اسلام کا احسان یا اسلام پر احسان؟

 

تصویر میں موجود TRT نیوز کی خبر کے مطابق تین سال کے اندر اندر صرف امریکی سرزمین پر رفاہ عامہ کی 35 تنظیموں کی طرف سے مسلم مخالف گروپس کو جو چندہ دیا گیا وہ 106 ملین ڈالر ہے. یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس کو سامنے رکھ کر اُس بڑے کھیل کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے جس کے تحت اسلام مخالف سرگرمیوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے. اِس افسوس ناک صورتحال کے مقابل خوش کن حقیقت یہ ہے کہ منسوخ ادیان کے ماننے والوں اور الحاد پر یقین رکھنے والوں کی جانب سے اتنی کثیر مقدار میں سرمایہ اور طاقت صرف کرنے کے باوجود اسلام اپنے دائرہ اثر کو ہر روز مزید وسعت دے رہا ہے.

 

یہ بات بھی حق الیقین کی حد تک درست ہے کہ تمام تر سیاسی، معاشی اور تہذیبی مخالفت کے باوجود اسلام کی اِس کامیابی کے پیچھے ہمارا دفاعی و دعوتی رول نا کے برابر ہے. بطور مسلمان ہم دین کے لیے اپنے مال، طاقت اور وقت میں سے جو کچھ بھی پیش کر رہے ہیں وہ کمترین ہونے کے ساتھ ساتھ معمولی اور کسی حد تک حقیر بھی ہے. اسلام کی تمام تر رونق اور روز افزوں ترقی آخری آسمانی نظام ہونے کی وجہ سے ہے، جو نہ صرف یہ کہ انسانی فطرت کے لیے انتہائی موزوں ہے بلکہ انسان کی ممکنہ ترقی یافتہ زندگی کے تمام تقاضوں کو کما حقہ پورا بھی کرتا ہے.

 

بلکہ سب سے بڑی سچائی تو یہ ہے کہ اسلام اپنی اشاعت میں ہمارا محتاج نہیں بلکہ خود ایک ایسا نظریاتی و عملی دھارا ہے جو ہر سلیم الطبع کو اپنے اندر کھینچ لیتا ہے. ہاں! ہم اپنی خوش حال زندگی اور بہترین آخرت کے لیے دین کی خدمت کے محتاج ضرور ہیں. سادہ سی بات یہ ہے کہ “لیظھرہ علی الدین کلہ” اور “وللآخرۃ خیر لک من الاولیٰ” کے الٰہی وعدے تو وفا ہو کر ہی رہیں گے. غلبہ دین اور ترقی اسلام کے ازلی فیصلے کو ٹالنا بلا شبہ بشری طاقت سے باہر ہے. مگر ان تمام فیصلوں کے درمیان اُس خوش نصیب گروہ کو پرکھا جائے گا جو “إن تنصر اللہ ینصرکم” کے تحت اللہ کے دین کی خدمت کے بدلے اپنے آپ کو اللہ کی نصرت کا حقدار بنائے گا. تو کون ہے جو دین پر اپنے ٹوٹے پھوٹے کاموں کا احسان جتا کر شقاوت مول لیتا ہے اور کون ہے جو بڑی سے بڑی قربانی کو اسلام کی ادنیٰ خدمت مان کر اسلام کے احسانات کا حق نہ ادا کر سکنے کے اعتراف سے لبریز ہو کر سعادت دارین کی دولت سے سرفراز ہوتا ہے؟؟؟!!

 

✍️ پٹیل عبد الرحمن مصباحی، گجرات (انڈیا)