*فتاویٰ رضویہ کا اصلاحی پہلو: ایک مطالعہ*

==================

تبصرہ نگار✍️ وزیر احمد مصباحی [بانکا]

_________________

کہتے ہیں کہ علم و ادب اور فکر و فن کے دیپ کہیں بھی روشن ہو سکتے ہیں، اس پر کسی علاقہ یا مخصوص خطے کی حکمرانی نہیں اور نہ ہی کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ یہ چیزیں میری جاگیر ہیں۔ بلکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ کسی غریب نے اگر شعور و آگہی سے دامنِ دل کو بھرنے کا کام کیا ہے تو وہ زمانے بھر میں آفتابِ علم‌ و حکمت بن کر چمکا ہے اور اپنی دودھیا روشنی کی بدولت فکر و نظر سے عاری آبادی کو بھی منور کرنے کا کام بخوبی انجام دیا ہے۔

اب اس حقیقت کی روشنی میں اگر ہم خطۂ سیمانچل، بہار کا جائزہ لیتے ہیں تو رئیس القلم، علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کا یہ قول میزانِ عدل کی کسوٹی پر جامۂ صداقت سے خوب مزین نظر آتا ہے کہ:

“علم و فن کی پوٹلی اٹھانے والا جب بہار سے گزر رہا تھا تو اس کی ایک بڑی مقدار اور بھاری حصہ علاقۂ بائسی [پورنیہ] میں گرا چکا تھا”۔

میں سمجھتا ہوں کہ میری ہی طرح اور بھی دیگر افراد مذکورہ حقیقت پہ ایمان لانے میں جھجک محسوس نہیں کریں گے۔ خصوصاً اہل علم حضرات صوبۂ بہار[انڈیا] کے خطۂ سیمانچل کی علمی، فکری اور نظری ذرخیزی سے خوب واقف ہیں۔ اس دھرتی کے اہم سپوتوں میں ملا محب اللہ بہاری، علامہ ظفر الدین بہاری اور سید شہباز محمد بھاگلپوری وغیرہ کئی ایک عبقری شخصیات شمار میں آتے ہیں جن کی علمی، ادبی اور فکری و نظری خدمات کا ایک زمانہ معترف رہا ہے اور آج بھی آنے والی نسلیں اسلاف کی انہی روش پہ گامزن ہیں۔

اس وقت راقم الحروف کے مطالعاتی میز پر بنام “فتاویٰ رضویہ کا اصلاحی پہلو” ایک ایسی ہی کتاب موجود ہے جس کے توسط خطۂ سیمانچل سے تعلق رکھنے والے ہمارے دیرینہ خیر خواہ مفتی محمد مبشر رضا ازہر مصباحی [ صدر مفتی: نوری دار الافتا سنی جامع مسجد، کوٹر گیٹ و شیخ الحدیث و صدر شعبۂ افتا و تحقیق: جامعہ رضویہ کلیان تھانے مہاراشٹر، انڈیا] نے اسلاف کی علمی و ادبی میراث کو آگے بڑھا کر اپنی علم دوستی کی سنہری مثال قائم کی ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ نئے اور انوکھے موضوعات پہ خامہ فرسائی کرنے میں موصوف بڑی دلچسپی و انہماک کا مظاہرہ کرتے ہیں، خاموش طبیعت کے ہمراہ نام و نمود سے دور رہ کر فکر و نظر کے جدید در وا کرنا آپ کا محبوب مشغلہ ہے۔ حضرت موصوف سے میری شناسائی غالباً تین/ چار سالہ پرانی ہے، مگر روبرو ملاقات کا شرف امسال جنوری میں عرس عزیزی کے پر بہار موقع پر پہلی دفعہ میسر آیا، اسی لمحے سنجیدگی کے ساتھ علم و ہنر سے آشنائی کا جذبہ اور ان کے اندر مزید علمی فتوحات سر کرنے کے دھن و طمطراق کو دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ میں کہیں نہ کہیں اس قضیہ پر ” ذوقِ عمل ہو تو فرسودہ زنجیریں خود کٹ جاتی ہیں اور یقین کی ایڑیوں سے زم زم کا چشمہ ابل جاتا ہے” ایمان لے آیا ہوں۔ اللہ رب العزت نے آپ کو بڑی علمی و فکری صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ دل میں صلاح و فلاح کا جذبۂ جنوں خیز رکھتے ہیں، سیمیناروں کے لیے مقالے لکھنا، ہر ہفتہ اخبارات کے لیے فقہی صحافت اور امت مسلمہ کی دینی رہنمائی کے جذبے میں فتاویٰ لکھنا، نادر و نایاب موضوعات پر کتابیں ترتیب دینا، عوام و خواص کو علم کی نئی شاہراہ سے متعارف کروانا، شیخ الحدیث کی ذمہ داری کے ساتھ دارالافتا کا فریضہ انجام دینا اور مختلف رسائل و جرائد کی ادارت کی باگ ڈور سنبھال کر اہل علم سے مضامین و مقالات اصول کرنے کے ساتھ خود بھی ان رسائل کا خاطر خواہ پیٹ بھرنے میں دست تعاون دراز کرنا وغیرہ، آپ کے محبوب مشغلے ہیں کہ؀

 

خدا ترے جنوں کا سلسلہ دراز کرے

 

جی ہاں! امام احمد رضا قدس سرہٗ العزیز کی تیس ضخیم جلدوں پر مشتمل یہ مایہ ناز فتاویٰ ” فتاویٰ رضویہ شریف” محض سوال و جواب کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے اندر علم و ادب اور صالح فکر و نظر کی ایک وسیع ترین دنیا آباد کیے ہوا ہے۔ فقہ و فتاویٰ کی قالب میں ۱۴، ویں صدی کے اس یگانہ روزگار محقق نے اپنی خدا داد صلاحیت کی بدولت علم کے وہ دریا رواں کر دیے ہیں کہ یہاں علم و ادب کے متلاشیوں نے جیسی غوطہ زنی کی انھوں نے علمی صدف تک رسائی پانے میں ویسی ہی ظفریابی حاصل کی، قسمت کی تاراجی تو صرف ان کے حصے میں آئی جو ساحل سمندر پر موجوں کے سر پٹکھنے کا تماشہ دیکھنے کے ساتھ اپنے آپ کو فروغ رضویات کا تیس مار خان سمجھتے رہے۔

کہا جاتا ہے کہ امام احمد رضا قدس سرہٗ العزیز ۵۵/ سے زائد علوم و فنون میں ید طولی رکھتے تھے، بلکہ بہت سے فنون میں آپ کو موجد ہونے کا بھی درجہ حاصل ہے۔ فتاویٰ رضویہ شریف کے مطالعہ کے بعد واقعی اس پر یقین کرنا پڑتا ہے کہ آپ علم و فن کے ماہر اسکالر تھے، پوری زندگی علمی و فکری گتھیوں کو سلجھانے میں صرف کر دیں، عشق رسول کے وہ ایسے متوالے تھے کہ اہل زمانہ نے کھلی آنکھوں سے اس حقیقت کا مشاہدہ کیا، غیروں نے بھی اعتراف کیا اور اصلاح امت کا عظیم بیڑا اٹھائے بغیر کسی لڑکھڑاہٹ کے پوری زندگی چلتے رہے۔ مرتب موصوف لکھتے ہیں:

 

“فتاویٰ رضویہ شریف بلا شبہ چودہویں صدی ہجری کے یگانہ روزگار محقق و محدث، بے مثال مفسر، بے بدل مجتہد اور بے نظیر مفتی، امام اہل سنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان قادری بریلوی کی عظیم فقہی یادگار ہے جو فقہ و فتاویٰ کا مستند ذخیرہ، قدیم و جدید علوم و فنون کا بیش بہا خزانہ اور فقہ حنفی کے احکام و مسائل کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا ہے، فتاویٰ رضویہ اعلی حضرت کی رضوی تحقیقات کا دلکش مجموعہ ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ فتاویٰ رضویہ قدیم و جدید احکام و مسائل کا وہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے کہ جو جس قدر اس میں غواصی کر لے جائے وہ اتنا ہی علوم و فنون کے چنندہ سیپ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گا۔”[ص:۳۰]

 

آپ کو بتا دیں کہ زیر نظر کتاب “فتاویٰ رضویہ کا اصلاحی پہلو” اولاً کتابی شکل میں منظر عام پر لانے کی غرض سے نہیں لکھی گئی تھی، بلکہ مرتب موصوف نے امام احمد رضا قدس سرہٗ العزیز کے جشن صد سالہ کے موقع پر ۲۹، ۳۰ دسمبر ۲۰۱۸ء/ بروز سنیچر، اتوار اتردیناج پور بنگال میں بنام ” امام احمد رضا نیشنل سیمینار و کانفرنس” منعقدہ سیمینار کے لیے ” امام احمد رضا اور اصلاح معاشرہ” کے زیر عنوان ایک طویل مقالہ قلمبند کیا تھا جو بعد میں احباب کی مسلسل فرمائش اور افادۂ عام کے جذبے میں “فتاویٰ رضویہ کا اصلاحی پہلو” کے نام سے شائع کیا گیا۔

بلا شبہ؛ صاحب کتاب نے اپنی اس گراں قدر کوشش کی آڑ میں امت مسلمہ خصوصاً نوجوان نسل کو علمی و ادبی عظمت رفتہ کی بازیافت کا شعور اور ان کے دلوں کو اسلاف شناسی کے حوصلہ بخش نور سے منور کرنے کا کام کیا ہے۔ آج جب کہ دن بدن الم غلم لکھنے اور رضویات کے فروغ کا ڈھنڈورا پیٹ کر مفاد کی روٹی سینکنے والوں کی بھیڑ مسلسل بڑھتی چلی جا رہی ہے، آپ نے خاموشی کے ساتھ رضویات کے اہم گوشہ پر قلم اٹھا کر اہل علم و ادب سے اپنی رضا شناسی پہ محضرِ شہادت لکھوانے کا کام اس خوبصورتی سے کیا ہے کہ؀

 

زیب دیتا ہے انھیں جس قدر اچھا کہیے

 

فاضل بریلوی قدس سرہٗ العزیز کے اس عظیم فقہی انسائیکلوپیڈیا سے آپ نے بضاعت علمی و دقت نظری کی جلو میں انہی ۹۲/ مسائل کا ذکر کیا ہے جو سماج و معاشرے کی صلاح و فلاح کی رو سے آپ کے نزدیک بہت اہم ہیں۔ یہ تو بالکل ہی نا قابل انکار حقیقت ہے کہ فتاوی رضویہ اصلاحِ امت کے جذبے ہی میں وجود پذیر ہوا ہے، مگر یہاں مرتب موصوف نے مسائل کے انتخاب میں روز مرہ کے حالات و معمولات کی بھرپور رعایت کی ہے، یعنی جن مسائل سے عوام و خواص کا بہت زیادہ سابقہ ہوتا ہے اور لوگ اٹھتے بیٹھتے ان سے دو چار ہوتے رہتے ہیں، وہی مسائل شامل اشاعت ہوئے ہیں۔ پھر مرتب نے خوفِ ضخامت اور سہل پسند قارئین کی نرم گرم طبیعت کے پیش نظر محض ۹۲/ مسائل کو ہی موضوع سخن بنایا ہے۔ کتاب کی اہمیت اس جہت سے مزید بڑھ جاتی ہے کہ ہر مسئلے کی ابتدا میں بطور تفہیم مرتب نے بڑی جامع گفتگو کی ہے۔ آیات کریمہ، احادیث نبویہ ﷺ اور آثارِ سلف وخلف کی روشنی میں بات رکھنے کا ہنر بہت عمدہ ہے۔ البتہ کہیں کہیں زیر بحث مسئلہ کے استدلال میں پیش کردہ حدیث کا حوالہ موجود نہیں ہے، صرف عربی عبارت یا اردو ترجمہ پر ہی اکتفا کر لیا گیا ہے۔ یقیناً اس امر کی کمی ایک طرح سے اہل علم و ادب کے درون خلش پیدا کرتی ہے،کسی حد تک تشنگی کا احساس باقی رہ جاتا ہے اور کتاب میں موجود محققانہ اسلوب کا رنگ مدھم سا ہو جاتا ہے۔ یہ چونکہ تفہیم کے طور پر ہر مسئلے کی ابتدا میں مرتب کی طرف سے ایک مختصر گفتگو شامل ہے۔ لہذا اس میں جو سادگی، برجستگی، بے تکلفی اور پرکاری ہے وہ اپنے اندر ایک الگ ہی کشش رکھتی ہے۔ بطور مثال یہ اقتباس دیکھیں:

“نیک بیوی انسان کی بہت بڑی سعادت مندی اور دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی کا سبب ہے، اسی لیے شادی کو عام زبان میں “شادی خانہ آبادی” کہا جاتا ہے مگر یہ ساری برکتیں اسلامی اصولوں کے مطابق شادی کرنے پر مبنی ہیں، اسلامی اصولوں کی پاسداری کے بغیر ہرگز شادی خانہ آبادی نہیں ہو سکتی، شادی بیاہ میں اسلامی ہدایات پر عمل نہ کرنا “شادی” خانہ بربادی کا پیش خیمہ ہے، آج ہمارے سماج میں میاں بیوی کے ما بین جو خانہ جنگی، ساس بہو اور باپ بیٹے میں ناچاقیاں اور ناخوشگوار حالات ہیں یہ سب ہماری کوتاہیوں اور اسلامی اصول و آداب سے پہلو تہی کا ہی نتیجہ ہے۔” [ص:۴۸]

 

زیر نظر مجموعہ میں کئی ایک ایسے مسائل بھی ہیں جو واقعی چونکانے والے ہیں، یعنی ہم دن رات وہ کام کرتے رہتے ہیں جن کا حکم شرعی ہمیں معلوم ہی نہیں۔ شادی بیاہ اور جلسہ و جلوس وغیرہ میں نابالغ بچوں سے پانی منگوا کر پینے کا چلن بالکل عام ہے، اسے کوئی برا بھی نہیں جانتا اور دیکھنے میں بھی آتا ہے کہ یہ کام زیادہ تر چھوٹے بچے ہی انجام دیتے ہیں۔ اس ضمن میں ص: ۱۲۸، ۱۲۹/ پر فتاویٰ رضویہ سے ناجائز ہونے کا فتویٰ نقل کیا گیا ہے، ساتھ ہی یہاں فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز کی یہ تنبیہ بھی مذکور ہے کہ:

یہاں سے استاد سبق لیں معلموں کی عادت ہے کہ بچے جو ان کے پاس پڑھنے یا کام سیکھنے آتے ہیں ان سے خدمت لیتے ہیں یہ بات باپ دادا یا وصی کی اجازت سے جائز ہے جہاں تک معروف ہے اور اس سے بچے کے ضرر کا اندیشہ نہیں مگر نہ ان سے پانی بھروا کر استعمال کر سکتے ہیں نہ ان کا بھرا ہوا پانی لے سکتے ہیں۔”[ فتاویٰ رضویہ مترجم،ج:۲،ص: ۵۲۷]

جگہ جگہ ایسے مسائل بیان کیے گئے ہیں کہ ان سے بڑے مفید اور مؤثر نتائج و اسباق اخذ کیے جا سکتے ہیں، بس شرط یہ ہے کہ قاری سنجیدگی و متانت سے اپنا رشتہ مضبوط رکھے۔ کھانا کھانے کے آداب میں فاضل بریلوی کا یہ فتویٰ شامل اشاعت ہے کہ ” کھانے میں کبھی عیب نہیں نکالنا چاہیے” بلکہ کوئی ایسی بات بھی نہیں کرنی چاہیے جو میزبان کو ناگوار گزرے اور انھیں خجالت کا سامنا کرنا پڑے ۔ یعنی مذہب اسلام ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی احتیاط برتنے کا حکم صادر کرتا ہے کہ کہیں ہماری ہلکی سی کوتاہی بھی کسی کے دل دکھانے کا سبب نہ بن جائے۔ بھلا بتائیں! کہ اب مذہب اسلام ہمیں دن دہاڑے حق تلفی کرنے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟ واقعی یہ مقام غور و فکر ہے کہ آج امت مسلمہ ایک دوسرے کی دلآزاری میں ایسے مشغول رہتی ہے جسے دیکھ کر یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ ایک دوسرے کی چغلی کرنا ان کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔

کتاب پڑھتے ہوئے مرتب کی یہ عادت مجھے بڑی اچھی لگی کہ انھوں نے والدین پر مرتب ہونے والے حقوقِ اولاد کو بھی بالتفصیل نقل فرمایا ہے۔کیوں کہ آج کل ہمارے معاشرے میں حقوقِ والدین پر بڑی بڑی باتیں کی جاتی ہیں، جلسہ و جلوس میں تقریریں ہوتی ہیں اور تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی اس پہ خوب خوب روشنیاں ڈالی جاتی ہیں، مگر حقوقِ اولاد پر بحث و مباحثہ ابھی تک شاذ و نادر کے بھول بھلیوں میں گم ہیں، جس کی وجہ سے والدین اپنے جگر پاروں کی درست تعلیم و تربیت نہیں کر پاتے اور وہ نامعلوم طور پہ گنہ گار بنتے رہتے ہیں۔ ص: ۸۰ تا ۸۸/ فتاویٰ رضویہ سے سادہ اور عام فہم زبان میں وہ ۸۰/ حقوق نقل میں لائے گیے ہیں جن سے گارجین کو واقف ہونا نہایت ہی ضروری ہے۔ معاشرے میں یہ روش کتنی عام ہے کہ جب بچہ روتا ہے تو والدین اسے خاموش کرانے کے لیے جھٹ سے اس کی محبوب اور دلچسپ چیزیں دینے کا وعدہ کر لیتے ہیں، مگر کچھ ہی لمحے، گھنٹے اور ایام گزرنے کے بعد وہ سرے سے ہی بھول جاتے ہیں۔ امام احمد رضا قدس سرہٗ العزیز اس بارے میں لکھتے ہیں کہ:

“بہلانے کے لیے جھوٹا وعدہ نہ کرے بلکہ بچے سے بھی وہی وعدہ جائز ہے جس کو پورا کرنے کا قصد رکھتا ہو”۔

 

اسی طرح ص: ۹۶، ۹۷ پہ حدیث شریف” من تشبہ بقوم فھو منھم” کے تحت التزامی و لزومی قسموں کی بہترین توضیح پیش کی گئی ہے اور پھر لگے ہاتھوں قارئین کی سیرابی کے لیے” تشبہ بالغیر” کی پچیس صورتیں بھی نقل کر دی گئیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ علم دوست، خصوصاً مبلغین حضرات کو یہ گلدستہ ضرور مطالعہ کرنا چاہیے تا کہ وہ سماج و معاشرے میں اصلاح کا کام بحسن و خوبی انجام دے سکیں۔ آج امت مسلمہ کی پسماندگی و تباہی کے پیچھے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے درمیان اچھے و سلجھے ہوئے مبلغین نہیں ہیں اور اگر چند ہیں بھی تو وہ تبلیغی اسرار و رموز سے ناواقف اور علم و عمل سے کوسوں دور ہیں۔ شاید یہی وہ قوی سبب ہے جس نے مرتب موصوف کو اپنا مقالہ مزید اضافے کے ساتھ کتابی شکل میں منصہ شہود پر لانے کے لیے مجبور کیا۔ ہاں! اب یہ قارئین کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہاں سے روشنی حاصل کرکے سماج میں پھیلی تاریکیاں دور کرنے میں سعی پیہم کا دلکش منظر پیش کریں تا کہ ایک خوشگوار معاشرہ تشکیل پا سکے اور اسلام و سنیت کی بہاریں ہماری قسمت بن سکیں۔ کتاب کی تزئین میں بھی موصوف کامیاب ہیں کہ انھوں نے یہاں درون و بیرون میں ایسے لطیف سامان یکجا کر دئیے ہیں جو ذوق سلیم سے مناسبت رکھتے ہیں۔ فہرست کتاب کے بعد کئی ایسے اہم نام شامل ہیں جن سے نوازشات، حروفِ محبت اور تقریظ وغیرہ عناوین کے تحت اظہار خیال کا کام لیا گیا ہے۔ کتاب کے آخری حصے میں مرتب موصوف کی قلمی مصروفیات و مشغولیات کی بھی ایک جامع جھلک پیش کی گئی ہے تا کہ قارئین کے لیے صاحب کتاب سے عدم شناسی کی شکایت کا کوئی موقع باقی نہ رہے۔ اہل شوق اگر چاہیں تو اس علمی گلدستہ کو المجمع الاسلامی مبارک پور، خواجہ بک ڈپو دہلی اور عزیزی لائیبریری چنتا ہاٹ پورنیہ بہار، انڈیا سے حاصل کر سکتے ہیں۔

_________________________

wazirmisbahi87@gmail.com