سلطنت عثمانیہ دور کے ایک مفتی اعظم کا تذکرہ

از قلم مفتی علی اصغر

25 جمادی الاول 1443 بمطابق 30 دسمبر 2021

“مولانا روم کے دیس میں” کی قسط نمبر 12 میں “فتح قسطنطیہ” کا حال تفصیلی طور پر بیان کیا جائے گا جو کہ ان شاء اللہ عزوجل11جنوری 2022 رات ساڑھے 7 بجے مدنی چینل پر نشر ہوگی۔

اس پروگرام کی ریکارڈنگ میں ایک شخصیت کا تذکرہ کرنا تھا لیکن ذہن سے نکل گیا، سوچا آج ایک مختصر مضمون لکھ کر ان کا تذکرہ کر دوں:

سلطان محمد فاتح نے جب قسطنطنیہ فتح کیا تو اس شہر کا نام استنبول رکھا گیا گیا۔ استنبول کا معنی ہے:”اسلام آباد” یعنی اسلام کا قلعہ انہوں نے جس ہستی کا بطورِ شیخ الاسلام اور مفتیِ اعظم کے تقرر کیا، ان کا نام ہے: محمد بن فرامرز رومی(متوفی:885ھ) جو ملا خسرو کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

حضرت ملا خسرو بہت بڑے فقیہ ہیں، ان کی کتاب”درر الحکام شرح غرر الاحکام”متداول اور مشہور کتاب ہے جس پر علامہ شرنبلالی علیہ الرحمہ نے”غنية ذوی الاحكام فی بغية درر الاحكام”کے نام سے حاشیہ بھی لکھا ہے اور فتاوی رضویہ میں کثیر مقامات پر اس کتاب کا حوالہ موجود ہے۔

ان کی اصول فقہ پر بھی مشہور کتاب ہے جس کا نام مرآة الاصول ہے اس کا کا حوالہ بھی فتاوی رضویہ میں ملتا ہے۔

یہ اتنے بڑے فقیہ تھے کہ سلطان محمد فاتح ان پر فخر کیا کرتا تھا اور اپنے وزراء سے کہتا تھا کہ اس دور کے ابو حنیفہ کو دیکھنا ہو تو ملا خسرو کو دیکھ لو۔

آپ کے والد ماجد رومی سلطنت کے وزیروں میں شامل تھے لیکن پھر مسلمان ہوئے، آپ کی ایک بہن کا نکاح خسرو نامی ایک وزیر سے ہوا تھا، والد کی وفات کے بعد آپ کے بہنوئی نے آپ کی پرورش کی اس مناسبت سے آپ ملا خسرو کے نام سے مشہور ہو گئےآپ بہت بڑے فقیہ ،عابد و زاہد اور مجاہد بھی تھے۔

لفظ خسرو کامعنی بیان کرتےہوئےمحققین نےلکھاہےکہ اس کا معنی ہے:”واسع الملک” یعنی وسیع سلطنت والا،بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے: خوش رُو یعنی حسین چہرے والا۔

اللہ تعالی کی ان پر رحمت ہو

خدا کی قدرت دیکھیے کہ ایک شخص کے والد نے اسلام قبول کیا اور بیٹا ایسا اللہ کا مقبول بندہ بنا کہ اس کی کتابیں اس وقت مسجد حرام اورمسجد نبوی میں پڑھائی جاتی تھیں۔