دیور بھابھی، بہنوئی سالی اور سالا بہنوئی کے درمیان ہنسی مذاق کا شرعی حکم!!

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ دیور کا بھابھی کے ساتھ اور بھابھی کا دیور کے ساتھ، یوں ہی بہنوئی کا اپنے سالا کے ساتھ اور اس کی بیوی کے ساتھ اور بہنوئی کا اپنی سالی کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا کیسا ہے؟ مندرجہ بالا صورتوں کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟؟

المستفتی: محمد رجب القادری، چتری ضلع سرہا نیپال۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

الجواب: دیور اور بھابھی، بہنوئی اور سالی، بہنوئی اور اس کے سالا کی بیوی یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے لیے غیر محرم ہیں۔ اور شریعت طاہرہ کی نظر میں غیر محرم مرد و عورت کے درمیان مذاق کا کوئی رشتہ نہیں۔ یہ ہندوؤں کا طریقہ ہے جو بد قسمتی سے ہمارے مسلم معاشرے میں بھی در آیا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہیے اور اپنے دین و شریعت کے احکام پر عمل کرنا چاہیے۔

فقیہ فقید المثال امام احمد رضا خان قدس سرہ فرماتے ہیں:

” عورت و مرد کے مذاق کا رشتہ شریعت نے کوئی نہیں رکھا۔ یہ شیطانی اور ہندوانی رسم ہے۔“

[فتاویٰ رضویہ مخرجہ، کتاب الحظر و الاباحۃ ، ج: ٢٢، ص: ٣٥ ]

نیز ایک دوسرے مقام پر یوں رقم طراز ہیں:

” بھاوج یا ممانی سے ایسا مذاق ( کہ اس کا ہاتھ یا پاؤں پکڑ لینا یا بوسہ لے لینا) حرام قطعی ہے اور کرنے والا اور وہ عورت دونوں فاسق، اور ان کے شوہر باپ بھائی اگر اس پر راضی ہوں دیوث ہیں۔ اور دیوث پر جنت حرام۔“

[ فتاویٰ رضویہ مخرجہ، کتاب النکاح، ج: ١١، ص: ۱۴۷۔]

رہی بات بہنوئی اور سالا کے درمیان ہنسی مذاق کی تو اس کے لیے بھی کچھ شرائط ہیں۔اگر ان شرائط کا لحاظ کرتے ہوئے کبھی کبھار جائز ہنسی مذاق کرلیں تو اجازت ہے ورنہ نہیں۔

اس حوالے سے ابو حنیفہ ہند امام احمد رضا خان قدس سرہ فرماتے ہیں:

” جائز ہنسی مذاق جس میں نہ فحش ہو، نہ ایذاے مسلم، نہ بڑوں کی بے ادبی، نہ چھوٹوں سے بد لحاظی، نہ وقت و محل کے نظر سے بے موقع، نہ اس کی کثرت اپنے ہمسر… ..سے جائز ہے۔“

[فتاویٰ رضویہ مخرجہ، کتاب الحظر و الاباحۃ ، ج: ٢٣، ص: ٢٦۔] واللہ تعالیٰ اعلم۔

كتبه: محمد شفاء المصطفى المصباحي.

١٩ شعبان المعظم ١٤٤١ھ.