امیر المومنین خلیفہ بلا فصل،افضل البشر بعد الانبیاء، حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی اولیات و خصوصیات۔

تحریر۔ڈاکٹر محمد رضا المصطفی۔

 

1. حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ کی چار نسلیں شرف صحابیت سے مشرف ہوئیں۔۱-ابو قُحافَہ، ۲-ان کے بیٹے ابو بکر، ۳-ان کے بیٹے عبد الرحمن بن ابی بکر، اور پھر ۴-ان کے بیٹے ابوعتیق محمد بن عبد الرحمن۔یہ شرف اس امت میں ان کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔ کتاب الثقات ابن حبان ص ۔233،

2۔ عشرہ مبشرہ میں شامل دس میں سات کبار صحابہ کرام علیہم الرضوان آپ کی دعوت پر مشرف بہ اسلام ہوئے ۔الاستعیاب فی معرفة الاصحاب ,ص۔347

3۔ فداک ابی و امی یارسول اللہ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر میرے ماں باپ قربان یہ نعرہ سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے لگایا ۔

4۔ آپ کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ نے حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر بلا تردد اور بلا شبہ کیے فوراً لبیک کہا اور بغیر کسی مطالبہ دلیل کے آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے ۔الاستعیاب فی معرفةالاصحاب ،ص۔377

 

5۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو اسلام کے اولین مبلغ و خطیب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے ہے ۔آپ نے حرم کعبہ میں کفار کے رؤساء کے سامنے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے دین کی حقانیت کو بیان کیا اور اس کے عوض میں ان پر بے پناہ ظلم و ستم کیا گیا۔

6۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ معراج۔ کی سب سے پہلے تصدیق کا شرف بھی آپ کو حاصل ہے۔سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے کفار کے سامنے جب اپنے معراج شریف کا ذکر کیا انہوں نے تکذیب کے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے تصدیق کی ،اس دن سے آپ کا نام صدیق مشہور ہو گیا ۔المستدرک علی الصحيحين، الرقم: 4515

 

7.حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو اسلام کی خاطر سب سے پہلے مسجد بنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔: ہجرت سے قبل حضرت ابو بکر صدیق رضیَ اللہُ عنہ نے اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنائی ہوئی تھی چنانچہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضیَ اللہُ عنہا فرماتی ہیں: میں نے ہوش سنبھالا تو والدین دینِ اسلام پر عمل کرتے تھے،کوئی دن نہ گزرتا مگر رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دن کے دونوں کناروں صبح و شام ہمارے گھر تشریف لاتے۔ پھر حضرت ابوبکر کو خیال آیا کہ وہ اپنے گھر کے صحن میں مسجد بنالیں، پھر وہ اس میں نماز پڑھتے تھےاور (بلند آواز سے) قراٰنِ مجید پڑھتے تھے،مشرکین کے بیٹے اور ان کی عورتیں سب اس کو سنتے اور تعجب کرتےاور حضرت ابوبکر کی طرف دیکھتے تھے۔

بخاری، حدیث:476۔

 

8.حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلے ہجرت کا اعزاز بھی آپ کو حاصل ہے ۔آپ کوقران مجید میں ” صاحبہ” “ثانی اثنین”فرمایا گیا یہ اعزاز کسی اور کو نصیب نہیں ہوا ۔اپ نے حضوری کی وہ اعلیٰ کیفیات حاصل کی ہیں جس پر اللہ تعالی کا قرآن گواہ ہے ۔”ان اللہ معنا۔”

 

9۔حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر سب سے پہلے جان قربان کا شرف بھی آپ کو حاصل ہے۔ غار ثور میں جب سانپ آپ کو ڈس رہا تھا آپ نے کس دن پاؤں وہاں سے نہ ہٹایا مبادا حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام مبارک میں خلل آ جائے ،جان جاتی ہے تو جائے ،پاک حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام میں خلل نہ آئے ۔اسلام میں خود کشی کرنا حرام ہے جان بوجھ کر اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا گناہ کبیرہ ہے یہاں پر بظاہر یہی صورت بن رہی تھی مگر دل میں تعظیم رسول و ادب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم موجزن تھا، جس کی وجہ سے یہ اتنی بڑی نیکی قرار پائی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “ہم نے ابوبکرؓ کے سوا سب کے احسانات کا بدلہ دے دیا ہے البتّہ ان کے احسانات کا بدلہ اللہ کریم قیامت کے دن خود عطا فرمائے گا۔ ترمذی،حدیث:3681”

 

10مسجد نبوی شریف کی زمین خریدی گئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے مال سے اس کی ادائیگی کی۔

 

11۔حضور نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کے اس عالم سے رخصت ہونے کے اختیار کی اطلاع پر سب سے اوّل سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کے آنسو جاری ہوئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا”اللَّهُ خَيَّرَ عَبْدًا بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ فَاخْتَارَ مَا عِنْدَ اللَّهِ.”اللہ تعالی نے ایک بندے کو اختیار دیا ہے کہ وہ دنیا کو اختیار کرے یا جو اللہ تعالی کے پاس ہے اس کو اختیار کر لے تو بندے نے جو اللہ کے پاس ہے اس کو اختیار کرلیا۔بخاری :كتاب الصلاة (نماز کا بیان)حدیث:-466.

حالانکہ باقی اصحاب رضی ﷲ عنہم ان کی اس حالت پر متعجب تھے کہ نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم ایک آدمی کو ﷲ تعالیٰ کی طرف سے انتقال کے اختیار ملنے کی اطلاع دے رہے ہیں اور ابوبکر رو رہے ہیں۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ فقہاہت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج سمجھنے میں ایک منفرد حیثیت کے حامل انسان تھے ۔

 

12.نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے آخری ایام میں حکم ارشاد فرمایا: مسجد (نبوی) میں کسی کا دروازہ باقی نہ رہے،مگر ابوبکر کادروازہ بند نہ کیا جائے۔

بخاری، حدیث:466۔

 

13.حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے آپ کے احسانات کا اقرار فرمایا ہے جیسا کہ حدیث پاک میں ارشاد ہے نبی مہربان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک مرتبہ یوں ارشاد فرمایا: جس شخص کی صحبت اور مال نے مجھے سب لوگوں سے زیادہ فائدہ پہنچایا وہ ابوبکر ہے اور اگر میں اپنی اُمّت میں سے میں کسی کو خلیل( گہرا دوست) بناتا تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلامی اخوت قائم ہے۔بخاری، حدیث: 3904

 

14.حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الوفات کے دوران آپ نے مسلمانوں کی نماز کے لیے سیدنا ابوبکر صدیق رضی ﷲ عنہ کو ہی امام بنایا۔ حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم سے آپ کے مصلیٰ پر آپ کی حیات میں آپ نے ۱۷ ؍ سے ۲۱ نمازوں کی امامت کروائی۔ ) طبقاتِ ابن سعد،ص۔379

 

15.حضور خاتم المرسلین صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری وفات اقدس جیسے ہوش رُبا حادثہ اور قیامت خیز واقعہ کے وقت بھی با ہوش اور بااستقلال رہنے والے صرف سیدنا صدیق اکبر رضی ﷲ عنہ ہیں۔ جنھوں نے سب کو صبر کی تلقین کر کے سنبھالا۔اس وقت بڑے بڑے صحابہ کرام علیہم الرضوان اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئے تھے بلکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے تو تلوار نکال لی تھی اور فرمایا جو کہے گا کہ حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے چلے گئے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا ،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے قرآن پاک کی آیت مبارکہ پڑھ کر سب کو سنبھالا ،

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌۚ-قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُؕ-اَفَاۡىٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْؕ-وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْــٴًـاؕ-وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن(آل عمران۔ایت 144)

ترجمہ محمد ایک رسول ہی ہیں ، ان سے پہلے بھی کئی رسول گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ وصال کر جائیں یا انہیں شہید کردیا جائے تو تم الٹے پاؤں پلٹ جاؤگے۔

 

16 بعد وصال حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک کا بوسہ لینا صرف سیدنا ابوبکر رضی ﷲ عنہ کو ہی نصیب ہوا۔ تاریخ الخلفاء،للسیوطی ،ص۔07

 

17۔جمہور اہل اسلام کا ہر دور میں یہ عقیدہ رہا ہے کہ اس امت میں انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد سب سے افضل بشر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ہیں آپ کی افضلیت من کل الوجوہ نہیں بلکہ افضلیت مطلقہ ہے ۔کسی صحابی کا کسی اور شعبہ اور جہت میں امتیازی حیثیت کا حامل ہونا آپ کی افضلیت کے منافی نہیں ہے۔

 

18۔مانعین زکوۃ منکرین زکوۃ مرتدین اسلام اور نبوت کے جھوٹے مدعیان کے خلاف آپ کا علم جہاد بلند کرنا ،قرآن کو جمع کرنا ،آپ کے سنہری کارنامے ہیں ۔جن پر تاریخ اسلامی ہمیشہ فخر اور ناز کرتی رہے گی۔

 

19. کسی خوش نصیب کو سبز گنبد کے سائے تلے چند گھڑیاں گزار نہ نصیب ہوجائے تو اپنے آپ کو خوش نصیب اور سعادت مند فرد تصور کرتا ہے ۔وہ روضہ اقدس جہاں پر ستر ہزار فرشتے صبح اور ستر ہزار شام کو سلامی کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کس قدر علی قدر اور علو المرتبت صحابی ہیں کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں آرام فرما رہے ہیں ،تاقیامت جتنے افراد حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سلام کے لیے حاضر ہو تے ہیں وہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی سلام پیش کرتے ہیں۔

مختصر یہ کہ سیدنا صدیق رضی ﷲ عنہ کو جتنا قرب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ اس عالم میں تھا اتنا ہی عالمِ برزخ میں اتنا ہی عالم آخرت اور بہشت میں بھی ہوگا۔ان شاء اللہ تعالٰی۔

اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم کو حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بے پایاں عشق رسول کے صدقے میں اتباع رسول ، اسوہ رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی پیروی نصیب ہو ۔

ذرہ عشق نبی صل اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم از حق طلب

سوز صدیق وعلی رضی اللہ تعالی عنھما از حق طلب۔

 

ڈاکٹر محمد رضا المصطفی

26-01-2022بدھ

00923444650892واٹس اپ نمبر ۔