أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَـكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الۡاُنۡثٰى ۞

ترجمہ:

کیا تمہارے لیے بیٹے ہیں اور اللہ کے لیے بیٹیاں ہیں

بت پرستوں کی ظالمانہ تقسیم

النجم : ٢٢۔ ٢١ میں فرمایا : کیا تمہارے لیے بیٹے ہیں اور اللہ کے لیے بیٹیاں ہیں۔ پھر تو یہ بڑی ظالمانہ تقسیم ہے۔

اللہ تعالیٰ نے لات، العزیٰ اور منات کا ذکر کیا اور فرمایا : یہ وہ چیزیں ہیں جن کو تم نے دیکھ لیا ہے اور پہچان لیا ہے، تم ان کو اللہ سبحانہٗ کا شریک کہتے ہو، حالانکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلالت کے متعلق سن لیا اور جان لیا ہے کہ فرشتے اس قدر بلند مخلوق ہونے کے باوجود سدرہ تک آ کر رک جاتے ہیں اور اس سے آگے ان کی رسائی نہیں ہے، پھر گویا کہ فرشتوں نے یہ کہا کہ بیشک کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے مماثل یا اسکے قریب نہیں ہے، لیکن ہم نے ان چیزوں کو فرشتوں کی صورت پر بنایا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، اس لیے ہم نے ان کے بت عورتوں کی صورت پر بنائے ہیں اور عورتوں کے ناموں کی طرح ان کے نام رکھے ہیں یعنی لات، منات اور عزیٰ تب اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے اللہ سبحانہٗ کے لیے بیٹیاں قرار دی ہیں، حالانکہ تم خود بھی جانتے ہو کہ بیٹیاں ناقص ہوتی ہیں اور بیٹے کامل ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کامل عظمت والا ہے تو تم نے اس کی طرف ناقص کو کیسے منسوب کیا ہے اور تم انتہائی حقیر اور ذلیل ہو کیونکہ تم پتھروں اور درختوں کی پرستش کرتے ہو جو کہ بجائے خود حقیر اور ذلیل ہیں، اس کے باوجود تم نے اپنے لیے بیٹے مانے، پس انتہائی کامل کی طرف ناقص کو منسوب کرنا اور انتہائی ناقص کی طرف کامل کو منسوب کرنا کتنا بڑا ظلم ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 21