سانحہ سیالکوٹ

اسلام ہرگز کسی کے غلط عمل کا ذمے دار نہیں اور نہ شرمندہ ہے ۔گرچہ یہ سانحہ جو انتہائی افسوس ناک اور شرمناک ہے مگر

یہ سوال انتہائی فرسودہ فکرکا ہے کہ

” کس منہ سے کہا جائے گا کہ اسلام ایک پرامن مذہب ہے “

کیا یہ حقیقت نہیں ،

ابھی تک ہیروشیما کے کھنڈرات سے دھواں اٹھ رہا ہے ۔۔۔

ابھی تک فلس طین کی زخم دھواں دھواں ہیں ۔۔۔

ابھی سنگیاگ میں تہذیب کا ماتم جاری ہے۔۔۔

ترکمانستان کی وادیوں سے روسی سرخ ریچھ کے پنجوں میں سسکتی جوانیاں ابھی تک زخمی ہیں

ابھی کل کی بات ہے کہ برما کے زخموں سے رستا لہو ساری دنیا نے دیکھا ۔۔

ابھی تو شام عراق افغانستان کی دیواروں پر لہو کے چھینٹے نقش و نگار بنا رہے ہیں کہ جو تم نے بہایاہے

ابھی تو ہند کے بازاروں میں اچھلتا لہو تہذیب کو شرمندہ کر رہا ہے۔۔۔

کل کی بات کہ تورا بورا ، گوانتانامو بے ، ابو غریب جیل کی سسکیوں سے انسانیت شرما رہی تھی ۔۔۔

بلاشبہ !

کل ظلم ہوا ، لیکن اسلام کو شرمندہ نہ کیجیے نہ اسلام شرمندہ ہے بلکہ اسلام ہمیشہ سے سربلند ہے

اصل مجرم آپ کا نظام انصاف ہے ، وہ نظام جو آپ مغربی استعمار ہمیں دے کر گیا ، اس کا ماتم کیجیے اور اس کا رونا روئیے ۔

منقول