*فرض پڑھ چکا تھا تو جماعت میں نفل کی نیت سے شریک ہوسکتا ہے یا نہیں………؟؟*

سوال:

السلام علیکم

قبلہ اگر کسی شخص نے نماز عشاء امام کے پیچھے ادا کی کیا اب وہ دوسری مسجد میں دوسرے امام کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے نفل کی نیت سے یا نہیں؟تحریری جواب عنایت فرمادیجیے جزاک اللہ خیرا کثیرا

.

جواب:

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ

جی پڑھ سکتا ہے….فجر عصر میں نفل کی نیت سے شریک نہیں ہوسکتے کہ ان اوقات میں نفل ممنوع ہیں ، مغرب میں بھی شریک نہیں ہوسکتا کہ تین رکعت نفل ہوجائیں گے جوکہ منع ہے

البتہ

ظہر اور عشاء کی جماعت میں نفل کی نیت سے شریک ہونا چاہیے…فرض والے کے پیچھے نفل پڑھنا احادیث و فقہ سے ثابت ہے

①الحدیث:

إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ ثُمَّ أَدْرَكَ الْإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ ؛ فَلْيُصَلِّ مَعَهُ ؛ فَإِنَّهَا لَهُ نَافِلَةٌ

تم نےاگر فرض نماز اپنے سواری پے پڑھ لی پھر امام کو جماعت کراتا پایا تو اس کے ساتھ نماز پڑھے کہ اس کے نفل ہیں

(ابوداود حدیث575)

.

②الحدیث:

وَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّكُمْ يَتَّجِرُ عَلَى هَذَا ؟ ” فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ

رسول کریمﷺجماعت کروا چکے تھے کہ ایک شخص آیا اپنی فرض نماز پڑھنے لگا آپ علیہ الصلاۃ و السلام نے فرمایا کوئی ہے جو اس کے ساتھ(نفل کی نیت سے شریک ہوکر)تجارت کرے تو ایک شخص کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ نماز پڑھی

(ترمذی حدیث220)

.

③الحدیث:

أَبْصَرَ رَجُلًا يُصَلِّي وَحْدَهُ فَقَالَ : ” أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّيَ مَعَهُ

رسول کریمﷺنے ایک شخص کو دیکھا جو نماز اکیلے پڑھ رہا تھا تو آپ نے فرمایا کوئی ہے جو اس پر صدقہ کرے اس کے ساتھ نماز پڑھے

(ابوداؤد حدیث574)

.

والجماعة تنعقد بالمتنفل، وإن كَانَ الإمام مفترضأ؛ بدليل قَوْلِ النَّبِيّ – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ((من يتصدق عَلَى هَذَا فيصلي مَعَهُ؟)

امام اگر فرض پڑھ رہا ہو تو اس کے پیچھے نفل سے نیت سے شامل ہوسکتے ہیں اسکی دلیل یہ حدیث ہے کہ رسول کریم نے ایک شخص کو دیکھا جو نماز اکیلے پڑھ رہا تھا تو آپ نے فرمایا کوئی ہے جو اس پر صدقہ کرے اس کے ساتھ نماز پڑھے

(فتح الباري لابن رجب ,6/201)

.

وَلَا يَصِحُّ اقْتِدَاءُ الْمُفْتَرِضِ بِالْمُتَنَفِّلِ وَعَلَى الْقَلْبِ يَجُوزُ

نفل والے کے پیچھے فرض پڑھنےوالا اقتداء نہیں کرسکتا البتہ فرض پڑھنے والے کے پیچھے نفل پڑھنےوالا شریک ہوسکتا ہے

(منحة الخالق مع البحر الرائق,1/387)

.

وَمُتَنَقِّلٍ بِمُفْتَرِضٍ

فرض پڑھنے والےکے پیچھے نفل پڑھنےوالے کی اقتداء صحیح و جائز ہے

(رد المحتار ,1/590)

(درر الحكام شرح غرر الأحكام ,1/87)

(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر ,1/112)

.

لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ

رسول پاک ﷺنے فرمایا کہ فجر کے فرض کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج بلند ہوجائے اور عصر کے فرض کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے

(بخاری حدیث586)

 

– عن ابن عمر قال: “إن كنت قد صليت في أهلك، ثم أدركت الصلاة في المسجد مع الإمام فصل معه غير صلاة الصبح وصلاة المغرب

اگر آپ نے فرض پڑھ لیے تھے اور مسجد میں جماعت ہو رہی ہو تو نفل کی نیت سے شریک ہوجا سوائے فجر و مغرب کے

(كنز العمال ,8/262روایت22832)

.

 

اقتدى متنفلا” إن شاء وهو أفضل لعدم الكراهة “لا في العصر” والفجر للنهي عن التنفل بعدهما وفي المغرب للمخالفۃ

ترجمہ:

فرض والے کے پیچھے نفل کی نیت سے شریک ہوسکتا ہے اگر چاہے تو…..اور نفل کی نیت سے شریک ہونا افضل ہے…لیکن عصر اور فجر میں شریک نہ ہو کہ ان اوقات میں نفل ممنوع ہیں اور مغرب میں بھی شریک نہ ہو کہ مخالفت ہوگی(روایت کی مخالفت ہوگی یا تعداد رکعت کی مخالفت ہوگی)

(مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ,page 174)

.

 

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

whats App nmbr

00923468392475

03468392475

other nmbr

03062524574