کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان میں فقھاء کے لیے فضیلت ہے یا اصحاب الحدیث کے لیے؟

 

ایک حدیث میں آیا ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :” میری امت کے کچھ لوگ قیامت تک مدد یافتہ رہیں گئے ـ”

اس کی تشریح میں احمد بن حنبل نے فرمایا :”إن لم تكن هذه الطائفة المنصوره أصحاب الحديث فلا أدري من هم “اگر یہ طائقہ منصورہ اصحاب الحدیث نہیں ہیں تو میں نہیں جانتا کہ یہ کون لوگ ہیں ـ ](معرفته علم الحديث للحاكم ص 2 ح 2 ، وسنده حسن ، طبعه جديده ص 107 اوقال الحافظ ابن حجر :” وأخرج الحاكم في علوم الحديث بسند صحيح عن أحمد : إن لم يكونو أهل الحديث فلا أدري من هم “

[فتح الباري 13 / 293 تحت ح : 7311]

 

خوش فہمیاں تو چیک کرو امام احمد بن حنبل کی😂😂

 

■■اصحاب الحدیث کی اوقات فقہاء کے سامنے :■■

 

■امام فضیل بن عیاض کی نظر میں

 

امام خطیب بغدادی اپنی سند سے روایت بیان کرتے ہیں :

أنا أبو الحسن علي بن القاسم بن الحسن الشاهد بالبصرة، نا علي بن إسحاق المادرائي، نا الترمذي، يعني محمد بن إسماعيل نا سويد، قال: ” كان الفضيل بن عياض إذا رأى أصحاب الحديث قد أقبلوا نحوه وضع يديه في صدره وحرك يديه، وقال: أعوذ بالله منكم

 

امام فضیل بن عیاض (شیخ الاسلام عابد اور شاگرد امام ابو حنیفہ) جب اصحاب الحدیث کواپنی طرف آتے دیکھتے تواپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لیتے ہیں اوراپنے ہاتھوں کو حرکت کرتے ہوئے فرماتے کہ میں تم سے خداکی پناہ چاہتاہوں

[الجامع لأخلاق الراوي برقم: 408 وسندہ صحیح]

 

امام ابن عساکر نے انکی ایک اور روایت اپنی سند جید سے نقل کیا ہے :

 

أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن عبد الملك أنبأنا أبو طاهر بن محمود أنبأنا أبو بكر ابن المقرئ حدثنا أبو يعلى الموصلي حدثنا سعيد بن عبد الجبار أبو عثمان قال سمعت الفضيل بن عياض ولقيه جماعة من أصحاب الحديث فقال ما لكم لو أعلم أنه خير لكم لم أحدثكم ولو أعلم أنه خير لي أن لا أحدثكم ما حدثتكم وما شئ أحب إلي من أن لا أراكم ولا تروني

امام عبد الجبار ابو عثمان کہتے ہیں میں نے امام فضیل بن عیاض سے سنا کہ جب ان سے اصحاب الحدیث ملے تو انہوں (فضیل بن عیاض) نے ان سے کہا : تم کو کیا ہوا ہے کہ اگر میں جانتا وہ چیز جو تمہارے لیے بہتر ہے میں تم کو نہ بتاتا اور اگر میں یہ بات جانتا کہ وہ میرے لیے بہتر ہے تب بھی نہ بتاتا لیکن میں تم کو بتا چکا ہوں اور مجھے اس بات سے کوئی چیز محبوب نہیں کہ نہ میں تم (اصحاب الحدیث ) کو دیکھتا اور نہ ہی تم (اصحاب الحدیث) مجھے دیکھتے ۔

[تاریخ دمشق ابن عساکر 430/48 وسندہ صحیح]

 

■امام شعبہ کی نظر میں اصحاب الحدیث کی اوقات:

 

امام خطیب بغدادی اپنی سند سے روایت لاتے ہیں :

أنا أبو الحسين محمد بن الحسين بن الفضل القطان، أنا دعلج بن أحمد، أنا أحمد بن علي الأبار، نا أبو الأزهر الخراساني، نا زيد بن الحباب، عن أبي خالد الأحمر، قال: قال شعبة لأصحاب الحديث: «قوموا عني، مجالسة اليهود والنصارى أحب إلي من مجالستكم، إنكم لتصدون عن ذكر الله وعن الصلاة»

▪︎امام شعبہ نے اصحاب الحدیث سے کہا یہاں سے دفع ہو جاو یہود اورنصاری کے ساتھ بیٹھنا تمہارے ساتھ بیٹھنے سے مجھے زیادہ محبوب ہے۔ تم لوگ اللہ کے ذکر اورنماز تک میں رکاوٹ بنتے ہو۔

[الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع برقم: 406 وسندہ صحیح]

 

■امام مسعر بن کدام کی نظر میں:

امام ابن عبدالبر بیان کرتے ہیں اپنی سند صحیح سے :

 

حدثنا خلف بن القاسم، نا الحسن بن رشيق، نا علي بن سعيد، نا محمد بن خلاد الباهلي، نا سفيان بن عيينة، قال: سمعت مسعرا، يقول: «من أبغضني جعله الله محدثا، ووددت أن هذا العلم كان حمل قوارير حملته على رأسي فوقع فتكسر فاسترحت من طلابه»

 

■امام سفیان بن عیینہ فرماتے ہیں :امام مسعر دانت پستے اور کہتے خدایا ! جو میرا دشمن ہے اسکو محدث بنا دے !کاش یہ علم (حدیث) شیشے میں بند ہوتا اور شیشہ میرے سر پر لدا ہوتا ، پھر لڑھک کر چور چور ہو جاتا !اورمیں طلبان حدیث (اصحاب الحدیث) سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کر لیتا !

[جامع بيان العلم وفضله برقم: 1965 وسندہ صحیح]

 

■امام اعمش کی نظر میں اصحاب الحدیث کی اوقات

 

امام خطیب بغدادی اپنی سند سےروایت بیان کرتے ہیں :

أخبرنا محمد بن أحمد بن رزق، أخبرنا عثمان بن أحمد الدقاق، حدثنا عبد الملك بن محمد، قال: حدثني أبو بشر بن سليط، قال: سمعت عبد الله بن داود، يقول: سمعت الأعمش، يقول:: «لو خلا هذا الباب لأصحاب الحديث لسرقوا حديده»قال الشيخ أبو بكر: كان الأعمش سيء الخلق، جافي الطبع، بخيلا بالحديث،

▪︎امام اعمش کہتے ہیں اگر دروازہ اصحاب الحدیث کیلئے کھلا رکھا جائے (یعنی بغیر نگرانی کے)تووہ اس کے کڑیاں بھی چراکر لے جائیں گے۔

[شرف أصحاب الحديث ص ۱۳۱]

 

اس روایت کے سارے رجال ثقہ صدوق ہیں سوائے ابو بشر بن سلیط کے لیکن اس روایت کو تقویت ایک اور صحیح الاسناد روایت دیتی ہے

 

جیسا کہ امام خطیب امام سعيد بن أوس بن ثابت أبو زيد کے ترجمہ میں روایت لاتے ہیں :

▪︎أخبرني أحمد بن محمد الوزان، قال: حدثني جدي، قال: حدثنا محمد بن يحيى النديم، قال: حدثنا أبو ذكوان، يعني: القاسم بن إسماعيل التوجي، قال: سرق أصحاب الحديث نعل أبي زيد فكان إذا جاء أصحاب الشعر والعربية والأخبار رمى بثيابه ولم يتفقدها، وإذا جاء أصحاب الحديث جمعها كلها وجعلها بين يديه

▪︎امام ابو زکوان کہتے ہیں :اصحاب الحدیث نے ابوزید کا جوتاچرالیا اس(واقعہ) کے بعد جب شعراء وغیرہ،لغت کے ماہرین ،اخباری(مورخین) وغیرہ آتے توان (محدثین) کے کپڑے ادھر ادھر بکھرے رہتے اوراس کی جانب دھیان نہ دیتے(محدثین) لیکن جب انکے پاس اصحاب الحدیث آتے تو(محدثین) اپنے تمام کپڑے اپنے آگے رکھ لیتے

[تاریخ بغداد وسند صحیح ، برقم:109/10]

 

امام ابو نعیم نے اپنی تصنیف حلیہ الاولیا میں باسند صحیح مختلف اسناد سے نقل کیا ہے

▪︎حدثنا أبو حامد بن جبلة، ثنا محمد بن إسحاق، أنبأنا عبد الله بن هانئ، نا سعيد بن يحيى أبو سفيان الحذاء قال: أخذ الأعمش ناحية هذا السواد، فأتاه قوم منهم، فسألوه أن يحدثهم فأبى، فقال بعض جلسائه: يا أبا محمد، لو حدثت هؤلاء المساكين؟ فقال الأعمش: «من يعلق الدر على الخنازير؟»

▪︎امام سعید بن یحییٰ کہتے ہیں امام اعمش اپنی بستی کے کنارے رہا کرتے تھے ۔ بستی کے کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حدیث بیان کرنے کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے انکار کر دیا ۔ مجلس میں موجود ایک شخص نے کہا : ”ابو محمد! ان یے چاروں کو حدیث سنا دیتے ۔ تو امام اعمش نے فرمایا ”خنزیر کے گلے میں موتیوں کا ہار کون ڈالتا ہے

 

اور آگے امام ابو نعیم بیان کرتے ہیں :

حدثنا محمد بن علي، ثنا عبد الله بن محمد البغوي، ثنا أبو سعيد الأشج، ثنا حميد بن عبد الرحمن قال:سمعت الأعمش يقول: «انظروا أن لا، تنثروا هذه الدنانير على الكباش» – يعني الحديث – وقال حميد: وسمعت أبي يقول: سمعت الأعمش يقول: «لا تنثروا اللؤلؤ تحت أظلاف الخنازير»

▪︎امام حمید بن عبد الرحمن فرماتے ہیں :امام اعمش فرماتے کہ : ان دیناروں یعنی احادیث کو چو پائیوں پر نچھاور نہ کرنا اور حضرت حمید بن عبدالرحمن یہ بھی فرماتے تھےے کہ امام اعمش فرماتے :ان موتیوں کو خنزیروں کے پاوں تلے نہ بچھانا (یعنی نا اہل لوگوں کو حدیث بیان نہ کرنا جو انکی معرفت سے نابلد ہوں )

[حلية الأولياء وطبقات الأصفياء جلد 5، ص 52وسندہ صحیح]

 

امام اعمش کہتے کہ میرے پاس کتے ہوتے تو وہ میں اصحاب الحدیث پر چھوڑ دیتا

[شرف اصحاب الحدیث وسندہ صحیح]

 

نیز یہ بھی فرماتے:اصحاب الحدیث دنیا کی سب سے فتنے باز قوم ہے

[شرف اصحاب الحدیث وسندہ صحیح]

 

امام مغیرہ ضبی کے نزدیک انکی اوقات:

 

امام یحیی بن معین بروایت امام ابن عیاش سے امام مغیرہ ضبی سے روایت کرتے ہیں

سَمِعت يحيى يَقُول حَدثنَا أَبُو بكر بن عَيَّاش قَالَ سَمِعت مُغيرَة يَقُول وَالله لأَنا مِنْكُم أخوف مني من الْفُسَّاق أَصْحَاب الحَدِيث

▪︎امام مغیرہ الضبی فرماتے تھے :اللہ کی قسم میں تم میں سے زیادہ ڈرتاہوں ان اصحاب الحدیث سے کہ جن میں فسق ہے

[التاریخ ابن معین برقم: 3064]

 

امام ابن عبدالبر ایک باب قائم کرتے ہیں :

باب ذكر من ذم الإكثار من الحديث دون التفهم له والتفقه فيه

 

کہ باب: جس میں بغیر تفقہ و سمجھ بوجھ کے کثرت حدیث (بیان کرنے ) کی مذمت

 

 

 

پھر امام ابن عبدالبر امام ابن شبرمہ کا ایک قو ل نقل کرتے ہیں :

 

خالد بن عبد الله يقول سمعت ابن شبرمة يقول: «أقلل الرواية تفقه»

▪︎امام خالد بن عبداللہ کہتے ہیں میں نے امام ابن شبرمہ کو کہتے سنا : روایت حدیث میں کمی کروگے تو تفقہ حاصل ہوگا

 

حماد بن زيد، قال: قال لي سفيان، «يا أبا إسماعيل، لو كان هذا الحديث خيرا لنقص كما ينقص الخير»

▪︎امام سفیان بن عیینہ کہتے ہیں :حدیث (کثرت سے روایت ) کرنے میں بھلائی ہوتی تو اتنی بہت نہ ہو جاتی کیونکہ بھلائی کم ہی ہوا کرتی ہے

 

 

ان اقوال کو نقل کرنے کے بعد امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں :

قال أبو عمر: «أما طلب الحديث على ما يطلبه كثير من أهل عصرنا اليوم دون تفقه فيه ولا تدبر لمعانيه فمكروه عند جماعة أهل العلم»

▪︎ابن عبدالبر فرماتے ہیں : ہمارے زمانے میں اکثر لوگ علم حدث حاصل تو کرتے ہیں مگر تفقہ و تدبر سے کام نہیں رکھتےاور یہ علماء کے نزدیک مکروہ و مذموم فعل ہے

 

امام یحییٰ بن سعید القطان سے امام شعبہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں :

يحيى بن سعيد القطان قال: سمعت شعبة يقول: «إن هذا الحديث يصدكم عن ذكر الله وعن الصلاة فهل أنتم منتهون

▪︎امام یحییٰ بن سعید القطان امام شعبہ کا یہ قول بیان کرتے تھے :یہ (کثرت)حدیث تمہیں ذکر الہیٰ اور نماز سے باز رکھتی ہے ۔ کیا تم اس سے باز نہیں آو گے ؟ یہ سن کر بعض اہل علم نے کہا : اگر حدیث نہ ہوتی تو کیا شعبہ ہوتے ؟

 

 

اسکو نقل کرنے کے بعد امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں :

قال أبو عمر: إنما عابوا الإكثار خوفا من أن يرتفع التدبر والتفهم، ألا ترى ما حكاه

▪︎امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں : کثرت حدیث کی علماء نے اسی خیال سے مذمت کی ہے کہ آدمی غور فکر فہم و تدبر سے ہٹ کر بس روایت کرنے کے فعل میں ہی نہ مشغول ہو جائے

 

 

ان اقوالات کو نقل کرنے کے بعد امام ابن عبدالبر اس چیز کو بیان کرتے ہیں کہ حدیث کو یاد کر لینا ہی فقط اتنی بڑی خیر نہیں بلکہ اس حدیث کو یاد رکھنے کے ساتھ اس پر غور فکر بھی کیا جائے کہ اس ایک ہی روایت سے کتنے مسائل کا استنباد ہو سکتا ہے

 

اسکو ثابت کرتے ہوئے امام ابن عبدالبر پھر امام ابی یوسف اور امام ابو حنیفہ کو بطور دلیل پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

 

بشر بن الوليد، عن أبي يوسف قال: سألني الأعمش عن مسألة، وأنا وهو لا غير، فأجبته، فقال لي: من أين قلت هذا يا يعقوب؟ فقلت: بالحديث الذي حدثتني أنت، ثم حدثته، فقال لي: «يا يعقوب إني لأحفظ هذا الحديث من قبل أن يجتمع أبواك ما عرفت تأويله إلا الآن» .

▪︎امام ابی یوسف فرماتے ہیں کہ امام الاعمش نے مجھ سے ایک مسلہ تنہائی میں پوچھا میں نے اسکا جواب دیا تو امام اعمش خوش ہو کر پوچھا کہ یہ کیسے جواب دیا ؟ میں نے کہا اس روایت سے جو آپ نے مجھے بیان کی تھی تو امام الاعمش فرماتے ہیں اے یعقوب!واللہ میں اس حدیث کو تب سے جانتا ہوں جب تمہارے والدین کی شادی بھی نہ ہوئی تھی لیکن اس حدیث کا معنی آج (تمہارے وسیلے) سے سمجھ آیا

[جامع بیان العلم برقم: 1970]

 

وروي نحو هذا أنه جرى بين الأعمش وأبي يوسف وأبي حنيفة فكان من قول الأعمش: «أنتم الأطباء ونحن الصيادلة» ،

▪︎پھر امام الاعمش امام ابو حنیفہ (جو کہ علم حدیث میں امام الاعمش کے تلامذہ میں سے تھے) کو فرمایا کرتے تھے

کہ بیشک آپ ابو حنیفہ طبیب ہیں اور ہم دواساز ہیں

[ایضا برقم: 1971]

 

اصل میں یہ جمہور فقھاء نے کیوں فقط حدیث دانی مذمت کی؟ کیونکہ اصحاب الحدیث کی اکثریت فقہ و تدبر سے یتیم تھی ۔ اور جو اصحاب الحدث فقہ کو قیاس کہہ کر رد کرتے

جیسا کہ امام احمد،ابن مھدی، حمیدی ،نعیم بن حماد جیسے لوگ تو یہ حدیث رسول سے اپنی مدح پر باطل قیاس خود کرکے اپنے اپکو خوش قسمت سمجھتے تھے کہ ہم حدیث و اسناد کو رٹ کر اور فقھاء کو صاح رائے کہہ کر بڑے ترم خاں بن گئے ہیں۔

جبکہ یہ موقف ان اصحاب الحدیث کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے صریح خلاف تھا۔

 

■》جیسا کہ فرمان ہے؛

میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی اس شخص کو تر و تازہ رکھے جو میری بات سنے اور اسے اچھی طرح سمجھے، پھر یاد کر کے دوسروں تک پہنچائے، بہت سے حاملین فقہ اپنے سے زیادہ فقیہ تک فقہ پہنچا دیتے ہیں

[ترمذی :2658]

 

اس حدیث کے بنیادی نکات یہ ہیں:

●》فرمان رسول ہے کہ جو میری حدیث کو یاد کرے اور اچھی طرح سمجھے۔

یعنی بغیر تدبر و فقاہت کے حدیث یاد کرنے کی نفی ہے۔

 

●》پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث کو آگے پہنچانے کی ڈیوٹی بھی اس بندے پر لگائی جو خود فقاہت و تدبر کی قدرت رکھتا ہو۔ جیسا کہ انکے فرمان کا اگلا حصہ ہے

 

●》 کیونکہ ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے فقیہ اپنے زیادہ بڑے فقیہ تک (میری حدیث) پہنچا دیتے ہیں

 

معلوم ہوا نبی اکرم نے حدیث سننے سنانے اور حفظ پر جو دعا فرمائی وہ فقط انکے لیے ہے جو فقہ و تدبر رکھتے ہوں۔

جنکو اصحاب الحدیث رائے وقیاس کہتے تھے۔

 

یہی وجہ ہے کہ جمہور ائمہ نے اتفاقیہ طور پر اصحاب الحدیث سے نفرت رکھی۔

 

اوپر بیان کردہ سب اقوال ان محدثین کے ہیں جو اہل فقہ تھے اور تدبر و رائے کو مطلق قیاس باطل کہہ کر رد نہیں کرتے تھے۔

 

اسد الطحاوی ✍