پاکستانی وزیراعظم نے سری لنکن شہری کو جنونی افراد کے بے دردی سے زندہ جلانے پر سری لنکا کی حکومت اور عوام سے ندامت کا اظہار کیا جس پر میں بجا طور پر عمران خان کی حمایت کروں گا۔

اسی دوران پاکستان کا ایک مخصوص طبقہ اس انسان سوز واقعہ پر بہت برہم دکھائی دیتا ہے اور حکومت کو ڈو مور بھی کہتا نظر آتا ہے۔

لیکن

حیرت ہے چند سال پہلے برطانیہ میں جنونیوں نے ایک بے گناہ پاکستانی خاندان فسادات میں مار ڈالا تھا جس پر نہ برطانیہ نے معافی مانگی تھی نہ برطانیہ میں عوامی ردعمل آیا۔

اسی طرح معروف ٹی وی اداکار جمیل فخری کے بیٹے کو امریکہ میں جنونیوں نے کار میں ان کے بیٹے کو زندہ جلا دیا نہ امریکہ نے معافی نہ وہاں امریکہ میں عوامی ردعمل آیا۔

ایسے درجنوں واقعات معلوم ہیں

سری لنکن شہری کے قتل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اس طبقے کی منافقت کو ننگا کرنا بھی فرض ہے جسے ان پاکستانیوں کی المناک موت پر سانپ سونگھ جاتا ہے چاہے یوحنا آباد میں “مذہبی جنونیوں” کے ہاتھوں ایک بے گناہ کو زندہ جلا دیا جائے۔ کیا مسلمان پاکستانی کا زندہ جلنا کوئی سانحہ نہیں؟

ان نام نہاد انسانی حقوق کے چیمپئنز کو یقین جانیں سری لنکن کی جلتی لاش پر جتنی خوشی ہوئی ہو گی وہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اس سانحہ کی آڑ میں اب اسلام پر جی بھر کے زہر نکال سکیں گے۔

کیونکہ

 

ہمیں سالے لبرل بھی دو نمبر ملے !

۔

از چودھری مبشر