مشہور حدیث: ﺣﺐ اﻟﻮﻃﻦ ﻣﻦ اﻹﻳﻤﺎﻥ۔ یعنی وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ یہ عوام میں بہت مشہور ہے لیکن اس روایت کی کوئی اصل نہیں۔

 

ملا علی قاری رحمہ اللہ اس کے بارے موضوعات الکبیر میں فرماتے ہیں:

 

ﻗﺎﻝ اﻟﺰﺭﻛﺸﻲ ﻟﻢ ﺃﻗﻒ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﻗﺎﻝ اﻟﺴﻴﺪ ﻣﻌﻴﻦ اﻟﺪﻳﻦ اﻟﺼﻔﻮﻱ ﻟﻴﺲ ﺑﺜﺎﺑﺖ ﻭﻗﻴﻞ ﺇﻧﻪ ﻣﻦ ﻛﻼﻡ ﺑﻌﺾ اﻟﺴﻠﻒ ﻗﺎﻝ اﻟﺴﺨﺎﻭﻱ ﻟﻢ ﺃﻗﻒ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﻣﻌﻨﺎﻩ ﺻﺤﻴﺢ۔۔۔

 

ترجمہ: امام زرکشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اس حدیث سے واقف نا ہو سکا۔ امام سید معین الدین الصفوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ثابت نہیں اور کہا گیا ہے کے یہ کچھ سلف کا کلام ہے۔ امام سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اس سے واقف نا ہو سکا لیکن اس کا معنی صحیح ہے۔ (اگے ملا علی قاری رحمہ اللہ نے لمبی بحث کی ہے کے معنی درست ہو بھی سکتے ہیں یا نہیں)

 

موضوعات الکبیر # 164

 

علامہ اقبال رحمہ اللہ کا مشہور شعر بھی اس روایت کی تردید کرتا ہے:

 

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے

جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے

 

خیر البتہ وطن سے شریعت کے اندر رہتے محبت کرنا ٹھیک ہو گا۔ لیکن ایسی محبت نا ہو جو ” Extreme Nationalism” بن جائے۔