کرپشن (بدعنوانی ) میں ترقی ۔

۔

عنوان: تبلیغِ دین سے وابستہ جماعتوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ۔

۔

پاکستان بدعنوانی کے لحاظ سے ترقی پاکر 140 سے 124 ویں نمبر پنہچ چکا ہے ۔بیرونی دنیا، غیر مسلم اقوام کے سامنے ہماری عملی زندگی کا کچھا چھٹا اگرچہ پہلے بھی کھل چکا تھا لیکن گرہیں مزید کھلتی جارہی ہیں ۔۔

۔

مسلمانانِ پاکستان کا بدعنوانی میں ترقی کی خبر پڑھ کر میں سوچ رہا تھا کہ پاکستان میں اِس وقت کئ ساری مذہبی جماعتیں اصلاحِ امّت کا کام کررہی ہیں ۔ہر جماعت کے مذھبی رہنما کے متعلق اُن کے عقیدت مند اِس خوش عقیدگی میں مبتلا ہیں کہ حضرت کی بابرکت صحبت نے لاکھوں، کروڑوں افراد کی تقدیر کو بدل دیا ہے ۔

۔

اگر لاکھوں، کروڑوں افراد کی زندگیاں بدل گئیں تو سوال یہ ہے کہ پھر پاکستان بدعنوانی میں ترقی یافتہ کیوں؟ پاکستان کی مارکیٹوں میں ذخیرہ اندوزی کیوں؟ پاکستان میں چھوٹی بچیوں کے ساتھ ریپ، قتل کے واقعات ترقی پر کیوں؟؟؟

۔

پاکستان میں ہر پیر کا خلیفہ جلسے جلوسوں میں دعویٰ کرتا ہے سائیں نے کروڑوں لوگوں کی زندگیاں بدل دیں ۔۔۔۔۔فرض کریں اگر دس پیروں نے کروڑوں انسانوں کو زندگیوں کو بدل دیا ،اُنہیں صالح بنادیا تو حکمِ قرآن ” وکتبنا فی الزبور انّ الارض یرثھا من عبادی الصٰلحون” کی مطابق روئے زمین پر مسلمانوں کی حکومت ہونی چاہئے جبکہ معروضی حالات میں پاکستان کے نیک لوگ کسی یونین کونسل کے ممبر بھی نہیں ہیں چہ جائیکہ کہ پورے زمین کے وارث ہوں ۔۔۔۔

۔

ماضی میں بھی تجدید دین کا کام ہوا ہے ۔اُن مُجَدّدین کی کارکردگی زمینی سطح پر ظاہر بھی ہوئ ۔جن برائیوں کے خلاف اُنہوں نے عملی اقدامات کئے اُن کا تدارک بھی ہوا ۔۔۔موجودہ زمانہ میں بھی لوگ اپنے اپنے ممدوح جماعتوں کے متعلق کہتے ہیں کہ ہم تجدیدِ دین کا کام کررہے ہیں لیکن امّت کے حالات سدھارنے کی بجائے مزید بگڑ کیوں رہے ہیں یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے ۔۔

۔

امّت کے حالات کی درستی کےلئے چار چیزیں ضروری ہیں ۔۔۔

نمبر 1

صالح نصابِ تعلیم

نمبر 2

مُصْلِح کا راسخ العلم والعمل صحیح العقیدہ مسلمان ہونا ۔

نمبر 3

طریقہ تعلیم وتبلیغ

نمبر 4

مُخَاظَبِیْن کے دلوں کا اصلاح قبول کرنا۔۔۔

۔

حالات چاہے جتنے بھی خراب ہوں لوگ اصلاح آج بھی قبول کرتے ہیں ۔قرآنِ کریم کی آیت “وَذَکّرْ فَاِنّ الذّکرٰی تنفع المؤمین ” سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے ” کا حکم ہر دور کے مسلمانوں کو شامل ہے ۔لہذا یہ کہنا غلط ہے کہ لوگ اصلاح قبول نہیں کررہے ۔۔۔

۔

رہی بات نصابِ تعلیم کی ۔۔۔۔تو مسلمانوں کی اصلاح، ترقی، کامیابی کےلئے نصابِ تعلیم قرآنِ کریم ہے ۔نصابِ تعلیم بھی اعلیٰ ۔۔۔۔

۔

تین چیزیں ایسی ہیں جسکی وجہ سے موجودہ زمانہ میں مسلمان تنزلی کا شکار ہیں ۔۔۔۔

نمبر 1

نصابِ تعلیم وتبلیغ ۔

موجودہ زمانہ میں اصلاحی مذھبی جماعتیں قرآنِ کریم کو نصابِ تعلیم وتبلیغ میں ثانوی درجہ کی حیثیت دے چکے ہیں ۔جبکہ جماعتی کتابیں اُن کے نزدیک اوّل درجہ کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں ۔۔۔۔

۔

نمبر 2

طریقہ تعلیم وتبلیغ ۔۔۔۔۔۔مسلمان کےلئے فائدہ مند طریقہ تعلیم وتبلیغ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ تعلیم وتبلیغ ہے ۔ارشادِ الٰہی ہے “لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ “

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں تمھارے لئے بہترین نمونہ ہے ۔

۔

رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک طریقہ کے مطابق جس معاشرے میں جس قسم کی برائ عروج پر ہو اُسے ٹارگٹ بناکر اُس کی خرابیاں بیان کرنا اور افرادِ معاشرے کے دل میں اُس برائ کی محبت ختم کرانے کےلئے نبوی طریقے آزمانہ ۔۔۔۔قرآن کریم میں کفار مکہ، یہودنصارٰی اور منافقین کو دعوتِ حق دینے میں یہی طریقہ برتا گیا ہے۔

۔

موجودہ زمانہ میں مذھبی جماعتوں کے اندر روشن خیال طبقہ کے لوگ اِس حدتک آگے بڑھ چکیں ہیں کہ اب قدامت پسند کارکنوں کا اُن جماعتوں میں رہنا بھی مشکل بن گیا ہے ۔بات بات پر مغربی اصولِ ترقی کی گردان روشن خیال اسلامی اسکالرز کی وردِ زبان بن چکی ہے ۔(عالم دین کہلوانے کی بجائے یہ طبقہ خود کو اسلامی اسکالر لکھنے، بولنے میں فخر محسوس کرتا ہے )

۔

تعلیم وتبلیغ دین میں نبوی طریقہ تعلیم وتبلیغ متروک ہوتی جارہی ہے ۔گاندھی جی کے اصولوں (اچھا سوچئے، اچھا بولئے، اچھا دیکھئے، صرف ترغیب دیجئے )کی پرچار بڑھتی جارہی ہے ۔

نمبر 2

مُصْلح کا راسخ العلم والعمل صحیح العقیدہ مسلمان ہونا ۔۔۔۔۔۔

اِس پر گفتگو کی حاجت نہیں ہے ۔اقبال نے کہا تھا “زاغوں کے تَصَرّفْ میں ہے عقابوں کا نشیمن “اِلّا ماشآء اللہ

۔

صاحب برا نہ مانیں تو کچھ کڑوی معروضات آپ کی بارگاہ میں عرض کروں ۔

صاحب !عوامی فنڈ سے مسلمانوں کی تعلیم وتبلیغ کا سلسلہ چل رہا ہے ۔اور عوامی فنڈ مالِ وقف ہے ۔وقف میں ناجائز تَصَرُّفْ کرنا یتیم کے مال میں ناجائز تَصَرّفْ کرنے سے بھی بڑھ کر اشد کبیرہ گناہ وحرام ہے ۔

۔

ذرا سوچئے ! کہیں آپ نے اصل اسلامی نبوی طریقہ تعلیم وتبلیغ جدّت پسندی کے سیلاب میں بہا تو نہیں دیا ؟

۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ مغربی موٹیویشنل اسپیکروں کی باتوں کو حرزِ جان بناکر آپ نے اپنے کارکنوں کو سرمایہ کے پیچھے لگادیا جسکی بناپر اخلاص، لِلّٰہیت ،جذبہ خدمت دین اپنا بوریا بستر گول چکے ہوں؟

۔

کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ آپ کے آس پاس تنخواہ دار فکری بونوں کی جمگھٹا ہے جنہیں صرف اپنی سیٹ کی فکر ہے؟

✍️ ابو حاتم

26/01/2022/