کیا ترُکی منتقل ہونا مفید ہے؟

افتخار الحسن رضوی

 

تُرکی کائنات کا حسین ترین ملک ہے، برصغیر کے نظریاتی مسلمانوں کا ترکی کے ساتھ خاص قلبی لگاؤ ہے اور اس کی تاریخی وجوہات سے آپ سب واقف ہیں۔ داعیِ اتحاد امت، شاعرِ مشرق، ترجمان اسلام حضرت ڈاکٹر محمد اقبال لاہوری رحمۃ اللہ علیہ نے اسطنبول کو ملت کا دلِ قرار دیا ہے۔

صورتِ خاکِ حرم یہ سرزمیں بھی پاک ہے

آستانِ مسند آرائے شہِ لولاک ہے

نکہتِ گل کی طرح پاکیزہ ہے اس کی ہوا

تربتِ ایوب انصاری سے آتی ہے صدا

اے مسلماں! ملت اسلام کا دل ہے یہ شہر

سینکڑوں صدیوں کی کشت و خوں کا حاصل ہے شہر

 

لیکن سال ۲۰۱۰ کے بعد پاکستانی بھائیوں نے ترکی کی تاریخی و اسلامی پہچان سے ہٹ کر اسے دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ مثلاً لاکھوں پاکستانیوں نے ترکی کی طرف غلط معلومات پر مبنی سفر صرف اس نیت سے کیا کہ ایجنٹ حضرات ہمیں ترکی سے اٹلی، سپین، یونان اور دیگر یورپی ممالک تک پہنچا دیں گے۔ سیدنا أبو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مزار شریف کے اطراف میں واقع متعدد ریستوران ایسے ہیں جہاں آپ کو چودہ پندرہ سال کے نو عمر پاکستانی لڑکے مل جائیں گے جن کاتعلق منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، گجرات، سیالکوٹ وغیرہ سے ہو گا اور وہ ایران کے راستے یہاں تک پہنچے ہیں اور ریستوران پر مزدوری کرتے ہیں۔ إسطنبول کے تمام مشہور مقامات پر ایسے ہی پاکستانی مزدور مل جائیں گے جو بہنوں، ماؤں کے زیورات بیچ کر یا قرض لے کر یہاں پہنچے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہوں گے جو سٹوڈنٹ ویزہ لے کر آئے اور پھر غیر قانونی طریقوں سے ویزوں میں توسیع کی کوشش کرتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ انہیں غیر قانونی کام کرنے میں معاونت بھی پاکستان ہی فراہم کرتے ہیں۔ اس ساری صورت حال میں غور و فکر سے نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ بحیثیت قوم، پاکستانی معاشرے کی تربیت نہیں ہوئی۔ مال کی طلب، یورپ کی خواہش، پاسپورٹ کی تبدیلی، شاندار مستقبل اور رشتے داروں یا دوستوں کے سامنے اپنے سٹیٹس کو بہتر کرنے کی تڑپ یہاں لے آتی ہے۔ ان تمام راہوں سے گزر کر اگر کوئی یورپ تک پہنچ بھی جائے تو ۹۹ فیصد چانس یہی ہے کہ حرام ذرائع سے ہی کمائیں گے۔

 

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ترکی کی طرف ہجرت کرنا واقعی مفید ہے؟

 

میرا ترکی کے ساتھ بہت گہرا اور قریبی تعلق ہے۔ اس میں دینی، تعلیمی ادارے، کاروباری گروپس، سیاست، سیاحت، فیملی اور ذاتی تعلقات سب کچھ موجود ہے۔ میں نے موجودہ ترکی اپنی آنکھوں کے سامنے بنتا ہوا دیکھا ہے ۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی شک نہیں کہ میں پاکستان سے زیادہ عرب اور ترکی کو سمجھتا ہوں کیونکہ میری شعوری زندگی کی ابتداء یہاں سے ہوئی ہے۔ لہٰذا اس سر زمین سے متعلق میری آراء بہت گہری معلومات پر مبنی ہیں۔

 

کاروبار کے لیے اگر آپ کے پاس وافر دولت ہے تو آپ ترکی آ جائیں، تعلیم، صحت، رہائش اور کاروباری ترقی کے ہزاروں مواقع ہیں۔ لیکن یاد رکھیں زبان بہت بڑی رکاوٹ بنے گی۔ ترک لوگ انگریزی نہیں بولتے اور اپنی زبان کے علاوہ دیگر زبانیں انہیں پسند نہیں ہیں۔ لہٰذا آپ کو اپنا بزنس چلانے کے لیے لازمی طور پر ترک سٹاف درکار ہو گا۔ سرکاری سکولوں اور جامعات میں آپ کے بچوں کو ترک بچوں کے برابر حقوق مل جائیں گے لیکن انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آپ کو تقریبا سینٹرل یورپی یونیورسٹیز کے برابر ہی فیس ادا کرنی ہو گی۔ صحت کا معیار اچھا ہے اور آپ ورلڈ کلاس صحت سہولیات سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ رہائشی اعتبار سے سستے ترین اور مہنگے ترین علاقے اختیار کرنا آپ کی استطاعت پر منحصر ہے۔ دنیا کے بہترین رہائشی علاقے ترکی میں موجود ہیں۔ سرمایہ کاری کی بنیاد پر نیشنلٹی بھی مل جاتی ہے اور اگر آپ کے پاس investor visa status ہو تو کچھ سالوں میں آپ کو PR اور پھر بتدریج پاسپورٹ بھی مل جاتا ہے لیکن ان کاموں کے لیے ماہر ترک وکیل یا مندوب کی ضرورت رہے گی۔ ترکی میں بزنس سیٹ اپ کے لیے ویب سائٹس پر موجود معلومات ادھوری، نا مکمل، exaggerated اور بڑی حد تک جھوٹی ہیں۔ جب آپ کسی وکیل یا ایجنٹ سے ملیں گے تو وہ آپ کے لیے بہترین کھانے و ضیافت کا اہتمام کریں گے لیکن پیسے وصول کرنے کے بعد وہ اصلی روپ سامنے لائے گا۔ ترک کی رئیل سٹیٹ مارکیٹ اور بزنس سیٹ اپ کے لیے قائم فرمز میں اکثریت دھوکے دیتی ہے اور اس کی اصل وجہ ہمارا لالچ، شارٹ کٹ کی تلاش، غلط انتخاب، اور درست مندوب مقرر نہ کرنا ہے۔

 

اسطنبول اس وقت پوری دنیا کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یورپ جانے والی اکثر فلائٹس کا یہاں سے ہی گزر ہوتا ہے، دنیا کا بڑا اور بہترین ائیرپورٹ اور اعلٰی ترین ائیرلائن کا مرکز بھی اسطنبول ہی ہے۔ کنسٹرکشن انڈسٹری میں پورے یورپ پر ترکی کو سبقت و مہارت حاصل ہے حتٰی کہ جرمنی، فرانس، سویٹزرلینڈ اور یونان جیسے ممالک کی تعمیراتی انڈسٹری پر بھی ترکی حاوی ہے۔

 

اگر آپ وزٹ ویزہ پر آنے کے بعد TRC لے کر ترکی میں نوکری ڈھونڈنے کی کوشش میں ہیں تو یہ صریح زیادتی ہے، آپ اپنے ساتھ اور اپنے اہل خانہ و زندگی کے ساتھ ایک دھوکہ کر رہے ہیں۔ جس نے آپ کو TRC پر نوکری ولوانے کا جھانسہ یا دلاسہ دیا ہے وہ بھی جھوٹ بول رہا ہے۔ ترکی میں صرف سائنسی، ٹیکنکل، تدریسی اور اعلٰی پائے کے ریسرچ پروجیکٹس میں پاکستانیوں کو نوکری ملنے کا چانس 0.90 فیصد ہے کیونکہ ترکی میں اکثریت مقامی ہنر مندوں کی ہے، ان کے بعد دیگر ترک بولنے والی اقوام مثلا ترکمانستان، آذربائیجان، ازبک اور روسی یہاں آباد ہیں۔ ان کے علاوہ تقریبا چالیس لاکھ شامی مہاجرین یہاں آباد ہیں جو بآسانی ترک زبان بول سکتے ہیں اور عربی ان کی ماں بولی ہے۔ شامی مہاجرین کو بغیر کسی قانونی دستاویز فراہم یے بھی نوکری مل جاتی ہے اور اس کی دو وجوہات ہیں۔ ترک حکومت نے اسلامی بھائی چارے کی خاطر انہیں پناہ دے رکھی ہے لہٰذا ان سے کوائف کم ہی طلب کیے جاتے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ خلیجی ممالک سے لاکھوں سیاح ہر سال ترکی کا سفر کرتے ہیں، شامی مہاجرین ان کے ساتھ عربی زبان میں بات چیت کر سکتے ہیں۔ لہٰذا آپ کے لیے کسی کمپنی، فیکٹری وغیرہ میں نوکری کا چانس نہیں ہے لہٰذا ہرگز ہرگز خود کو دھوکے میں نہ رکھیں۔

 

ترکی پہنچنے والے نئے نئے اور ننھے منھے بچے مزارات، سمندر، پہاڑوں اور دیگر مقامات کی تصاویر اور سلیفیاں فیس بک پر پوسٹ کرتے ہیں اس سے پاکستان میں مقیم desperate نوجوانوں کا دل بھی ہچکولے کھاتا ہے اور وہ بھی ترکی کے خواب دیکھنا شروع کرتے ہیں۔ ان ننھے منھے بچوں کے اپنے قانونی سٹیٹس مشکوک ہوتے ہیں لہٰذا ان کی باتوں میں بالکل نہ آئیں ۔ یہ وہی بچونگڑے ہیں جو آپ کے محلے میں رہا کرتے تھے، انہیں کے بارے کسی سیانے نے کہا تھا جو گھر میں بھوکے وہ لاہور جا کر بھی بھوکے۔ ایک کمرے میں دس دس پاکستانی اوپر تلے پڑے ہوتے ہیں اور ان کے کمروں سے مسلسل مکروہ گیسوں کا اخراج جاری رہتا ہے۔ لہٰذا ان کی باتوں میں آنے سے پہلے اچھے سے ناپ تول کر لیا کریں۔ میرا آپ سب کے لیے مشورہ اور نصیحت ہے کہ پاکستان میں ہی کوئی تجارت شروع کر لیں یا کسی خلیجی ملک چلے جائیں جہاں کم از کم آپ ماہوار تنخواہ وصول کریں گے اور تجربے کی بنیاد پر آمدن میں اضافہ بھی ہو جائے گا۔ یا دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کا رخ کریں جہاں اکانومی بہتری کی طرف جا رہی ہو۔ مثلاً گزشتہ چند سالوں میں ہمارے کچھ دوست آرمینیا، جارجیا، آذر بائیجان، بوسینیا، ملائیشیا اور مشرقی یورپی ممالک میں آباد ہو گئے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح ایک گزارش کروں گا، جہاں بھی جائیں، دین اسلام سے بے وفائی نہ کریں اور اسلام کے داعی و مبلغ بن کر جائیں، فرقہ پرستی نہ کریں، اپنے پیر کا سکھایا ہوا دین متعارف نہ کروائیں بلکہ قرآن و سنت سے ہی جُڑے رہیں۔ اس کی برکت سے ناکامی نہیں ہو گی۔

 

آخر میں پاکستانی مولویوں سے ایک دست بستہ عرضی ہے کہ آپ تو یہاں بالکل تشریف نہ لائیں، یقین جانیں ترکی میں سب اہل سنت ہیں، ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور مذہبی تقسیم و تفرقہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب سے آپ مولوی صاحبان کی نحوست نے یہاں ڈھیرے ڈالے ہے تب سے بریلوی و دیوبندی تقسیم کا آغاز ہو چکا ہے۔ اب ترک علماء پریشان نظر آتے ہیں کہ ان میں سے سنی کون ہے اور غیر سنی کون۔ لہذا آپ یہاں نہ آیا کریں اور اگر آنا ہی ہو تو اپنے فرقے وغیرہ وہیں دفنا کر آیا کریں۔ یہاں سب قادری فقیر ہیں، نقشبندی درویش ہیں، ابو ایوب انصاری سے لے کر جلال الدین رومی تک سب یہیں پر ہیں اور ان کے آستانے بغیر کوئی نذرانہ وصول کیے فیض بانٹ رہے ہیں۔ لہذا ترک مسلمانوں کو ْسُنیْ ہی رہنے دیں، بریلوی یا دیوبندی نہ بنائیں۔

کتبہ: افتخار الحسن رضوی

۲۱ ستمبر ۲۰۲۲ بروز جمعہ