أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ لَيُسَمُّوۡنَ الۡمَلٰٓئِكَةَ تَسۡمِيَةَ الۡاُنۡثٰى ۞

ترجمہ:

بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کے نام عورتوں کے نام سے رکھتے ہیں

فرشتوں اور بتوں کے مؤنث ہونے پر دلائل

النجم : ٢٧ میں فرمایا : بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھتے ہیں۔

اس سے مراد وہ کفار ہیں جو کہتے تھے کہ فرشتے اور لات، عزیٰ اور منات اللہ کی بیٹیاں ہیں، ان کا یہ اعتقاد تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور وہ مؤنث ہیں، حالانکہ ان کو اس کا کوئی علم نہیں ہے، کیونکہ وہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت موجود نہ تھے اور نہ ان کو کسی رسول نے یہ بتایا کہ فرشتے مؤنث ہیں اور نہ انہوں نے کسی آسمانی کتاب میں یہ پڑھا ہے کہ فرشتے مؤنث ہیں تو پھر علم کا وہ کون سا ذریعہ ہے جس سے ان کو یہ معلوم ہوا کہ فرشتے مؤنث ہیں اور اللہ سبحانہٗ کی بیٹیاں ہیں ؟ اور رہے لات، منات اور عزیٰ تو لات، منات پتھر سے بنائیہوئی دیوی کسی عورت کی مورت اور مجسمہ ہے اور عزیٰ ببول کا درخت ہے اور پتھرکا مجسمہ یا درخت مرد یا عورت نہیں ہوتے، مؤنث وہ ہوتی ہے جس کے مقابلہ میں نر جاندار ہو۔

اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ کفار آخرت پر ایمان نہیں لاتے، خالان کہ اگر ان کا اللہ اور آخرت پر ایمان نہ ہوتا تو وہ یہ کیوں کہتے کہ بت آخرت میں ہماری شفاعت کریں گے اور ہمیں اللہ کے قریب کردیں گے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ کہتے تھے کہ اگر بالفرض قیامت آئی اور حشر برپا ہوا تو یہ بت ہماری شفاعت کردیں گے، اس کی دلیل یہ آیت ہے :

وَلَئِنْ اَذَقْنٰـہُ رَحْمَۃً مِّنَّا مِنْم بَعْدِ ضَرَّآئَ مَسَّتْہُ لَیَقُوْلَنَّ ہٰذَا لِیْلا وَمَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآئِمَۃًلا وَّلَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰی رَبِّیْٓ اِنَّ لِیْ عِنْدَہٗ لَلْحُسْنٰی ج (حم السجدہ : ٥٠ )

اور اگر ہم اس کو مصیبت پہنچنے کے بعد راحت کا ذائقہ چکھائیں تو وہ ضرور کہے گا کہ اس رحمت کا میں مستحق تھا، اور میرے گمان میں قیامت قائم نہیں ہوگی اور اگر میں بالفرض اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا تب بھی اس کے پاس میرے لیے انعام اور اکرام ہوگا۔

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 27