أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلِلّٰهِ الۡاٰخِرَةُ وَالۡاُوۡلٰى۞

ترجمہ:

پس اللہ کی آخرت اور دنیا کا مالک ہے

النجم : ٢٥ میں فرمایا : پس اللہ ہی دنیا اور آخرت کا مالک ہے۔

یعنی کفار اپنی خواہش سے اپنا معبود منتخب کرتے ہیں اور دنیا اور آخرت میں اپنی بڑائی چاہتے ہیں لیکن دنیا اور آخرت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے وہ دنیا میں ان کو ناکام اور نامراد کرتا ہے اور آخرت میں انکو عذاب دے کر رسوا کرے گا، اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کی توحید کی تبلیغ کی اور اسلام کی اشاعت کی تو مشرکین نے آپ کے مشن میں روڑے اٹکائے اور آپ کو دھمکیاں دیں اور کہا کہ اگر آخرت برپا ہوئی تو اس میں بھی ہم ہی سرخرو ہوں گے، پس اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی اور فرمایا : دنیا اور آخرت کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے وہ آپ کو دنیا اور آخرت میں کامیاب اور سرفراز کرے گا اور مشرکین کو دنیا اور آخرت میں خائب و خاسر کرے گا۔

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 25