أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَرَءَيۡتَ الَّذِىۡ تَوَلّٰىۙ‏ ۞

ترجمہ:

کیا پھر آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے پیٹھ پھیری ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا پھر آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے پیٹھ پھیری اور تھوڑا سا مال دیا، اور روک لیا کیا اس کے پاس علم غیب ہے جو وہ دیکھ رہا ہے ( النجم : ٣٥۔ ٣٣)

النجم : ٣٥۔ ٣٣ کے شان نزول کے متعلق اقوال

امام ابو اسحاق احمد بن ابراہیم الثعلبی المتوفی ٤٢٧ ھ لکھتے ہیں :

مجاہد اور ابن زید نے کہا : یہ آیت الولید بن المغیرہ کے متعلق نازل ہوئی ہے، اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین کی اتباع کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا، تو بعض مشرکوں نے اس کو عار دلایا اور ملامت کی اور کہا : کیا تم اپنے آبائو اجداد کے دین کو چھوڑ رہے ہو اور ان کو گم راہ قرار دے رہے ہو اور یہ گمان کر رہے ہو کہ وہ دوزخ میں ہوں گے، حالانکہ تم پر لازم تھا کہ تم ان کے دین کی مدد کرتے۔ ولید نے کہا : اگر میں نے اپنا ارادہ بدل دیا تو مجھے اللہ کے عذاب کا خطرہ ہے، اس شخص نے کہا : اگر تم پر عذاب ہوا تو اس کو میں برداشت کروں گا بہ شرطی کہ تم مجھے اس قدر مال دو ، ولید نے کہا : میں تم کو اتنا مال دوں گا، اس کے عوض تم میرا عذاب برداشت کرلینا، پھر ولید اپنے شرک پر برقراررہا، پھر ولید نے اس سے جتنے مال کا وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ مال اس کو دیا اور پھر بخل کیا اور باقی مال دینے سے رک گیا، تو اس کی مذمت میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔

یعنی اس نے اسلام لانے سے پیٹھ پھیری اور جتنا مال دینے کا وعدہ کیا تھا بخل کی وجہ سے وہ رک گیا اور اس نے جو سمجھا تھا کہ وہ مال دے کر عذاب سے بچ جائے گا تو کیا اسکے پاس علم غیب سے جو وہ اپنی نجات کو دیکھ رہا تھا۔

عطاء بن یسار نے کہا : یہ آیت اس شخص کے متعلق نازل ہوئی ہے جس نے اپنے گھر والوں سے کہا : میں اس شخص کے پاس جا کر اسلام لاتا ہوں جس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، جب وہ روانہ ہوا تو اسکو ایک کافر ملا اور اس نے پوچھا : کہاں جا رہے ہو ؟ اس نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس، شاید مجھے اس اقدام سے خیر ملے گی، اس کافر نے کہا : مجھے یہ سامان دے دو ، اس کے عوض اسلام نہ لانے سے تمہیں جو عذاب ہوگا اس کو میں برداشت کروں گا، وہ شخص مان گیا پھر اس نے اس کافر کو کچھ سامان دیا اور باقی سامان دینے سے بخل کیا اور رک گیا۔

محمد بن کعب القرظی نے کہا : یہ آیت ابو جہل کے متعلق نازل ہوئی ہے، اس نے کہا تھا کہ ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکارم اخلاق کا حکم دیتے ہیں، پھر اس نے آپ کے بعض اوصاف کریمہ بیان کیے، پھر بخل کی وجہ سے باقی اوصاف بیان کرنے سے رک گیا۔

سدی اور کلیب نے بیان کیا کہ یہ آیت حضرت عثمان (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے، انہوں نے اپنا مال خیرات کرنے کا ارادہ کیا پھر اپنے ماں شریک بھائی عبد اللہ بن ابی شرح کے منع کرنے سے رک گئے۔ ( ہوسکتا ہے یہ ان کے اسلام لانے سے پہلے کا واقعہ ہو) ۔ (الکشف والبیان ج ٩ ص ١٥١۔ ١٥٠، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے اس روایت کا ذکر کر کے اس کا رد کردیا ہے اور فرمایا ہے : یہ قول باطل ہے کیونکہ یہ متواتر ہے نہ مشہور ہے اور حضرت عثمان (رض) کی جو دو سخا اس کے خلاف ہے، اس روایت کا ذکر کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٢٧٢، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

میں کہتا ہوں کہ اس روایت کے باطل اور مردود ہونے کے لیے صرف یہی کافی ہے کہ اس کو سدی اور کلبی نے روایت کیا ہے اور سدی اور کلبی کذاب اور وضاع راوی ہیں نیز حضرت عثمان (رض) کی سخاوت کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت مدح کی ہے اور ان کی سخاوت کی احادیث معنی متواتر ہیں تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ان کے بخل کے متعلق قرآن مجید میں آیات نازل ہوں ؟ علاوہ ازیں حضرت عثمان (رض) سابقین اولین میں سے ہیں اور سابقین اولین کے متعلق قرآن مجید میں یہ بشارت ہے :

وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍلا رَّضِیَ اللہ ُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًاط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (التوبہ : ١٠٠)

اور مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین اور جن لوگوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسی جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 33