*مزدور کسان مریض ڈاکٹر ملازم……..!!*

الحدیث:

وَقَدْ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمُضْطَرِّ

ترجمہ:

اور بےشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجبور سے(اسکی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے)خرید و فروخت سے منع کیا ہے

(ابو داؤد حدیث3382)

.

مجبور کسانوں کو بیج کھاد مہنگا بیچنا……مجبور کسانوں کی فصلوں پھلوں سبزیوں کو سستا خریدنا، انکی مجبوری کا فائدہ اٹھانا جرم ہے…حاکم وقت ، قاضی نوٹس لیں ورنہ غذائی بحران جنم لے سکتا ہے ، کسان دیوالیہ ہوسکتا ہے

.

اسکول مدرسے وغیرہ کے مجبور پرائیوٹ اساتذہ کو کم تنخواہ پے رکھنا، اسی طرح استاد کا غریب ادارے مدرسے کی مجبوریوں کا خیال نہ رکھنا، مزدور کو کم دیھاڑی پے رکھنا…..انکی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا ٹھیک نہیں

.

مجبور مریضوں کا فائدہ اٹھانا ، کم سے کم ادویات لکھنے کے بجائے ، کم سے کم خرچے کے بجائے ڈھیروں ادویات لکھ کر دینا، غیرضروری ٹیسٹ کروانا، مریض کو مستقل اپنا پیشنٹ بنانے کے لیے کوشش کرنا ایسی علاج و ادویات کا عادی کرنا، مہنگی مہنگی فیسیں رکھنا،سرکاری ڈیوٹی پے صحیح علاج نہ کرنا، ادویات مہنگی کرنا، میڈیکل اسٹور والوں سے پرافٹ فکس کرکے ادویات لکھنا….الغرض مریضوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانا بھی اسلام و انسانیت کے خلاف ہے

.

کسی مسلمان یا ذمی غیرمسلم کو مجبور کرنا، بلیک میل کرنا، چالیں چلنا ، پروپیگنڈہ کرنا ، مجبور کرکے کام نکلوانا بھتہ لینا بھی ناحق و جرم ہیں

.

عورت بچے بوڑھے اور غریب اور ماتحت لوگ اکثر کمزور و مجبور ہوتے ہیں…..انکی کمزوری مجبوری کا فائدہ اٹھانا، انکے حقوق نہ دینا، خیال نہ رکھنا، نان نفقہ تنخواہ جائیداد میراث حق مہر نہ دینا یا کم دینا،تاخیر سے دینا بھی جرم و ناحق ہیں..

.

ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے،استعمال و استحصال نہیں کرنا چاہیے، فائدہ پہنچانا چاہیے، مجبوریوں کمزوریوں سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے….موقعہ پرست، ابن الوقت، پیسہ پرست مفادی مطلبی من موجی عیاش چمچہ نہیں بننا چاہیے اور اولاد شاگرد ماتحتوں کو ایسا نہیں بنانا چاہیے

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

whats App nmbr

00923468392475

03468392475

other nmbr

03062524574