أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ لَمۡ يُنَبَّاۡ بِمَا فِىۡ صُحُفِ مُوۡسٰىۙ ۞

ترجمہ:

کیا اسے اس چیز کی خبر نہیں ہوئی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا اسے اس چیز کی خبر نہیں ہوئی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے۔ اور جو ابراہیم کے صحائف میں ہے جنہوں نے وفا کی۔ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور یہ کہ ہر انسان کو اسی کا عوض ملے گا جو اس نے عمل کیا۔ اور یہ کہ اس کا عمل عنقریب دیکھا جائے گا۔ پھر اس کا پورا پورا عوض دیا جائے گا۔ اور یہ کہ آخر کار آپ کے رب کے پاس ہی پہنچتا ہے۔ ( النجم : ٤٢۔ ٣٦)

مشرکین پر اللہ تعالیٰ کی حجت کی تقریر

یعنی جو شخص آپ سے روگردانی کر رہا ہے اور آپ کے پیغام پر ایمان نہ لانے کا دوسرے کافروں کو مشورہ دے رہا ہے اور یہ ضمانت دے رہا ہے کہ اگر آپ پر ایمان نہ لانے کا اس کو عذاب ہوا تو اس عذاب کو وہ بھگت لے گا، کیا اس نے سابقہ آسمانی کتابوں اور صحیفوں میں لکھی ہوئی یہ خبر نہیں پڑھی کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دو سے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور یہ کہ ہر انسان کو اسی کا عوض ملے گا جو اس نے عمل کیا اور یہ کہ اس کا عمل عنقریب دیکھ لیا جائے گا، پھر اس کو پورا پورا عوض دیا جائے گا اور یہ کہ آخر کار آپ کے رب کے پاس ہی پہنچتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 36