أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا لَهُمۡ بِهٖ مِنۡ عِلۡمٍ‌ؕ اِنۡ يَّتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ‌ۚ وَاِنَّ الظَّنَّ لَا يُغۡنِىۡ مِنَ الۡحَـقِّ شَيۡئًـاۚ‏ ۞

ترجمہ:

انہیں اس کا بالکل علم نہیں ہے، وہ صرف ظن ( گمان) کی پیروی کرتے ہیں، اور بیشک ظن یقین سے مستغنی نہیں کرتا

تصدیق کی اقسام اور کفار کے باطل عقائد پر ظن کے اطلاق کی توجیہ

النجم : ٢٨ میں فرمایا : وہ صرف ظن ( گمان) کی پیروی کرتے ہیں، اور بیشک ظن یقین سے مستغنی نہیں کرتا۔

یعنی مشرکین جو کہتے ہیں کہ فرشتے مؤنث ہیں یہ صرف ان کا ظن ہے اور بیشک ظن ( حق) یقین سے مستغنی نہیں کرتا۔

اگر انسان کے ادراک میں مثلاً ثبوت کی جانب راجح اور غالب ہو لیکن عقل نفی کی جانب کو بھی مرجوحا ًاور مغلوباً جائز قرار دے تو اس کو ظن کہتے ہیں اور اگر نفی کی مغلوب جانب بھی زائل ہوجائے تو اس کو جزم کہتے ہیں۔

اس کی مثال یہ ہے کہ دس معتبر آدمی یہ کہیں کہ ابھی ابھی ٹی۔ وی پر خبر آئی ہے کہ اپوزیشن پارٹی کے لیڈر مولانا فضل الرحمان ہارٹ اٹیک سے فوت ہوگئے اور ایک آدمی یہ کہے کہ میں نے بھی ابھی خبریں سنی ہیں، اس میں ایسی کوئی خبر نہیں تھی تو ہمارا ظن غالب یہ ہوگا کہ مولانا فضل الرحمان فوت ہوگئے، لیکن ایک مرجوح اور مغلوب سا احتمال ہوگا کہ شاید اس آدمی کی خبر صحیح ہو اور ٹیوی پر یہ خبر نہ آئی ہو، سو یہ ظن ہے، پھر تھوڑی دیر بعدہم اگلے بلیٹن میں خود ٹیوی پر یہ خبر سن لیں کہ مولانا فضل الرحمن فوت ہوگئے تو وہ مرجوح جانب بھی زائل ہوجائے گی اور ہمیں مولانا فضل الرحمان کے فوت ہونے پر جزم ہوجائے گا اور یہ تصدیق کی پہلی قسم ہے، پھر اگر یہ جزم واقع کے مطابق نہ ہو اور تشکیک مشکک سے زائل ہوجائے تو اس کو تقلید مخطی کہتے ہیں، جیسے امام شافعی کے مقلد کو جزم ہے کہ خون نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا لیکن جب اس کے خلاف احادیث پیش کی جائیں کہ خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو اس کا جزم زائل ہوجائے گا اور اگر جزم واقع کے مطابق نہ ہو اور تشکیک مشکک سے بھی زائل نہ ہو تو اس کو جہل مرکب کہتے ہیں، جیسے ابو جہل کو یہ جزم تھا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برحق نبی نہیں ہیں اور اس کا یہ جزم دلائل اور معجزات سے بھی زائل نہیں ہوا، اور اگر جزم واقع کے مطابق ہو اور تشکیک مشکک سے زائل ہوجائے تو اس کو تقلید مصب کہتے ہیں، جیسے امام ابوحنیفہ کے مقلد کو یہ جزم ہے کہ خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے لیکن اگر کوئی شافعی اس کے خلاف بہ کثرت احادیث پیش کر دے کہ خون نکلنے سے وضو نہیں ٹوٹتا تو اس کا جزم زائل ہوجائے گا اور اگر جزم واقع کے مطابق ہو اور تشکیک مشکک سے زائل نہ ہو تو اس کو یقین کہتے ہیں اور پھر اس کی تین قسمیں ہیں : اگر خبر صادق سے جزم حاصل ہوا ہو تو اس کو علم الیقین کہتے ہیں اور اگر دیکھ کر مشاہدہ سے جزم حاصل ہوا تو اس کو عین الیقین کہتے ہیں اور اگر تجربہ سے جزم حاصل ہوا ہو تو اس کو حق الیقین کہتے ہیں، ہم کو جو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر جزم ہے، یہ علم الیقین ہے اور صحابہ کو جو آپ کی نبوت پر جزم تھا یہ عین الیقین تھا اور خود سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی نبوت پر جو جزم تھا وہ حق الیقین تھا، ہم نے جو تصدیق کی تعریفات بیان کی ہیں، اس کے اعتبار سے تصدیق کی حسب ِ ذیل سات اقسام ہیں :

(١) ظن (٢) تقلید مخطی (٣) جہل مرکب (٤) تقلید مصیب (٥) علم الیقین (٦) عین الیقین (٧) حق الیقین

اب سوال یہ ہے کہ آپ نے جو ظن کی تعریف کی ہے اس کے اعتبار سے اس میں جانب ثبوت پر بہ کثرت راجح دلائل ہیں اور کفار کو جو ظن تھا کہ فرشتے مؤنث ہیں اس ظن پر ایک بھی دلیل قائم نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف پر دلائل قا ئم ہیں، تو یہ ظن کیسے ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کفار کو جو اس بات کی تصدیق تھی کہ فرشتے مؤنث ہیں یہ دراصل جہل مرکب تھا کیونکہ ان کا ادراک جازم واقع کے خلاف تھا اور دلائل سے زائل نہیں ہوا اور اس پر ظن کا اطلاق مجازاً فرمایا ہے، اسی طرح قرآن مجید میں جہاں بھی کفار کے عقائد اور ان کی تصدیقات پر ظن کا اطلاق کیا گیا ہے وہ اطلاق مجازی ہے اور اس سے مراد جہل مرکب ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 28