*رسول کریمﷺ نے کن کن کو بھائی اور محبوب فرمایا..؟؟*

رسول کریم ﷺ نے

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا دینی بھائی اور صاحب فرمایا:أَخِي وَصَاحِبِي

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابو بکر میرا (دینی) بھائی اور اور (میرا خاص )ساتھی ہے

(بخاری حدیث3656)

.

رسول کریمﷺنے سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا دینی بھائی فرمایا:

قال: استاذنت النبي صلى الله عليه وسلم في العمرة، فاذن لي، وقال:” لا تنسنا يا اخي من دعائك”، فقال كلمة ما يسرني ان لي بها الدنيا، قال شعبة: ثم لقيت عاصما بعد بالمدينة فحدثنيه، وقال:” اشركنا يا اخي في دعائك”.

عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا: ”میرے(دینی) بھائی! مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا“، آپ نے( یہ) ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔ (راوی حدیث) شعبہ کہتے ہیں: پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا۔ انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقت «لا تنسنا يا أخى من دعائك» کے بجائے «أشركنا يا أخى في دعائك» کے الفاظ کہے ”اے میرے(دینی) بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا

(ابوداود حدیث1498)

.

رسول کریمﷺنے سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا دینی بھائی فرمایا:

ابن عمر، قال: آخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين اصحابه فجاء علي تدمع عيناه، فقال: يا رسول الله آخيت بين اصحابك ولم تؤاخ بيني وبين احد، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” انت اخي في الدنيا والآخرة “. قال ابو عيسى: هذا حسن غريب، وفي الباب عن زيد بن ابي اوفى.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درمیان باہمی بھائی چارا کرایا تو علی رضی الله عنہ روتے ہوئے آئے اور کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارا کرایا ہے اور میری بھائی چارگی کسی سے نہیں کرائی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم میرے(دینی)بھائی ہو دنیا اور آخرت دونوں میں“۔

(ترمذی حدیث3720)

.

رسول کریمﷺنے سیدنا زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھائی فرمایا

وَقَالَ لِزَيْدٍ : ” أَنْتَ أَخُونَا

رسول کریمﷺنے سیدنا زید کےلیے فرمایا تم ہمارے (دینی)بھائی ہو

(بخاری 4251)

.

زیادہ محبوب کون……..؟؟

عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : ” عَائِشَةُ “، فَقُلْتُ : مِنَ الرِّجَالِ، فَقَالَ : ” أَبُوهَا

👈 صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کو مردوں میں سب سے محبوب کون ہے آپ نے فرمایا ابوبکر عرض کی (موجودہ ازواج مطہرات)عورتوں میں سے کون فرمایا عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم

(بخاری حدیث3662)

.

يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ : أَيُّ أَهْلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ : ” فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ “. فَقَالَا : مَا جِئْنَاكَ نَسْأَلُكَ عَنْ أَهْلِكَ. قَالَ : ” أَحَبُّ أَهْلِي إِلَيَّ مَنْ قَدْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَأَنْعَمْتُ عَلَيْهِ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ “. قَالَا : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : ” ثُمَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ “

👈 عرض کی کہ آپ کو خاص اہل بیت میں سے کون محبوب ہے فرمایا (موجود اولاد میں سے)زیادہ محبوب فاطمہ پھر(بچوں میں)زیادہ محبوب اسامہ پھر(نوجوانوں میں سے)زیادہ محبوب علی ہیں…رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین

(ترمذی حدیث3819)

.

وَإِنْ كَانَ فِي الظَّاهِرِ يُعَارِضُ حَدِيثَ عَمْرٍو لَكِنْ يُرَجَّحُ حَدِيثَ عَمْرٍو أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا مِنْ تَقْرِيرِهِ وَيُمْكِنُ الْجَمْعُ بِاخْتِلَافِ جِهَةِ الْمَحَبَّةِ فَيَكُونُ فِي حَقِّ أَبِي بَكْرٍ عَلَى عُمُومِهِ بِخِلَافِ عَلِيٍّ

سیدہ عائشہ کا قول کہ سیدہ فاطمہ اور سیدنا علی سب سے زیادہ محبوب ہیں یہ بظاہر حضرت عمرو والی حدیث کے متضاد ہے کہ جس میں ہے کہ سب سے زیادہ محبوب سیدنا ابوبکر اور سیدہ عائشہ ہیں لیکن یہ تضاد اس طرح ختم ہوگا کہ حضرت عمرو والی بخاری والی روایت کو ترجیح حاصل ہے یا پھر یہ کہا جائے گا کہ محبوب ہونے کی الگ الگ جہتیں ہیں…رضی اللہ تعالیٰ عنھم

[ابن حجر العسقلاني ,فتح الباري لابن حجر ,7/27]

.

👈 جہتیں اس طرح الگ کہلائیں گی کہ:

نبی پاکﷺنے فرمایا(مردوں)میں سب سے زیادہ محبوب سیدنا ابوبکر ہیں،(نوجوانوں میں سے)سب سے زیادہ محبوب سیدنا علی ہیں،(موجودہ گھر والی) عورتوں میں سے زیادہ محبوب سیدہ عائشہ ہیں،(موجودہ اولاد)میں سے زیادہ محبوب سیدہ فاطمہ ہیں،(چھوٹوں میں سے)زیادہ محبوب سیدنا اسامہ بن زید ہیں رضی اللہ عنھم اجمعین(ماخذ بخاری حدیث3662 ترمذی حدیث3819)

.

👈 لیکن درج ذیل سے بھی رسول کریم کو محبت ہے اور ان سے بھی خصوصی محبت رکھنے وقتا فوقتا موقعہ مناسبت سے اظہار کرنے کا حکم فرمایا:

الحدیث..ترجمہ:

میرے اہل بیت سے محبت رکھو میری محبت کی وجہ سے

(ترمذی حدیث3789)

 

الحدیث..ترجمہ:

جو میرے صحابہ سے محبت رکھے تو یہ مجھ سے محبت ہے اسی وجہ سے میں اس سے محبت رکھتا ہوں

(ترمذی حدیث3862)

.

سیدنا ابن سیرین نےفرمایا:

مَا أَظُنُّ رَجُلاً يَنْتَقِصُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ:

جو حضرت ابوبکر و عمر(رضی اللہ عنھما) کی توہین و تنقیص کرے میں اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا محب نہیں سمجھتا…(ترمذی روایت نمبر3585)

اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا محب نہ ہو وہ بھلا سچا مسلمان کیسے ہوسکتا ہے…….؟؟

.

👈 جائز پاکریزہ محبت کیجیے اور اس کا اظہار بھی کیجیے:

الحدیث…ترجمہ:

جب تم اپنے مسلمان بھائی سے(پاکیزہ اسلامی خصوصی)محبت کرو تو اسکا اس سےاظہار بھی کرو

(ابوداود حدیث5124)

.

👈 اسی محبت کا تقاضہ ہے کہ محبوب کے دشمن کو سمجھایا جائے مگر جو ضدی فسادی رہے اس سے نفرت کی جائے اس سے نفرت پھیلائی جائے اسکی مذمت کی جائے اسکا بائیکاٹ کیا جائے، اس کی کسی بھی طرح کی جانی مالی مدد کی و پذیرائی نہ کی جائے اور اچھوں کی مختلف قسم ک مدد کی جائے انکی پزیرائی کی جائے

الحدیث:

مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ ؛ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ

جو اللہ(اسلام کے حکم)کی وجہ سے محبت کرے اور(سمجھانے کے ساتھ ساتھ) اللہ(اسلام کے حکم)کی وجہ سے(مستحق برے ضدی فسادی سے)بغض و نفرت رکھے اور (مستحق و اچھوں) کی امداد و مدد کرے اور (نااہل و بروں) کی امداد و تعاون نہ کرے تو یہ تکمیل ایمان میں سے ہے

(ابوداود حدیث4681)

.

👈 محبت کی ایک دلیل و نشانی یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام و اہلبیت عظام نے ایک دوسرے کے ناموں پے نام رکھے اور ایک دوسرے سے رشتے داریاں کیں:

سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد کے نام ملاحظہ کیجیے:

ذكر أولاد أمير المؤمنين عليه السلام وعددهم وأسمائهم ومختصر من أخبارهم فأولاد أمير المؤمنين صلوات الله عليه سبعة وعشرون ولدا ذكرا وأنثى: الحسن والحسين وزينب الكبرى وزينب الصغرى المكناة أم كلثوم، أمهم فاطمة البتول سيدة نساء العالمين بنت سيد المرسلين محمد خاتم النبيين صلى الله عليه وآله.

ومحمد المكنى أبا القاسم، أمه خولة بنت جعفر بن قيس الحنفية.و👈 عمر ورقية كانا توأمين، وأمهما أم حبيب بنت ربيعة.والعباس وجعفر و 👈عثمان و عبد الله الشهداء مع أخيهم الحسين ابن علي صلوات الله عليه وعليهم بطف كربلاء، أمهم أم البنين بنت حزام بن خالد بن دارم.

ومحمد الأصغر المكنى 👈 أبا بكر وعبيد الله الشهيدان مع أخيهما الحسين عليه السلام بالطف، أمهما ليلى بنت مسعود الدارمية.ويحيى أمه أسماء بنت عميس الخثعمية رضي الله عنها.وأم الحسن ورملة، أمهما أم سعيد بنت عروة بن مسعود الثقفي.ونفيسة وزينب الصغرى ورقية الصغرى وأم هاني وأم الكرام وجمانة المكناة أم جعفر وأمامة وأم سلمة وميمونة وخديجة وفاطمة، رحمة الله عليهن لأمهات شتى

(شیعہ کتاب الإرشاد – الشيخ المفيد1/355)

.

فصل في ذكر أولاده عليه وعليهم السلام أولاد أمير المؤمنين علي بن أبي طالب (عليه السلام) سبعة [ثمانية] وعشرون ولدا (11) ما بين ذكور وإناث، وهم: الحسن والحسين وزينب الكبرى (2) وزينب الصغرى المكناة أم كلثوم (3) وأمهم فاطمة البتول سيدة نساء العالمين (44). ومحمد المكنى بأبي القاسم، أمه خولة بنت جعفر بن قيس الحنفية (1).👈 وعمر ورقية كانا توأمين، وأمهما أم حبيب بنت ربيعة (2).

والعباس وجعفر و👈 عثمان وعبد الله الشهداء مع أخيهم

.لحسين (عليه السلام) بطف كربلاء، أمهم أم البنين بنت حزام بن خالد بن دارم (1). ومحمد صغر المكنى 👈 أبا بكر وعبد الله الشهيدان أيضا مع أخيهما الحسين بكربلاء، أمهما ليلى بنت مسعود الدارمية (1). ويحيى وعون، أمهما أسماء بنت عميس الخثعمية (22).الحسن ورملة، أمهما أم مسعود بنت عروة الثقفي (1). ونفيسة وزينب الصغرى ورقية الصغرى وأم هانئ وأم الكرام وجمانة المكناة بأم جعفر وأمامة وأم سلمة وميمونة وخديجة وفاطمة كلهن لأمهات شتى

(الفصول المهمة في معرفة الأئمة641. 1/645)

.

في ذكر أولاد أمير المؤمنين عليه السلام وعددهم وأسمائهم وهم سبعة وعشرون ولدا ذكرا وأنثى: الحسن، والحسين عليهما السلام، وزينب الكبرى، وزينب الصغرى المكناة بأم كلثوم أمهم فاطمة البتول عليها السلام سيدة نساء العالمين بنت سيد المرسلين صلوات الله عليه وعليهما.ومحمد الأكبر المكنى بأبي القاسم، أمه خولة بنت جعفر بن قيس الحنفية.

والعباس، وجعفر، و👈عثمان، وعبد الله الشهداء مع أخيهم الحسين عليه السلام بكربلاء – رضي الله عنهم – أمهم أم البنين بنت حزام بن خالد بن دارم، وكان العباس يكنى أبا قربة لحمله الماء لأخيه الحسين عليه السلام ويقال له: السقاء، وقتل وله أربع وثلاثون سنة، وله فضائل، وقتل عبد الله وله خمس وعشرون سنة، وقتل جعفر بن علي وله تسع عشرة سنة.

وعمر، ورقية أمهما أم حبيب بنت ربيعة وكانا توأمين ومحمد الأصغر المكنى ب 👈 أبي بكر، وعبيد الله الشهيدان مع أخيهما الحسين عليه السلام بطف كربلاء وأمهما ليلى بنت مسعود الدارمية.ويحيى، أمه أسماء بنت عميس الخثعمية وتوفي صغيرا قبل أبيه.وأم الحسن ورملة أمهما أم سعيد بنت عروة بن مسعود الثقفي.ونفيسة وهي أم كلثوم الصغرى، وزينب الصغرى، ورقية الصغرى، وأم هاني، وأم الكرام، وجمانة المكناة بأم جعفر، وامامة، وأم سلمة، وميمونة، وخديجة، وفاطمة لأمهات أولاد شتى.(شیعہ کتاب إعلام الورى بأعلام الهدى – الشيخ الطبرسي,396 1/395)

.

👈 وہ رافضی نیم رافضی سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ و دیگر اہلبیت کے محب کیسے ہوسکتے ہیں ،اہلِ حق کیسے ہوسکتے ہیں جو سیدنا صدیق اکبر ، سیدنا عمر ، سیدنا عثمان ، سیدنا معاویہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین

کے نام پر نام کبھی بھی نہ رکھیں اور انکا نام لینا تک گوارہ نہ کریں….؟؟ کتنا بغض بھرا ہوگا ایسوں کے سینے میں……..؟؟

جبکہ

①سیدنا علی نے سیدنا ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنھم کے نام پر اپنے بیٹوں کے نام رکھے جیسا کہ اوپر شیعہ کتب کے حوالے سے ہم نے👈 کے نشان سے واضح کیے ہیں

.

②سیدنا امام موسی کاظم نے اپنی بیٹی کا نام عائشہ رکھا..(ثبوت شیعوں کی معتمد کتاب:الفصول المھمہ فی معرفۃ الائمۃ2/1275)

 

.

③سیدنا عبداللہ بن جعفر نے اپنے بیٹے کا نام معاویہ رکھا..اور انہی عبداللہ کے بیٹے عبداللہ کی کنیت ابو معاویہ تھی

(ثبوت شیعوں کی معتمد کتاب:مقاتل الطالبییین ص111)

.

👈 اسی طرح صحابہ کرام اور صحابہ کی اولاد و تابعین نے اہلبیت کے ناموں پر نام رکھے اور ناصبیوں کے دل جلائے اور صحابہ اہلبیت کےمابین محبت کا عملی درس دیا…..مثلا

①صحابی سیدنا ابن عمر بن خطاب نے اپنے بیٹے کا نام اہلبیت کے نام پے حمزہ رکھا….(دیکھیے الکامل فی ضعفاء الرجال6/35)

.

②صحابی سیدنا عمر بن خطاب نے اپنی بیٹیوں کا نام اہلبیت کے نام پے فاطمہ و زینب رکھا…(دیکھیے فیضان فاروق اعظم1/92)

.

③صحابی زبیر بن عوام نے اپنے بیٹوں کے نام اہلبیت کے ناموں پے حمزہ و جعفر نام رکھے..(دیکھیےکتاب الطبقات الكبري3/74)

.

④صحابی سیدنا سائب نے اپنے بیٹے کا نام سیدنا حسین کے نام پر حسین رکھا..(دیکھیے تھذیب الکمال6/378)

.

خلفاء ثلاثہ و صحابہ کرام نے سیدنا حمزہ سیدہ فاطمہ و زینب وغیرہ نام رکھے کیونکہ یہ وفات پا چکے تھے…سیدنا علی حسن حسین نام نہ رکھے کیونکہ یہ حیات تھے…البتہ انکی وفات کے بعد ان کے نام پے نام رکھے گئے رضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین

.

👈 نام اور رشتے داریوں پے کئ کتب لکھی جاچکی ہے کچھ کے نام درج زیل ہیں ان کتب کا مطالعہ کریں

1.کتب علامہ محمد علی نقشبندی

2.صحابہ و اہلبیت کرام کے درمیان یگانگت اور محبتیں pdf

.

3.اہل بیت اور صحا بہ کرام کے تعلقات( اسماء اور قرابت داری کی روشنی میں)pdf

 

.

4.marfat dat com py ja kr risht lik kr search kren…rishty dari py katab aa jai ge

.

5.الأسماء والمصاهرات بين أهل البيت والصحابةpdf

.

ہم نے تو چند حوالے پیش کیے ہین حقیقت میں اس کے علاوہ بھی صحابہ کرام کے بہت نام اہلِ بیت نے اپنائے اور اہلِ بیت کے نام صحابہ کرام نے اپنائے..

.

👈 سوچیے سیدنا علی اور دیگر اہل بیت و صحابہ کرام ایک دوسرے کے نام دن رات میں کتنی دفعہ لیتے ہونگے……..؟؟

کتنی دفعہ جلے ہوئے رافضیوں نیم رافضیوں ناصبیوں کے دل جلاتے ہونگے……..؟؟

کتنی دفعہ حق اپنانے،صحابہ کرام و اہلبیت عظام سے محبت کرنے کا عملی درس دیتے ہونگے……..؟؟

.

الحدیث:

لَا يَجِدُ أَحَدٌ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يُحِبَّ الْمَرْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلهِ،

ترجمہ:

(جو چاہےکہ)ایمان کی مٹھاس پائےوہ(پاکیزہ)محبت کرے للہیت کےلیے…(بخاری حدیث6041)

مستحق محبت مسلمان بالخصوص انبیاء کرام علیھم السلام صحابہ کرام علیھم الرضوان اہلبیت عظام علیھم الرضوان سے محبت کیجیے اور انکی پیروی کیجیے عمل و عبادات نیکیاں کیجیے وقتا فوقتاموقعہ مناسبت سے محبت کا اظہار بھی کیجیے

.

👈 اسی محبت کا تقاضہ ہے کہ محبوب کے دشمن کو سمجھایا جائے مگر جو ضدی فسادی رہے اس سے نفرت کی جائے اس سے نفرت پھیلائی جائے اسکی مذمت کی جائے اسکا بائیکاٹ کیا جائے، اس کی کسی بھی طرح کی جانی مالی مدد کی و پذیرائی نہ کی جائے اور اچھوں کی مختلف قسم ک مدد کی جائے انکی پزیرائی کی جائے

الحدیث:

مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ، وَأَبْغَضَ لِلَّهِ، وَأَعْطَى لِلَّهِ، وَمَنَعَ لِلَّهِ ؛ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ

جو اللہ(اسلام کے حکم)کی وجہ سے محبت کرے اور(سمجھانے کے ساتھ ساتھ) اللہ(اسلام کے حکم)کی وجہ سے(مستحق برے ضدی فسادی سے)بغض و نفرت رکھے اور (مستحق و اچھوں) کی امداد و مدد کرے اور (نااہل و بروں) کی امداد و تعاون نہ کرے تو یہ تکمیل ایمان میں سے ہے

(ابوداود حدیث4681)

.

👈 جسےپاکیزہ محبت نہیں وہ انسانیت سےہی عاری ہے…مطلبی مفادی من موجی عیاش منافق دنیاپرست لالچی و ملحد بےایمان کیا جانے ایمان و محبت کی مٹھاس………!!

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

whats App nmbr

00923468392475

03468392475

other nmbr

03062524574