ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

4 فروری2016 میرے ممدوح حضرت سید شمس الزماں نجمی المعروف علامہ غلام رسول سعیدی نور اللہ مرقدہ کا یوم وصال مبارک ہے

آپ بیک وقت ایک مفسر قرآن ، محدث عصر ، مجتھد ، فقیہ تھے

آپ نے قرآنِ پاک کی دو تفاسیر لکھیں (۱) تبیان القراٰن (۲)تبیان الفرقان

12 جلدوں پر مشتمل تبیان القراٰن میں امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ کی تفسیر کبیر ( عربی ) سے اکتساب فیض کیا گیا ہے جبکہ تبیان الفرقان جو کہ آپ نے اپنی زندگی کے آخری حصہ میں تحریر فرمائی اس تفسیر میں آپ نے امام ابو منصور ماتریدی کی تاویلات اہل السنہ و دیگر کئی حنفی مفسرین کی تفاسیر سے اکتساب کیا اور ساتھ ساتھ آزاد منش لکھاری جیسے سر سید احمد خان، غلام احمد پرویز ، اٰمین احسن اصلاحی ، سید ابو الاعلی مودودی ، جاوید احمد غامدی ، ڈاکٹر شکیل اوج نے جہاں جہاں امت کے جمہور سے اختلاف کیا وہاں علامہ صاحب نے ان کے موقفات کا علمی رد فرمایا ،تبیان الفرقان کے چند سپارے باقی تھے کہ آپ کی رحلت ہوگئی اور آپ کے وصال کے بعد آپ کے شاگرد ِ رشید مفتی اسماعیل نورانی تبیان الفرقان کے بقیہ سپاروں پر کام کر رہے ہیں

فن حدیث میں صحیحین یعنی ۱۶ جلدوں میں صحیح بخاری کی شرح نعمة البار ی اور صحیح مسلم کی شرح 7 جلدوں میں لکھی

امام نووی شافعی رحمہ اللہ کے بعد مسلم شریف کی ایسی شرح اُردو تو اُردو عربی زبان میں بھی اس کی نظیر نہیں ملتی ، شرح صحیح مسلم کا اسلوب اور طرز بیاں اپنے قاری کو تحقیق کے اُس سمندر میں غواصی کرواتا ہے کہ جس سے تشنگی علم قرار پاتی ہے

آپ کی فقہی کی بصیرت آپ کی شخصیت میں موجود مجتہدانہ صلاحیتوں سے آہنگ ہے آپ کی تحقیق فقہی انسائیکلو پیڈیا ہے

جسے پڑھ کر امام نووی ، علامہ ابن قدامہ رحمھما اللہ کے انداز تحقیق کی یاد تازہ ہوتی ہے

آپ بیشتر مقامات پر جب کسی معاملہ پر فقہی بحث کرتےہیں تو تمام آئمہ کے اقوال اُن کے دلائل کے ساتھ پیش کرتے ہیں پھر آخر میں احناف کے موقف کو پیش کرتے ہیں اور وجہ ترجیح بھی بیان کرتے ہیں کسی معاملہ میں اختلاف کرنا ہو تو بڑے سے بڑے فقیہ سے دلائل کی دنیا میں ادب کے ساتھ اختلاف کرتے ہیں جو کہ آپ کی مجتھدانہ صلاحیتوں کی غماز ہے

علامہ سعیدی نے اپنی اجتہادی بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے علوم اسلامیہ کے اہم ترین شعبوں یعنی تفسیر قرآن، علم حدیث اورعلمِ فقہ میں بیش قیمت خدمات انجام دیں ۔آپ نے شرعی مسائل کے حل کے لیے اجتہادات کیے۔آپ کے اجتہادی تفردات کی فہرست بہت طویل ہے ۔چنداجتہادات کے عنوانات حسب ذیل ہیں:

 

”روزے کی حالت میں انجکشن لگوانے کی تحقیق،چلتی ریل گاڑی اورہوائی جہاز میں نماز پڑھنے کے مسئلہ میں تحقیق ،قطبین میں نماز اور روزہ کے مسائل میں تحقیق،، شہید پر تحقیق،اعضا کی پیوند کاری پر تحقیق، عطیۂ خون اور انتقال خون پر تحقیق،جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر تحقیق ، پوسٹ مارٹم پر تحقیق ،ضبط تولید پر تحقیق، ٹیسٹ ٹیوب بےبی پر تحقیق ،بینک نوٹ پر تحقیق، بین الاقوامی کرنسی پر تحقیق، پرائز بانڈ پر تحقیق، سود پر تحقیق،پراویڈنٹ فنڈ پر زکوٰۃ کی تحقیق،انشورنس اور بیمہ پر تحقیق اورخواتین کی ملازمت پر تحقیق۔آپ نے عصری مسائل پر تحقیقی اجتہادات کرکے اہل علم کوتحقیق کی طرف مائل کیا اور تحقیق کی نئی نئی جہات متعارف کرائیں۔”

 

تحقیق کے معاملہ میں علامہ صاحب مکھی پر مکھی مارنے ( copy past) کے قائل نہیں ہیں ، کئی مقامات پر ایسا ہوتا ہے کہ جب آپ کسی کتاب کا حوالہ دیتے ہیں تو لکھتے ہیں کہ میں نے فلاں کتاب کو پڑھا ، اُس کتاب میں فلاں کتاب کے حوالے سے یہ بات لکھی ہوئی تھی جب میں نے اصل ماخذ کو کھنگالا تو یہ بات وہاں نہیں پائی .

 

عظیم عالم دین مفتی منیب الرحمن صاحب آپ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ علامہ صاحب کی تحقیق کا اندازobjective ہے ، subjective نہیں .

یعنی آپ تحقیق کرنے سے پہلے کوئی نتیجہ اپنے ذہن میں مُتعین نہیں کرتے بلکہ دلائل کی دنیا میں فرسِ تحقیق جس طرف لے جائے وہی نتیجہ مرتب فرماتے ہیں ، درحقیقت تحقیق اسی کا ہی نام ہے.

اس مزاج کی وجہ سے علامہ صاحب کو زندگی میں کئی پست ذہن لوگوں کی طرف سے تنقید کا سامنا بھی رہا مگر علامہ صاحب نے لوجہ اللہ وہی بیان کیا جو قرآن و سنت کی تحقیق سے اُن کے سامنے آیا اس معاملہ میں آپ اسلاف کی طرح نڈر و بے باک رہے

آپ نے کئی موضوعات پر قلم اُٹھایا اور اپنی زندگی میں چالیس ہزار سے زائد صفحات سپر دقرطاس کئے .

۴ فروری ۲۰۱۶ کو آپ نے ۷۹ سال کی عمر میں کراچی میں وصال فرمایا .

آپ کے وصال پر ہر مکتبہ فکر کے علم دوست لوگوں نے تعزیت پیش کی جو کہ آپ کی شخصیت کے مقبول عام ہونے کی نشانی ہے

اللہ رب العزت آپ کی مساعی دینیہ کو اپنی بارگاہ میں شرف قبول بخشے ، اور آپ کی خدمت قرآن و حدیث سے ہمیں اکتساب فیض کرنا نصیب فرمائے

ایک مرتبہ سورہ فاتحہ اور تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھ کر علامہ صاحب کو ایصال فرمائیں

 

تحریر .محمد حسن رضا خان

امام نوری مسجد امریکہ

4-February-2022