أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكَ مَبۡلَـغُهُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ‌ ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ ۙ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِمَنِ اهۡتَدٰى ۞

ترجمہ:

یہی ان کے علم کی انتہاء ہے، بیشک آپ کا رب اس کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور اس کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہے

النجم : ٣٠ میں فرمایا : یہی ان کے علم کی انتہاء ہے، بیشک آپ کا رب اس کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور اس کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہے۔

کفار کی بدعقیدگی کو ان کو مبلغ علم قرار دینے کی توجیہ

یہ آیت نضر بن حارث کے متعلق نازل ہوئی ہے اور ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ ان کا مبلغ علم اسی دنیا کے متعلق ہے، یہ لوگ صرف دنیاوی چیزوں کی طرف دیکھتے ہیں اور دین کے احکام سے یکسر غافل ہیں، ان کا مقصد حیات صرف اپنی پسندیدہ چیزوں کو کھانے پینے اور نفسانی خواہشات پوری کرنے سے متعلق ہے، خواہ یہ مقاصد جائز طریقے سے پورے ہوں یا ناجائز طریقے سے اور وہ یہ نہیں سوچتے کہ اگر زندگی صرف یہی کچھ ہو تو پھر ان میں اور جانوروں میں کیا فرق ہے ؟ ان کی عقلوں کی پستی اور ان کے علم کی انتہاء یہ ہے کہ انہوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی ہے اور ایک قول یہ ہے کہ ان کافر شتوں کو اور بتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہنا یہ ان کے علم کی انتہاء ہے، اسی کو ان کے علم کے انتہاء طنزاً فرمایا ہے اور درحقیقت یہ ان کا جہل مرکب ہے، یعنی ایسا ادراک جو جازم ہے اور کسی طریقہ سے زائل نہیں ہوتا اور واقع کے مطابق نہیں ہے، جہل مرکب کی دوسری تعریف یہ ہے :

ہر آنکس کہ نداند وبداند کے بداند درجہل مرکب ابد الاباد بماند

” ہر وہ شخص وہ کسی چیز کو جانتا نہ ہو اور سمجھتا یہ ہو کہ وہ اس کو جانتا ہے وہ ہمیشہ جہل مرکب میں گرفتار رہتا ہے “ کیونکہ اس کی دو جہالتیں ہیں، ایک تو وہ اس چیز سے جاہل ہے، دوسرے اپنی جہالت سے جاہل ہے۔

مشرکین اس چیز سے جاہل تھے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد کا ہونا محال ہے اور اپنی اس جہالت سے بھی جاہل تھے اور کہتے تھے کہ فرشتے اور لات اور منات اللہ کی بیٹیاں ہیں اور اپنی جہالت میں اس قدر غالی اور راسخ تھے کہ اس کے خلاف کوئی دلیل سننے کے لیے تیار نہ تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے اس جہل کو جو علم فرمایا ہے وہ طنزاً فرمایا ہے یا اس اعتبار سے کہ ان کا علم یہ کچھ ہے جو حقیقت میں جہل مرکب ہے۔

اور یہ جو فرمایا ہے کہ اللہ اس کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا، اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اس کو اس کی گمراہی پر جمے رہنے اور ڈٹے رہنے کی سزا دے گا، نیز فرمایا : اور اس کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہے، اس کا معنی ہے : وہ اس کو ہدایت بر قرار رہنے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے کی جزا دے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 30