رسمِ نکاح اور فوٹو گرافر و مووی میکر

 

عام مشاہدہ ہے ، فوٹو گرافر شادی کی رسوم میں 4 سے 5 دن کے واسطے آپکا ” محرم ” بن جاتا ہے، بلا جھجھک و بلا

خوف و خطر گھر کی خواتین خصوصاً 18 سال سے اوپر

کی لڑکیوں کو خود بلا بلا کر تصاویر کھینچنا انکا محبوب

” مشغلہ ” ہوتا ہے

 

دلہن کو تو موم کی گڑیا سمجھتا ہے ، ایسے بیٹھو، اس طرح اپنے شوہر کی بانہوں میں بانہیں ڈالو ، حتٰی کے لٹانے سے

بھی گریز نہیں کرتا ،

 

یوں سمجھیں ، عزت دار کہلانے والے ، مذہبی وضع قطع

والے، بڑی بڑی داڑھیوں والے، اپنی اس بیٹی کو اکثر و

بیشتر نا محارم سے پردہ کراتے ہیں مگر شادی کے دوران ایک انجان بلکہ

اوباش و عیاش ” فوٹو گرافر ” کے حوالے کردیتے ہیں

کہ لو تمھیں سونپ دی اب جو چاہے کرو ( معاذ اللہ)

 

ایسے ہی “عزت داروں” کو احادیث میں ” دیوث ” کہا گیا

جو جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھے گا

 

میرے ایک قابلِ اعتماد دوست جو یہ کام کرکے چھوڑ چکے

ہیں خود مجھے یہ ہوشربا حقائق بتائے جسمیں سے چند

یہ ہیں !!!

من پسند لڑکیوں کی تصاویر کھینچتے ہیں ،،

پھر انکے ” مخصوص ” جسمانی حصوں کی تصاویر

لیتے ہیں جنہیں کسی کو معلوم نہیں ہوتا

تصویر لینے کے بہانے بہت سے جری و بے باکی سے

ہاتھ لگانے سے بھی نہیں چوکتے

انہیں تصاویر سے تنہائ یا اوباش دوستوں کے ساتھ

لطف و اندوز ہوتے ہیں

پھر یہی تصاویر فیس بک، و نیٹ کی نذر ہوجاتی ہیں

 

رسمِ نکاح اصل میں زن و شو کے میان ” عقد و پیمان

و ایجاب و قبول” کا نام ہے،

اپنی محارم ، بیوی، بیٹی، ماں و دیگر کو نا محرم فوٹو

گرافر یا مووی میکر کے ہاتھ میں سونپ دینے کا نام

نہیں !!

 

آپ سوچ رہے ہونگے ابنِ حجر کہتا ہے، مگر کرتا نہیں

الحمد اللہ !

میری شادی میں نہ مایوں ہوئ، نہ مہندی نہ بری

نہ مرد و زن کا اختلاط ہوا

نہ فوٹو و مووی کی لعنت

آج بھی میرے بچے کہتے ہیں ایک فوٹو تو کھنچوالیتے!!

 

ہم نے اسی رسمِ نکاح میں دھوم دھڑکا ، شور شرابہ، گانے

باجے، میوزک، ڈانس ہی کو ” کامیاب نکاح ” نام دے

رکھا ہے!!!

 

اصل کامیاب نکاح وہی ہے جمسیں اللہ (عزوجل)و رسول

صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی بجا آوری کی جاوے۔۔

نہ کہ نا فرمانیوں کے ریکارڈ توڑے جاویں !!!

 

ابنِ حجر

4/12/2020ء