{ایک مسجد کا قرآن دوسری مسجد میں}

شہروں میں آج کل یہ مسئلہ کثرت سے پیش آرہا ہے کہ بعض اہم مساجد میں لوگ بڑی تعداد میں قرآن مجید اور اس کے پارے لا کر رکھتے ہیں جو ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں ،جبکہ دوسری مسجد میں بالخصوص گائوں،دیہات اور قصبات کی مساجد میں ان کی ضرورت ہوتی ہے ۔

دین کے مجموعی مزاج اور فقہی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان حالات میں ان مسجدوں سے دوسری ضرورت مند مسجدوں میں پاروں کی منتقلی میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں ہے:

ان وقف علی المسجد جاز ویقرأ فیہ ولا یکون محصُوراً علیٰ ھٰذا المسجد وبہ عرف حکم نقل کتب الأوقاف من محالھا للا نتفاع بھا۔(الدرالمختار:ج۳،ص۳۷۵)

اگر (مصحف) مسجد پر وقف کردے تو جائز ہے اور اس میں تلاوت کی جائے گی اور وہ اسی مسجد کے لئے مختص نہ ہوگا۔اس سے معلوم ہوگیا کہ وقف کی کتابیں انقتاع کے لئے اپنی جگہ سے منتقل بھی کی جاسکتی ہیں۔