آزادی نسواں کے نام پر معاشرے کی تباہی، اسباب و تدارک

مبسملا و حامدا و مصلیا و مسلما

 

آزادی نسواں کے نام پر معاشرے کی تباہی ایک ایسی حقیقت ہے، جس سے ایک ہوش مند شخص سر مو انحراف نہیں کرسکتا، غیر مسلم معاشرہ یعنی یہود و نصاری اور مشرکین سو ڈیڑھ سو سال سے بڑی زور شور سے آزی نسواوں و حقوق نسواں کی بات کرتے ہیں؛ اسی کے پیش نظر ان کے یہاں آٹھ مارچ کو حقوق نسواں کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس دن مختلف طریقے سے حقوق نسواں کی بات کی جاتی ہے، مگر جب ان کے آزدی نسواں اور حقوق نسواں کا جائزہ لیا جاتا ہے؛ تو سمجھ میں آتا ہے کہ عموما ان کی ساری کی ساری آزدی نسواں اور حقوق نسواں، جنسی آزادی، بے حیائی اور فحاشی میں منحصر ہے۔

 

آزادی نسواں کے نام پر معاشرے کی تباہی کے اسباب

 

(۱)دشمنان اسلام اور آزادی نسواں کی تزئین کاری۔

دشمنان اسلام خاص کر یہود و نصاری و مشرکین کی جانب سے آزادی نسواں اور حقوق نسواں کا جملہ بھلے ہی بظاہر بہت بھلا معلوم ہوتا ہے، مگر اس جملے کی چھاؤں میں آزادی نسواں اور حقوق نسواں کی جو پامالی کی جاتی ہے، ایک عام آدمی اس کا اندازہ لگانے سے قاصر نظر آتا ہے؛ کیوں کہ یہ آزادی نسواں اور حقوق نسواں کے بارے میں جیسی چاہیں بات کرلیں مگر جب ان کی تاریخ اور لیکچرس کا جائزہ لیا جائے تو سمجھ میں آتا ہے کہ ان کی آزادی کا محور تقریبا عورت کی عریانیت، اس کے وقار کی پامالی اور اس کی عزت و عفت کو تار تار کرنا ہے، ان کے اسی محور کی بنیاد پر آج ان کے معاشرے کی بیٹیاں و عورتیں اپنی عزت و عفت بیچ کر روٹیاں کمارہی ہیں۔

اور اسی تعفن زدہ آزادی نسواں اور حقوق نسواں کو انہوں نے پوری دنیا میں عام و رائج کرنے کی بھر پور کوشش کی اور مسلم معاشرے کو خاص نشانہ بنایا، اس میں یہ کافی حد تک کامیاب بھی نظر آئے، اس کے لیے انہوں نے مندرجہ ذیل حربے استعمال کیے:

(۲) مغلوبیت کا احساس دلانے میں کامیبابی۔

ہر ذی شعور آدمی یہ بات حتمی طور پر جانتا ہے کہ جو قوم غالب ہوتی ہے، اسی کے عادات و اطوار رائج ہوتے ہیں اور اسی کی اتباع کرنے میں لوگ اپنے آپ کو باعزت و باوقار سمجھتے ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ جب تک اسلام کے ماننے والے اپنی دینی حمیت کی بنیاد پر غالب رہے، پوری دنیا ان کے اخلاق و اطوار کو اختیار کرتی رہی اور اسی کے سایہ میں زندگی گزارنے کو عزت و وقار سمجھتی رہی بلکہ ایک عالم، اسلام جیسے پاکیزہ مذہب مہذب کے دامن میں زندگی گزارنے کو کامیابی و کامرانی سمجھتی رہی مگر یہ بات شیطان اور اس کے نقش قدم پر چلنے والے یہود، و نصاری اور مشرکین کو راس نہیں آئی، وہ ابتدا سے ہی اسی تگ و دو میں رہے کہ اسلام اور اس کے ماننے والوں کے بڑھتے قدم کو کیسے روکا جائے، ان کو کیسے مغلوبیت کے سایہ زندگی گزارنے پر مجبور کیا جائے، آخر وہ ایک دن اسلام کے ماننے والوں کو مغلوب کرنے میں کامیاب ہوگئے، اس کا نتیجہ اب ہمارے سامنے ہے، یہود و نصاری اور مشرکین کی ہر بری سے بری چیز، مسلم معاشرے کو اچھی لگنے لگی، حالاں کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو بتایا تھا کہ حکمت یہ مؤمن کی کھوئی ہوئی چیز ہے، جس سے بھی ملے لے لی جائے مگر وہ چیزیں جو بے حیائی اور بے غیرتی کی طرف لے جاتی ہے، ان کے قریب تک نہ جائے مگر مسلم معاشرہ اسلام کی ان حدود کو مغلوبیت کی بنیاد پر پھلانگتا گیا اور یہود و نصاری وغیرہ ہر اچھی و بری چیز کو باآسانی قبول کرتا گیا یہاں تک کہ جب آزادی نسواں کے نام پر بے حیائی کو عام کرنے کی کوشش کی گئی؛ تو اسے بھی مسلم معاشرے نے قبول کرلیا، جسم کی نمائش انہیں اچھی لگنے لگی، بے حیائی و فحاشی انہیں خوش آئند معلوم ہونے لگی، اس معاملہ میں مغلوبیت مسلم معاشرہ سر چڑھ کر اس حد تک بول رہی ہے کہ ایسی زندگی گزرنے والوں کو اگر کسی نے کہ دیا کہ پردے میں رہا کریں، جسم کی نمائش سے پرہیز کیا کریں؛ تو بجائے اس کے کہ اسلامی رو اس حکم کے بارے میں غور کرکے باز آنے کوشش کی جائے، کہنے والے ہی کی سرزنش کی جاتی ہےاور کہا جاتا ہے کہ یہ ہماری آزادی پر بند باندھنے کی کوشش کی جارہی ہےحالاں کہ یہ آزادی نہیں بلکہ تباہی کے دہانے پر جانے کے مترادف ہے۔

(۳) یہود و نصاری کی جانب سے آزادی نسواں اور حقوق نسواں کے نام پر بے حیائی و بدکاری پھیلانے کے لیے مندرجہ ذیل چیزیں استعمال کی گئیں اور انہیں گھر گھر میں پہنچانے کی کوشش بھر پور کوشش کی گئی اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے:

(ب) فلمی دنیا۔

ہر معاشرے میں بے حیائی، بے غیرتی اور دیوثی پھیلانے میں فلمی دنیا کا بہت بڑا کردار ہے، یہ ایسی حقیقت ہے جس سے خواص تو خواص، عوام بھی سر مو انحراف نہیں کرسکتے۔ ماں، باپ، بہن، بھائی اور بیٹیاں ایک ساتھ بیٹھ کر عشق بازی، بے حائی اور فحاشی جیسے نظارے سے اپنی آنکھوں کو سکون بخش رہے ہیں اور پھر اسی کو اپنی زندگی میں عملی جامہ پہنانے کی بھی کوشش کرتے ہیں حالاں کہ ہر شخص جانتا ہے کہ فلمی دنیا تقریبا خیالی پلاؤ ہے، جس کو دیکھا تو جاسکتا ہے یا جس کے بارے میں خیال تو کیا جاسکتا ہے مگر اس کو عملی جامہ پہنایا نہیں جاسکتا مگر نوجوان جذبات کی آندھی میں یوں پھنسے کہ اسے کافی حد تک عملی جامہ پہناکر رہے اور پھر بے حیائی عام ہونے لگی، بے غیرتی کا ننگا ناچ ناچا جانے لگا، ماں اور بیٹے کا پاک رشتہ بھی ناپاک ہوتا ہوا نظر آیا، بھائی اور بہن کا بہترین رشتہ بھی تارتار ہوتا دکھائی دیا اور حالت ایں جا رسید کہ شریف لڑکیوں کو گھر سے نکلنا مشکل تر ہوگیا۔

(ت) انٹر نیٹ۔

یہ بات تو مسلم ہے کہ انٹرنیٹ بذات خود کوئی بری چیز نہیں، مگر چوں کہ جہاں اچھی سے اچھی چیزیں موجود ہیں وہیں یہ بے حیائی اور حیاسوز چیزوں کا گڑھ بھی ہے، اور یہ انسانی فطرت ہے کہ جب تک وہ برائی کے قریب نہیں ہوتا، وہ برائی سے دور رہتا ہے، مگر جب وہ برائی سے قریب ہوتا ہے؛ تو وہ برائی میں ملوث ہونے کی کوشش بھی کرتا ہے؛ اسی وجہ سے شریعت اسلامیہ میں برائی کرنے کی تو بات چھوڑئے، برائی کے قریب بھی جانے سے منع کرتی ہے کہ نہ انسان برائی کے قریب جاے گا، نہ ہی اس کا ارتکاب کرےگا۔

مگر برا ہو ان بے غیرت لوگوں کا جنہوں نے اس فطرت انسانی کا گہرائی سے جائزہ لیااور اس میں اچھائیوں کے ساتھ فحاشی پھیلانے والی اشیا کو بھی جگہ دی اور وہ برائیوں کو کیوں نہ جگہ دیں جب کہ ان کا مقصد ہی اچھے اخلاق و اقدار کو تباہی کے دہانے پر لے جانا ہے۔ اب انٹرنیٹ کے ان دونوں کی آماجگاہ کی وجہ سے برے تو برے، اچھے لوگ بھی دھیرے دھیرے برائیوں میں سرگرداں نظر آنے لگے اور نہ چاہتے ہوئے بھی تنہائیوں میں بے حیائی کے دلدل میں پھنستے ہوئے نظر آئے اور یوں یہود و نصاری کی لابی اپنے مقصد میں کامیاب و کامران نظر آئی۔

(ث) مخلوط تعلیم۔

آزادی نسواں اور حقوق نسواں کے نعرے کی ایک جھلک ہمارے سامنے مخلوط تعلیم کی بھی ہے، آزادی نسواں اور حقوق نسواں کا تقاضا ہے کہ عورت مرد کے ساتھ تعلیم حاصل کرے، وہ مرد کے شانہ بشانہ کھڑی رہے، اس کے ساتھ اٹھے، بیٹھے، ہنسی مزاق کرے، حجاب کے بجائے ہر کپڑے پہن کر مردوں کے ساتھ اٹھے، بیٹھے جس میں بے حیائی و بے غیرتی کی ہر صورت بالکل واضح طور پر نظر آئے، نتیجہ میں وقت ملے اور شیطان غالب ہو؛ تو بے حیائی کے حدود پار کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔

(ج) غیر مسلم کی معاشرت۔

ہر مسلم جانتا ہے کہ غیر مسلم یہود و نصاری اور مشرکین کے یہاں پردے کا کوئی اہتمام نہیں، ان کے یہاں ماں، بیٹے، بھائی، بہن اور دیگر رشتہ دار بلکہ غیر بھی ایک دوسرے کے سامنے ایسے کپڑوں میں نظر آتے ہیں جس کی اجازت اسلام میں یا تو تنہائی کی صورت میں ہے یا پھر عورت اپنے شوہر کے ساتھ ہو؛ تو اس کی اجازت ہے، مگر چوں کہ اکثر مسلم معاشرہ کہیں نہ کہیں ان کے آس پاس ہی رہتا ہے، ان کے یہاں آنا جانا ہوتا ہے، غیر مسلم کالیج میں ساتھ میں پڑھائی ہوتی ہے، شادی، بیاہ میں شرکت کی جاتی ہے اور بھی دیگر معاملات ہوتے ہیں اور مثل مشہور ہے کہ خبربوزہ، خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے؛ جس کی بنیاد پر آج مسلم معاشرہ ان کے کلچر سے کافی متاثر نظر آتا ہے اور انہیں کی طرح بے حیائی اور بے پردگی میں سکون محسوس کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

 

آزادی نسواں کے نام پر معاشرے کی تباہی کے اسباب کا تدارک

 

(الف) وارث انبیا کہلانے والے پورے طور سے میدان عمل میں آئیں:

آزادی نسواں کے نام پر معاشرے کی تباہی کے اسباب کا تدارک اور دیگر خرابیوں کے علاج و معالج، علماے کرام ہی ہیں، مگر یہ وقت کا بہت بڑا المیہ ہے کہ آج کل عموما وارث انبیا کہلانے والے علما نے اپنے آپ کو مدارس و مساجد تک محدود کر رکھا ہے، جب کہ انبیا علیہم الصلاۃ و السلام مساجد سے لے کر مدارس تک اور تجارت سے لے کر حکومت تک، دین و دنیا کے ہر معاملہ میں پوری دنیا کی رہنمائی کے لیے آئے، پھر ان کے وارث کہلانے والے، مساجد و مدارس تک اپنے آپ کو محدود رکھ کر، اس وراثت کا حق ادا کیسے کرسکتے ہیں؟! یقینا نہیں کرسکتے؛ اس لیے اگر صحیح معنوں میں وراثت کا حق ادا کرنا ہے؛ تو اپنی کوکھ سے جنم دینے والے ان علما کو مدرس اور اسٹیج کا بہترین مقرربنانے اور مدارس و مساجد کی باگ ڈور سنبھالنے کا سلیقہ سکھانے کے ساتھ، انہیں عملی اقدام کرنے کی طرف رغبت دلائیں، لفاظی تقریری کے بجائے ان کی تبلیغی پرورش کریں، وقتی فائدہ کی طرف توجہ دلانے کے بجائے، انہیں بنیادی فائدہ کا خوگر بنائیں، تجارت میں بھی آگے بڑھائیں، انہیں ہائی لیول ماڈرن ایجوکیشن کی تعلیم دلائیں اور سیاست میں درک کے ذریعے انہیں حکومت میں دخیل بنائیں تاکہ یہ علماے کرام، دین و دنیا ، ہر میدان میں اپنی قوم کی صحیح رہنمائی کرتے ہوئے نظر آئیں، یہود و نصاری اور مشرکین کی تزئین کاری اور آزادی نسواں کے نام پر ان کی بے حیائی اور عریانیت سے قوم مسلم کو بچاسکیں، انہیں مغلوبیت کی خول سے باہر نکال سکیں اور انہیں عملی طور پر بتاسکیں کہ الإسلام یعلو و لا یعلی، انہیں فلمی دنیا اور مخلوط تعلیم سے دور رکھ سکیں، انٹرنیٹ اور غیر مسلم کی معاشرت کے شرعی حدود سے انہیں باندھ سکیں اور مندرجہ ذیل و دیگر سارے بہترین کام وہ با آسانی یا تگ و دو کے بعد، اپنے ایمانی حمیت کے ذریعے صحیح طریقے سے انجام دے سکیں:

() قوم مسلم کو اپنے ماحول میں دینی تعلیم و تربیت اور ماڈرن ایجوکیش کو رواج دینے کی کوشش۔

() عملی میدان میں اتر کر مسلمانوں کو دینی تعلیم کے مطابق چلنے کا شوق دلانے اور مسجد تک لانے کی سعی مسعود۔

() ہائی لیول ماڈرن ایجوکیشن کو غیر کی دست نگر سے نکالنے کی جد و جہد۔

() قوم مسلم کو احساس مغلوبیت کی خول سے باہر لانے کی تگ و دو۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ علماے ذوی الاحترام آگے بڑھ کر طویل زمانے سے مسلم مردہ سیاست کو زندہ کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔

() فلمی دنیااور مخلوط تعلیم سے قوم مسلم کو دور رکھنے کی انتھک کوشش۔

() مسلمانوں کو انٹر نیٹ کے استعمال اور غیر مسلم معاشرت کے حدود کی تعلیم و تربیت۔

() مسلمانوں کے درمیان نوافل و مستحبات کے بجائے فرائض و واجبات کو فوقیت دینے کی فکر و رغبت۔

() جلسے جلوس کم کرنے کے ساتھ ان کو با معنی بنانے کی کوشش اور ان کو گویوں اور لفاظوں سے بچانے کی بھر پور محنت۔

() عوام کی ذہن سازی کرنے کی کوشش کہ وہ علماے حق کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے لیے ہمیشہ تیار رہیں اور انہیں کی گائڈ لائن کو قبول کریں۔

() عام طور سے پیران کرام کو مروجہ پیری مریدی کے طریقہ کار سے نکال کر، جدید طریقے سے قوم کی صحیح رہنمائی کی طرف گامزن کرنے کی سعی مسعود۔

اگر علماے ذوی الاحترام حالات کے اعتبار سے شرعی حدود میں رہ کر، میدان عمل میں اتریں اور زبان سے زیادہ کردار و اخلاق اور وقتی و ذاتی مفاد کے بجائے، نسلا بعد نسل اور پوری قوم کے کام آنے والے مفاد کا خیال کریں اور اسی کو فوقیت دیں؛ تو ان شاء اللہ مندرجہ بالا اور دیگر سارے امور میں کامیابی ہمارا مقدر ہوگی، بس شرط یہ ہے کہ یہ علماے کرام وراثت انبیا کا صحیح حق ادا کردیں۔

آخری بات: یاد رکھیں علماے کرام یا علماے کرام سے محبت کرنے والے ہی مندرجہ بالا اور دیگر میدان میں قوم مسلم کی صحیح رہنمائی کرسکتے ہیں، تیسرا کوئی نہیں۔

 

ابو عاتکہ ازہار احمد امجدی مصباحی ازہری غفرلہ

فاضل جامعہ ازہر شریف، مصر، شعبہ حدیث، ایم، اے

خادم مرکز تربیت افتا و خانقاہ امجدیہ و بانی ٹرسٹ فلاح ملت، اوجھاگنج، بستی، یوپی

۴؍جمادی الأولی ۱۴۴۳ھ مطابق ۸؍دسمبر ۲۰۲۱ء