أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَمۡ مِّنۡ مَّلَكٍ فِى السَّمٰوٰتِ لَا تُغۡنِىۡ شَفَاعَتُهُمۡ شَيۡـئًــا اِلَّا مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ يَّاۡذَنَ اللّٰهُ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَرۡضٰى‏ ۞

ترجمہ:

اور آسمانوں میں کتنے فرشتے ایسے ہیں جن کی شفاعت کسی کو بالکل فائدہ نہیں پہنچا سکتی سو اس صورت کے کہ اللہ جس کے لیے چاہے (شفاعت کی) اجازت دے اور اس ( کی شفاعت) سے راضی ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ایسے ہیں جن کی شفاعت کسی کو بالکل فائدہ نہیں پہنچا سکتی، سو اس صورت کے کہ اللہ جس کے لیے چاہے شفاعت کی اجازت دے اور ( کی شفاعت) سے راضی ہو۔ بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کے نام عورتوں کے نام پر رکھتے ہیں۔ انہیں اس کا بالکل علم نہیں ہے وہ صرف ظن ( گمان) کی پیروی کرتے ہیں، اور بیشک ظن یقین سے مستغنی نہیں کرتا۔ سو جو ہمارے ذکر سے پیٹھ پھیرے اور صرف دنیاوی زندگی کا ارادہ کرے، آپ اس سے اعراض کریں۔ یہی ان کے علم کی انتہاء ہے، بیشک آپ کا رب اس کو خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور اس کو بھی خوب جانتا ہے جو ہدایت یافتہ ہے۔ ( النجم : ٣٠۔ ٢٦ )

کفار کے لیے فرشتوں کی شفاعت نہ کرنے کی توجیہ

النجم : ٢٦ میں اللہ سبحانہٗ نے ان کافروں اور مشرکوں کی مذمت کی ہے جو فرشتوں اور کافروں کی عبادت کرتے تھے اور اپنے زعم فاسد کے موافق یہ کہتے تھے کہ ان کی عبادت کرنے سے ان کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے کفار کا یہ قول نقل فرمایا ہے :

مَا نَعْبُدُھُمْ اِلاَّ لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَی اللہ ِ زُلْفٰی ط (الزمر : ٣) ہم ان کو صرف اسی لیے عبادت کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں۔

اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی اس قدر عبادت کرتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی بہت معظم اور مکرم مخلوق ہیں، اس کے باوجود از خود اللہ تعالیٰ کے پاس کسی کی شفاعت نہیں کرسکتے ہیں، ہاں ! جس کی شفاعت کی اللہ تعالیٰ اجازت دے اور جس کی شفاعت کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہو وہ اس کی شفاعت کریں گے اور اللہ تعالیٰ مؤمنوں کی شفاعت کرنے کی اجازت دے گا اور ان ہی کی شفاعت کرنے سے راضی ہوگا اور کفار کی شفاعت کرنے کی اللہ تعالیٰ اجازت دے گا اور نہ ان کی شفاعت کرنے سے راضی ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 26