(۲۵) حضور سے توسل اور نماز حاجت

۲۸۲۔عن أبی اُمامۃ بن سھل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ : اِن رجلا کان یختلف الی عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فی حاجۃ لہ ، فکان عثمان لا یلتفت الیہ ولا ینظر فی حاجتہ ، فلقی عثمان بن حنیف فشکی ذٰلک الیہ ، فقال لہ عثمان بن حنیف : اِئت المیضاۃ فتوضا ثم ائت المسجد فصل فیہ رکعتین ثم قل : أللہم اِنی أسئلک و أتوجہ الیک بنبینا محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ،نبی الرحمہ ، یا محمد ! اِنی أتوجہ بک اِلی ربی فتقضی لی حاجتی، وتذکر حاجتک و رح حتی أروح معک، فانطلق الرجل فصنع ما قال لہ ، ثم أتی عثمان بن عفا ن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، فجاء البواب حتی أخذ بید ہ ، فأدخلہ علی عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فأجلسہ معہ علی الطنفۃ، فقال : حاجتک ، فذکر حاجتہ وقضاہا لہ ثم قال لہ ، ما ذکرت حاجتک حتی کا ن الساعۃ وقال : ماکانت لک من حاجۃ فاذکرہا ، ثم اِن الرجل خرج من عند ہ فلقی عثمان بن حنیف ، فقال لہ: جزاک اللہ خیر ا، ما کان ینظر فی حاجتی ولا یلتفت اِلی حتی کلمتہ فی ، فقال عثمان بن حبیف : واللہ ما کلمتہ ، ولکنی شھدت رسول اللہ صلی اللہ وسلم وأتاہ ضریر ، فشکی الیہ ذہاب بصرہ ، فقال لہ النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : فتصبر ہ، فقال : یا رسول اللہ !لیس لی قائد وقد شق علی۔ فقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : اِئت المیضاۃ فتوضا ثم صل رکعتین ثم ادع بہذہ الدعوات ، قال اِبن حنیف : واللہ ما تفرقنا ، وطال بنا الحدیث حتی دخل علینا الرجل کأنہ لم یکن بہ ضرقط۔

حضرت ابو امامہ بن سھل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک حاجتمند اپنی حاجت کیلئے امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں آتاجاتا ، امیرالمؤمنین نہ اسکی طرف التفات کرتے نہ اسکی حاجت پرنظر فرماتے ،اسنے حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس امر کی شکا یت کی۔ انھوں نے فرمایا : وضو کر کے مسجد میں دو رکعت نماز پڑھ پھر یوں دعامانگ، الٰہی میں تجھسے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم نبی رحمت کے وسیلے سے توجّہ کرتا ہوں ، یا رسول اللہ میں حضور کے تو سل سے اپنے رب کی طرف متو جہ ہو تا ہوں کہ میری حاجت روافرمائے اور اپنی حاجت کا ذکر کر ۔ شام کو پھر میرے پاس آ نا کہ میں تیرے ساتھ چلوں۔حاجتمند نے یوں ہی کیا ، پھر آستا نۂ خلافت پر حاضر ہوا ۔دربان آیا اور ہاتھ پکڑ کر امیر المؤمنین کے حضور لے گیا ۔ امیر المؤ منین نے اپنے ساتھ مسند پر بٹھا یا ،مطلب پوچھا ،عرض مطلب بیان کیا : فوراً روافرمایا اور ارشاد کیا اتنے دنوں میںاسوقت تم نے اپنا مطلب بیان کیا ، پھر فرمایا : جو حاجت تمہیں پیش آیا کرے ھمارے پاس چلے آیاکرو ۔ یہ شخص وہاں سے نکل کر حضرت عثمان بن حنیف سے ملا اورکہا، اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر دے،امیرالمؤمنین میری حاجت پرنظر اور میری طرف التفات نہ فرماتے تھے یہاںتک کہ آپ نے ان سے میرے بارے میں عرض کی ۔عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا ـ:خداکی قسم میں نے تو تیرے معاملہ میں امیرالمؤمنین سے کچھ نہ کہا۔مگر ہوایہ کہ میں نے سیّد عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کو دیکھا کہ حضور کی خدمت اقدس میں ایک نابینا حاضر ہوا اور نا بینائی کی شکایت کی ۔حضورنے یوںہی ارشاد فرمایا: کہ وضو کر کے دورکعت پڑھے پھر یہ دعا کرے ۔ خداکی قسم ہم اٹھنے نہ پائے تھے باتیں ہی کر رہے تھے کہ وہ ہمارے پاس آیا ،گویا کبھی اندھا نہ تھا ۔

]۲[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں

ایھا المسلمون ، حضرات منکرین (توسل )کی غایت دیانت سخت محل افسوس و عبرت ، اس حدیث جلیل کی عظمت رفیعہ وجلالت منیعہ اوپر معلوم ہوچکی اوراسمیں ہم اہلسنّت وجماعت کے لیئے جواز استمداد والتجا ،وہنگا م توسل ندائے محبوبان خدا کا بحمد اللہ کیساروشن و واضح وبیّن ولائح ثبوت جس سے اہل انکا رکو کہیں مفر نہیں ۔اب انکے ایک بڑے عالم مشہو ر نے باوجود اسقدر دعوی بلند علم و تدین کے اپنے مذھب کی حمایت بے جا میں جس صریح بے باکی وشوخ چشمی کاکام فرمایا ہے انہیں اس سے شرم چاہئے تھی ۔حضرت نے حصن حصین شریف کا ترجمہ لکھا ۔ جب اس حدیث پرآئے اسکی قاہر شوکت عظیم عزت نے جرات نہ کرنے دی کہ نفس متن میں اسپر طعن فرمائیں ،اور ادھر پاس مشرب ، ناخن بدل ، جوش عصبیّت ،تاب گسل ناچار حاشیہ کتاب پر یوں ہجوم ہموم کی تسکین فرمائی کہ۔

یک راوی ایں حدیث عثمان بن خالد بن عمر بن عبد اللہ متروک الحدیث ست چنانکہ درتقریب موجود ست وحدیث راوی متروک الحدیث قابل حجّت نمی شود ۔انّا للہ وانّا الیہ رٰجعون ،انصاف ودیانت کا تویہ مقتضی تھاکہ جب حق واضح ہو گیا تھا تو تسلیم فرمالیتے ۔ارشاد مفترض الانقیاد حضور پر نور سیّد الانبیا ء صلو ات اللہ وسلامہ علیہ وعلیٰ آلہ الامجا د کی طرف رجوع لاتے نہ کہ خواہی نہ خواہی بزور تحریف ایسی صحیح رجیح حدیث کو جسکی اس قدر ائمئہ محدّثین نے یک زبان تصحیح فرمائی ۔معاذاللہ ساقط ومر دود قرار دے دیجئے ۔ اورانتقام خداومطالبئہ حضور سیّد روز جزا علیہ افضل الصلوٰۃ و الثناء کا کچھ خیال نہ کیجئے ۔اب حضرات منکرین کے تمام ذی علموں سے انصاف طلب کہ اس حدیث کا راوی عثمان بن خالد بن عمر بن عبداللہ متروک الحدیث ہے جس سے ابن ماجہ کے سو اکتب سّۃ میں کہیں روایت نہیں ۔یا عثمان بن عمر بن فارس عبدی بصری ثقہ ، جو صحیح بخاری صحیح مسلم وغیرھما جو تمام صحاح کے رجال سے ہیں ۔کاش اتنا ہی نظر فرمالیتے کہ جو حدیث کئی صحاح میں مروی اسکا مدار روایت وہ شخص کیوں کر ممکن جو ابن ما جہ کے سو اکسی کے رجال سے نہیں ۔وائے بے باکی مشہور ومتداول صحاح کی حدیث جنکے لاکھوںنسخے ہزاروں بلاد میں موجودانکی اسانید میں صاف صاف’’عن عثمان بن عمر‘‘ مکتوب ،پھر کیا کہا جائے کہ ابن عمر کا ابن خالد بنا لینا کس درجے کی حیا ودیا نت ہے ۔ ولاحول ولا قوۃ الاباللہ العلی العظیم ۔امام منذری نے ترغیب میں فرمایا ،طبرانی نے اس حدیث کی متعدّد سندیں ذکر کرکے فرمایا کہ حدیث صحیح ہے ۔ فتاویٰ رضویہ ۳/ ۵۲۹،۵۳۰

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۸۲۔ المعجم الکبیر للطبرانی ، ۹/ ۳۱ ٭ دلائل النبوۃ للبیہقی ، ۶/ ۱۶۷

الترغیب والترہیب للمنذری ، ۱/ ۴۷۳ ٭ المعجم الصغیر للطبرانی ، ۱/ ۱۸۳