر بیس فیصد والے مسلمان کہاں چوک رہے ہیں جو آج تک وزیر اعلیٰ تو دور نائب وزیر اعلیٰ تک نہیں بن سکے! جواب صرف اتنا ہے کہ مذکورہ قومیں حکومت سازی میں اس لیے کامیاب ہوئیں کہ انہوں نے سیاسی میدان میں اپنی قیادت کو پروان چڑھایا اور حکومت بنائی مگر مسلمان آزادی سے لیکر آج تک دوسروں کا بوجھ ڈھونے میں لگے ہوئے ہیں۔آزادی سے 1990 تک آنکھ بند کرکے کانگریس کے وفادار بنے رہے۔بابری مسجد کی شہادت کے بعد غیرت بیدار تو ہوئی مگر غلط وقت اور غلط سمت کی طرف نکل گئی، جس کا بھرپور فائدہ ملائم سنگھ کی سماج وادی اور کانشی رام/مایاتی کی بہوجن سماج پارٹی نے اٹھایا۔مسلمانوں کی حمایت سے ملائم سنگھ تین مرتبہ، اور ایک مرتبہ ان کا بیٹا اکھلیش یادو وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے جب کہ مایاوتی مسلمانوں کی حمایت کی بدولت چار مرتبہ وزیر اعلیٰ کی کرسی تک پہنچ چکی ہیں۔مایاوتی تو ایک حد تک یہ کہہ سکتی ہیں کہ مجھے وزیر اعلیٰ بنانے میں تنہا مسلمانوں کا رول نہیں ہے بلکہ دلت سماج کا بھی بڑا رول ہے، کیوں کہ دلت سماج تقریباً 22 فیصد ہے۔لیکن ملائم سنگھ کی یادو برادری محض چھ فیصد ہے جس کے دم پر وہ زیادہ سے زیادہ 15/20 سیٹیں ہی جیت سکتے ہیں۔ان کی سیاست کا سارا دار ومدار 20 فیصد مسلم ووٹوں پر ہے۔مسلمانوں کا یکمشت 14/15 فیصد ووٹ مل جاتا ہے، کچھ یادو اور کچھ او بی سی برادریوں کا ووٹ مل جاتا ہے اس طرح سماج وادی پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔اگر سماج وادی پارٹی سے مسلمان الگ ہوجائیں تو سماج وادی پارٹی ایٹہ سے اٹاوہ تک سمٹ کر رہ جائے گی۔

 

اویسی سے اتحاد نہیں!

 

اسدالدین اویسی ایک پڑھے لکھے، دور اندیش اور فکر وشعور رکھنے والے قابل لیڈر ہیں۔ان کی سیاست کا محور صرف مسلمان ہیں۔حالانکہ وہ دلتوں، پچھڑوں اور دیگر طبقات کو بھی نمائندگی دیتے ہیں مگر ان کی اصل طاقت مسلم ووٹوں سے ہی ہے۔یوپی میں قریب چار کروڑ مسلمان ہیں۔جو 140 سیٹوں پر فیصلہ کن پوزیشن رکھتے ہیں، یہی سوچ کر اویسی صاحب نے یوپی میں قدم رکھا ہے۔اگلے سال یوپی میں اسمبلی الیکشن ہے۔جس میں بی جے پی اور سماج وادی کے درمیان راست لڑائی کا امکان ہے۔حالانکہ مایاوتی اور کانگریس بھی تکونا مقابلہ بنانے کی بھرپور کوشش میں جٹی ہیں۔مگر زمینی سطح پر سماج وادی پارٹی ہی سب سے مضبوط نظر آرہی ہے۔بی جے پی کو گھیرنے کے لیے اکھلیش نے قریب نصف درجن سے زائد چھوٹی اور نئی پارٹیوں سے اتحاد کیا ہے جن میں مَہان دَل جیسی پارٹی بھی ہے جسے صوبے میں ڈھنگ سے کوئی جانتا تک نہیں۔اتحادیوں کی بھیڑ جمع کرنے کے باوجود اکھلیش نے اویسی صاحب سے اتحاد کرنے سے صاف منع کردیا ہے۔اس انکار کے پیچھے اپنا ووٹ بینک ختم ہوجانے کا ڈر ہے۔گذشتہ الیکشن نتائج سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یادو برادری لگاتار اکھلیش کا ساتھ چھوڑ رہی ہے۔سال 2012 کے اسمبلی الیکشن میں انہیں یادوں کا 83 فیصد ووٹ ملا تھا۔2017 کے الیکشن میں یہ ووٹ فیصد گر کر 53 فیصد تک رہ گیا۔2019 کے پارلیمانی الیکشن میں یہ آنکڑا گر کر 29 فیصد تک رہ گیا۔جس کی بنا پر ملائم فیملی کے لوگ بھی یادو اکثریتی سیٹوں پر ہار گئے، جن میں اکھلیش کی بیوی بھی شامل ہیں جو اپنی پشتینی سیٹ قنوج سے ہار گئیں۔ایسے میں اکھلیش کو صرف مسلم ووٹوں کا آسرا ہے۔اب اویسی سے اتحاد کر لیا جائے تو معاملہ سیٹوں کی تقسیم پر پھنسے گا۔سماج وادی پارٹی کا دارومدار مسلم ووٹوں پر ہے تو اویسی بھی مسلم ووٹوں ہی کے سہارے سیاست کرتے ہیں۔اتحاد کی صورت میں اویسی ہندو اکثریتی علاقوں کی سیٹ تو لیں گے نہیں، مسلم علاقوں ہی کی سیٹ مانگیں گے، جیسے رامپور، مرادآباد ،بریلی، امروہہ،سنبھل، مظفر نگر، اعظم گڑھ، کانپور وغیرہ۔ اب اویسی کو ان علاقوں کی سیٹ دینے کا مطلب ہوگا اپنی ہری بھری فصل دوسروں کو سونپنا۔بالفرض اویسی کا اکھلیش سے اتحاد ہوجائے تو مسلم علاقوں سے اویسی کی جیت تقریباً یقینی ہوجائے گی کہ مسلمانوں کے پاس دوسرا آپشن نہیں ہوگا۔اب اگلے الیکشن میں میں اویسی اُنہیں سیٹوں پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ سیٹوں میں اضافہ چاہیں گے، اضافہ شدہ میں سے کچھ اور جیت لیں گے تو اگلے الیکشن میں مزید سیٹیں بڑھائیں گے اس طرح دس پندرہ سال میں اکھلیش میاں مسلم اکثریتی علاقوں سے نکل کر ایٹہ اور اٹاوہ تک سمٹ جائیں گے جہاں وہ ضلع پنچایت اور بلاک پرمکھ ہی بن سکتے ہیں، وزیر اعلیٰ بننے کا خواب انہیں چھوڑنا پڑے گا۔اس لیے اکھلیش سب سے اتحاد کر سکتے ہیں مگر مسلم پارٹی سے نہیں۔اور یہ سوچ صرف اکھلیش ہی کی نہیں ہے تقریباً ہر سیکولر پارٹی ایسا ہی سوچتی ہے۔اُنہیں لگتا ہے کہ ایک بار مسلم قیادت سیٹ ہوگئی تو وہ کہاں جائیں گے؟اب مسلم قیادت کو روکنے کے لیے ہر سیکولر پارٹی کے پاس ایک اچوک نسخہ ہے جسے آزادی سے اب تک نہایت کامیابی سے استعمال کیا گیا ہے، وہ نسخہ ہے مسلم قیادت کو آر ایس ایس اور بی جے پی کا ایجنٹ کہنا۔سیکولر پارٹی کا فرمان سننے کے بعد مسلم قوم بھی یہی بولی بولنے لگتی ہے نتیجتاً مسلم قیادت کچھ ہی سالوں میں ختم ہوجاتی ہے۔اور مسلمان نسل در نسل سیکولر پارٹیوں کی دری بچھانے میں ذرہ برابر شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔دیکھتے ہیں اس الیکشن میں یوپی کے مسلمان بہاری مسلمانوں کی طرح عقل مندی دکھاتے ہیں یا اکھلیش بھیّا پر ہی جوانی قربان کریں گے۔

 

٢٨ ربیع الثانی ١٤٤٣ھ

4 دسمبر 2021 بروز ہفتہ