أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ لِلۡاِنۡسَانِ مَا تَمَنّٰى ۞

ترجمہ:

کیا انسان کے لیے وہ کچھ ہوتا ہے جس کو وہ تمنا کرتا ہے ؟

کفار کی تمنائوں کا پورا نہ ہونا اور دنیا اور آخرت میں ان کا خائب و خاسر ہونا

النجم : ٢٤ میں فرمایا : کیا انسان کے لیے وہ سب کچھ ہوتا ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے۔

مشرکین یہ تمنا رکھتے تھے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو، آخرت میں ان کی شفاعت کی جائے اور دنیا میں وہ تمنا کرتے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مصائب اور آفات نازل ہوں اور دین اسلام مٹ جائے لیکن ان کی یہ تمنا پوری نہیں ہوئی، اسلام کا بول بالا ہو اور ان کا منہ کالا ہوا۔

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 24