اعلیٰ حضرت امام اھل سنت رحمۃ اللہ علیہ کے وہ اسباق جو ہم سمجھ نہیں پائے یا سمجھنا نہیں چاہتے ۔۔۔۔

۔

عنوان :کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی

۔

ملکِ پاکستان اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک میں سے ہے ۔اقوامِ متحدہ کی Charter of democracy یعنی جمھوریت کا منشور اِس معاھدہ کو ماننے کے تحت پاکستان کو آزادی ملی اور ایک الگ وطن قرار پایا ۔

۔

جمھوریت کی Definition (تعریف) امریکی صدر ابراہیم لنکن (1809 تا 1885ء) نے اِن الفاظ میں کی تھی!

“Democracy is a Government of the people by the people and for the people “

جمھوریت عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کےلئے ہوتی ہے ۔۔

۔

اسلامی عقائد کے مطابق ہمارے لئے نظام صرف اسلام ہے ۔اسلام نظام حکومت میں حاکم کا انتخاب دو طریقوں سے کیا جاتا ہے ۔

نمبر 1

اھل رائے کے باہمی مشاورت

نمبر 2

سابق حاکمِ اسلام کا اپنی صوابدید پر کسی اھل شخص کو امارت کےلئے منتخب کرنا ۔۔۔

۔

اِن دو طریقوں کے ذریعے مختلف دور میں صحابہ کرام علیھم الرضوان نے امیر کا انتخاب کیا ۔۔۔۔۔نبی کریم صلی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا “علیکم بِسُنّتِيْ وَ سُنَّۃِ الخلفاء الراشدین المھدیین “

کیا جمھوری طریقہ سے حاکم کا انتخاب صحابہ کرام علیہم الرضوان کے طریقہ کے مطابق ہے؟

۔

ہم لوگ اھل سنت وجماعت کہلاتے ہیں ۔محراب ومنبر کے ذریعے سُنّیت کےلئے بطورِ دلیل حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ جز پیش کیا جاتا ہے “ماانا علیہ واصحابی “۔۔۔۔۔

۔

سوال یہ ہے کہ سُنیت صرف عقائد حقہ اپنانے کا نام ہے یا عقائد واعمال کے مجموعہ کا نام سُنّیت ہے؟

۔

ریاست کے اندر ریاست قائم کرنا یا بغاوت کرنا یہ ایک الگ چیز ہے۔ اسلام اِسکی اجازت نہیں دیتا لیکن کسی غیر اسلامی نظام کو اسلامی نظام کہنا اور دھوم ڈھرکے سے اُس کا حصہ بننا یہ ضرور محل نظر ہے ۔

۔

اسلام فتنہ ،سرکشی ،بغاوت کی بیخ کنی کرتا ہے لیکن کسی غیر اسلامی نظام کے تحت رہتے ہوئے اسلامی عقائد و نظریات پر پختگی سے قائم رہنے اور زمانہ کے حالات کی رعایت کرتے ہوئے اسلامی نظام کی سربلندی کےلئے کوششیں کرنے کا حکم ضرور دیتا ہے ۔

۔

سیدی اعلیٰ حضرت امام اھل سنت نوّراللہُ مرقدہ کی تحقیق کے مطابق برّصغیر کی سیاسی ہلچل اسلامی نظام کی سربلندی کےلئے ہرگز نہیں ہے ۔

فتاوٰی رضویہ جلد 15 صفحہ 160

۔

مجھے حیرت ہے اُن لوگوں پر جو ہر سال 14 اگست کو جشن آزادی کے پروگراموں اسٹیج پرکہتے ہیں ” 1946 ء کی منعقدہ سُنی کانفرنس میں قیام پاکستان کےلئے پانچ ہزار علمائے کرام پانچ سو مشائخ کرام اور دو لاکھ عوام نے شرکت کی ۔۔۔۔۔۔اتنا کہنے کے بعد عوام بھی خوش کہ دیکھو جی ہمارے اسلاف نے پاکستان کےلئے قربانیاں دیں ۔۔۔۔۔۔میں اُن لوگوں سے گزارش کرتا ہوں کہ اِس بار جب چودہ اگست کو اسٹیج سجے اور آپ اسٹیج پر جلوہ فرما ہوکر پھر وہی بات پانچ ہزار علمائے کرام، پانچ سو مشائخ عظام اور دو لاکھ عوام کی گردان دہرائیں تو اُس سنی کانفرنس میں محدث اعظم ہند مولانا کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ کا خطبہ صدارت بھی پڑھ کر سنائیں اور خطبہ صدارت کا یہ حصہ ضرور پڑھیں”

میرے دینی رہنماؤ! میں نے عرضداشت میں ابھی ابھی پاکستان کا لفظ استعمال کیا ہے اور پہلے بھی کئ جگہ پاکستان کا لفظ آچکا ہے۔ملک میں اِس لفظ کا استعمال روز مرہ بن گیا ہے ۔درودیوا پر پاکستان زندہ باد، تجاویز کی زبان میں پاکستان ہمارا حق ہے، نعروں کی گونج میں پاکستان لےکے رہیں گے، مسجدوں، خانقاہوں میں، بازاروں میں، ویرانوں میں لفظ پاکستان لہرا رہا ہے ۔اِس لفظ کو پاکستان کا یونینسٹ لیڈر بھی استعمال کرتا ہے اور ملک بھر میں ہر لیگی (مسلم لیگی) بھی بولتا ہے اور ہم سنیوں کا بھی یہی محاورہ ہوگیا اور جو لفظ مختلف ذہنوں کے استعمال میں ہو اُس کے معنیٰ مشکوک ہوجاتے ہیں، جب تک بولنے والا اُس کو واضح طور پر نہ بتادے ۔

یونینسٹ کا پاکستان وہ ہوگا جس کی مشینری سردار جوگندر سنگھ کے ہاتھ میں ہوگی ۔لیگ کے پاکستان کے متعلق دوسری قومیں چیختی ہیں کہ اب تک اُس نے پاکستان کے معنٰی نہ بتائے اور جو بتائے وہ الٹے پُلٹے ایک دوسرے سے لڑتے بتائے ۔اگر یہ صحیح ہے تو لیگ کا ہائ کمانڈر اُس کا ذمہ دار ہے لیکن جن سنیوں نے لیگ کے اس پیغام کو قبول کیا ہے اور جس یقین پر اِس مسئلے میں لیگ کی تائید کرتے پھرتے ہیں، وہ صرف اِس قدر ہے کہ ہندوستان کے ایک حصہ میں اسلام کی، قرآن کی آزاد حکومت ہو ۔جس میں غیر مسلم ذمیوں کے جان ومال، عزّت وآبرو کو حسبِ شرع امن دی جائے ۔اُن کو، اُن کے معاملات، اُن کے دین پر چھوڑ دیا جائے ۔وہ جانیں اُن کا دھرم جانے ۔اُن کو اَتِمّوا الیھم عھدھم سنا دیا جائے اور بجائے جنگ وجدل کے صلح وامن کا اعلان کر دیا جائے ۔ہر انسان اپنے پرامن ہونے پر مطمئن ہوجائے ۔اگر سنیوں کی اِس سمجھی ہوئ تعریف کے سوا لیگ نے کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا تو کوئی سنّی قبول نہیں کرے گا ۔

خطبہ صدارت صفحہ نمبر 23 ۔

۔

محدث اعظم ہند کے مطابق کہ لیگ نے پاکستان کے جو معنٰی بتائے ہیں وہ الٹ پلٹ ہیں یعنی قیام پاکستان کےلئے سنی ووٹ بینک کودیکھ کر لیگ کی ظاہر حالت کچھ اور تھی جبکہ لیگیوں کی باطنی نیت کچھ اور تھی ۔۔۔۔۔۔

۔

لیگ کا عمل پاکستان کے بنتے ہی ظاہر ہوگیا کہ وہ پاکستان سے کیا مراد لے رہے تھے ۔ملک کا پہلا چیف جسٹس ایک جوگندر ناتھ منڈل، پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ ظفراللہ قادیانی، پاکستان کے پہلے دو آرمی چیف انگریز ۔۔۔۔۔۔اور Constitution (آئین) کے مطابق اِن عھدوں پر اب بھی یعنی 2022 میں بھی کسی بھی غیر مسلم تعینات کیا جاسکتا ہے ۔

۔

قیام پاکستان کے وقت ہمارے بزرگوں کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھایا گیا،علمائے کرام، مشائخ عظام کا اعتماد حاصل کیا گیا لیکن وہ پاکستان کچھ اور تھا جس کےلئے ہمارے اسلاف نے قربانیاں دیں ۔علمائے کرام سادہ مزاج ہی ہوتے ہیں حدیثِ پاک میں ہے “المؤمن غر کریم والمنافق خب لئیم “

۔

ہمیں اپنے اسلاف والے پاکستان کےلئے بہت زیادہ جدوجہد کی ضرورت ہے ۔سنی مدارس کے منتظمین گورنمنٹ کے ساتھ کچھ لو کچھ دو کی پالیسی اپنانے کی بجائے اپنے اکابرین کے طریقہ تعلیم کو فالو کریں ۔دینی مدارس کے نصاب میں وحشتناک تبدیلیاں لانے سے گریز کریں ۔طلباء کرام کو ریاضی ،توقیت، جغرافیہ، سیاسیات کا علم درسیات کے طور پر پڑھائیں ۔عربی وانگلش لینگوئج سکھائیں کمپیوٹر کی تعلیم لازماً دیں اور اپنے اسلاف کا طریقہ سیاست ہرگز نہ بھولیں۔

✍️ ابو حاتم

10/01/2022/